کراچی سب کا شہر نہیں ہے

سیاسی پارٹیوں کے مسلح ونگز نے کراچی کو جرائم کا ایسا اڈہ بنا دیا کہ روشنیوں کا یہ شہر اندھیروں میں ڈوب گیا،


Zaheer Akhter Bedari May 12, 2016
[email protected]

یہ بیسویں صدی کی چھٹی دہائی کی بات ہے، ہندوستان سے مہاجرین کی آمد کا سلسلہ جاری تھا، ہندوستان کے ان علاقوں سے مہاجرین زیادہ آ رہے تھے جہاں فرقہ وارانہ فسادات ہو رہے تھے۔ حیدرآباد دکن پر 1948ء میں بھارت نے پولیس ایکشن کے نام پر بھرپور فوجی حملہ کیا، حیدرآباد چاروں طرف سے ہند کی ریاستوں میں گھرا ایک ایسا ملک تھا جہاں لگ بھگ 88 فی صد ہندو رہتے تھے اور مسلمانوں کی تعداد 12 فی صد کے قریب تھی۔

حیدرآباد پر میر عثمان علی خان کی حکومت تھی، میر صاحب کا نظام خاندان صدیوں سے حیدرآباد پر حکومت کر رہا تھا، میر عثمان علی خان کا تعلق اگرچہ ریاست کے 12 فی صد مسلمانوں سے تھا لیکن ریاست میں امن و امان کی فضا قائم تھی، ہندو اور مسلمان محبت اور یکجہتی کے ساتھ رہتے تھے۔ ہندو اکثریت کی زبان پر کبھی یہ شکوہ نہیں رہتا کہ ریاست میں رہنے والے 88 فی صد ہندوؤں پر 12 فی صد مسلمان کیوں حکومت کر رہے ہیں۔ البتہ جب قاسم رضوی نے رضاکاروں کی غیر سرکاری فوج بنانے کا کام شروع کیا تو بعض منچلے رضاکاروں کی طرف سے ہندوؤں پر زیادتیوں کے واقعات پیش آنے لگے۔1948ء میں جب چاروں طرف سے حیدرآباد پر فوجی یلغار ہوئی تو حیدر آباد کے کانگریسی ہندو بھی انگڑائی لینے لگے۔

ہندوستانی فوج صدیوں پر مشتمل نظام خاندان کا راج ختم کرنا چاہتی تھی اور مسلمانوں کو خوف زدہ بھی کرنا چاہتی تھی، سو اس نے مسلمانوں کو خاص طور پر قاسم رضوی کے رضاکاروں کو چن چن کر قتل کرنا شروع کیا۔ صدیوں سے پر امن زندگی گزار نے والوں کے لیے یہ صورت حال بہت خوفزدہ کرنے والی تھی لیکن حقیقت یہ تھی کہ سوائے چند کانگریسیوں کے ہندوؤں کی بھاری اکثریت غیر متعصب اور مسلمانوں کے ساتھ بھائی بہنوں کی طرح رہتی تھی لیکن مستقبل سے خوفزدہ لوگوں نے پاکستان کا رخ کرنا شروع کیا اس زمانے میں پاسپورٹ یا ویزے کا مسئلہ نہیں تھا۔ سو لوگ ہزاروں کی تعداد میں براستہ ممبئی کھوکھرا پار پہنچے۔ ہمارا خاندان بھی ممبئی سے ہوتا ہوا کھوکھرا پار پہنچا اور وہاں سے براستہ میرپورخاص حیدرآباد پھر کراچی پہنچا۔

ہمارے بڑے بھائی چونکہ پہلے ہی کراچی آ گئے تھے، لٰہذا ہمیں رہائش کا کوئی مسئلہ نہ تھا پہلے پیرکالونی میں رہے پھر لانڈھی کے صنعتی علاقے میں منتقل ہو گئے۔ حیدرآباد سے آنے والوں کی بڑی تعداد لانڈھی کے صنعتی علاقے میں اس لیے فروکش تھی کہ حیدرآباد کے وزیراعظم میر لائق علی نے لانڈھی میں کئی فیکٹریاں کھول رکھی تھیں، جن میں میچ فیکٹری اور سرامک انڈسٹری سر فہرست تھیں۔

ہم بھی ماچس فیکٹری میں ملازم ہو گئے یہ 1953ء کی بات ہے، ہم معین آباد میں رہنے لگے یہ فیکٹری کی قریبی بستی تھی، ہمارے برابر عبدالرزاق میکش اور محمد زبیر کی رہائش تھی۔ ایک کمرے کی اس رہائش میں ٹریڈ یونین کے کارکن بڑی تعداد میں آتے تھے، اسی ایک کمرے کی رہائش میں حسن ناصر بھی آتے تھے چوںکہ رزاق میکش اور محمد زبیر سے ہماری دوستی ہو گئی تھی سو ہماری ملاقات حسن ناصر سے بھی ہوتی رہتی تھی، حسن ناصر کا تعلق بھی حیدرآباد دکن سے تھا اور حیدرآباد کے جاگیرداروں کا یہ بیٹا لانڈھی کے مزدوروں میں کام کرتا تھا اور ان ہی کے ساتھ رہتا تھا۔

سو ان کے نظریات سے متاثر ہونا ایک فطری بات تھی یوں ہم 1953ء ہی سے بائیں بازو کی تحریکوں سے منسلک ہو گئے۔بیسویں صدی کی چھٹی دہائی کا کراچی اس قدر پر امن تھا کہ خواتین بھی آدھی رات کو بے خوف ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں آتی جاتی رہتی تھیں، لانڈھی انڈسٹریل ایریا میں 1958ء کے بعد تیزی سے صنعتیں لگنے لگیں اور دوسرے صوبوں خاص طور سے سابقہ صوبہ سرحد سے بے روزگاروں کے قافلے کراچی آنے لگے چونکہ لانڈھی صنعتی مرکز بن گیا تھا اس لیے دوسرے صوبوں سے آنے والوں کی بڑی تعداد لانڈھی میں رہائش پذیر ہونے لگی۔

سائٹ انڈسٹریل ایریا میں بھی خیبر پختونخوا اور پنجاب کے مزدور بڑی تعداد میں رہنے لگے لیکن یہاں کبھی لسانی تعصبات نہیں تھے اس لیے کہ کراچی کی سیاست میں ترقی پسند لوگوں کا بڑا عمل دخل تھا، خاص طور پر مزدور طبقے میں ٹریڈ یونین بائیں بازو کے کنٹرول میں تھی اور مزدوروں میں طبقاتی شعور بیدار تھا وہ لسانی تعصبات سے پاک تھے اور محنت کر کے روٹی حاصل کرتے تھے۔ یہاں جرائم نام کی سرے سے کوئی چیز نہ تھی، روشنیوں کا یہ شہر جرائم سے اس قدر پاک تھا کہ رات کو لوگ اپنے گھروں کے دروازے کھلے رکھ کر سوتے تھے۔ صدر کے ہوٹل دانشوروں، ادیبوں، شاعروں کی بیٹھک بنے ہوئے تھے جہاں آدھی آدھی رات تک بحث مباحثے ہوتے تھے، ایوب خان کے برسر اقتدار آنے کے بعد اگرچہ امریکا کی ایما پر ایوب حکومت نے ترقی پسند حلقوں کا جینا حرام کر دیا لیکن کراچی کی رونقیں ماند نہیں ہوئیں۔

افغانستان کی اقتداری جنگوں اور افغانستان میں روس کی آمد کے بعد خیبر پختونخوا سے جو لوگ بڑی تعداد میں کراچی آنے لگے ان میں جرائم پیشہ گروہ بھی بڑی تعداد میں کراچی آتے گئے، پنجاب اور بلوچستان سے بھی جرائم پیشہ گروہ بڑی تعداد میں کراچی آئے اور یہ شہر اس خطے کا سب سے بڑا جرائم کا اڈہ بن گیا۔

سیاسی پارٹیوں کے مسلح ونگز نے کراچی کو جرائم کا ایسا اڈہ بنا دیا کہ روشنیوں کا یہ شہر اندھیروں میں ڈوب گیا، ہمارے حکمران جن میں نہ سیاسی بصیرت ہے نہ مستقبل بینی کی صلاحیت وہ صرف اپنے سیاسی مفادات کے لیے ''کراچی سب کا نہیں ہے'' جیسی خطرناک باتیں کرتے ہیں لیکن آہستہ آہستہ اب انھیں احساس ہونے لگا ہے کہ ''کراچی سب کا شہر ہے'' کے نعروں نے کراچی کو کس جگہ پہنچا دیا ہے آج جب کراچی ماضی کا پتا پتا کراچی خوف و دہشت کی علامت بن گیا ہے تو یقیناً ان لوگوں کو جو اقتدار میں ہیں احساس ہو رہا ہو گا کہ کراچی میں بے روزگاروں کی آمد کے ساتھ جرائم پیشہ گروہوں کی آمد کو روکنا کس قدر ضروری ہے اب کراچی سب کا شہر ہے کہنے والے کہہ رہے ہیں کراچی کو سب کا شہر نہیں بلکہ صرف امن پسند لوگوں کا شہر ہونا چاہیے اور اسی حوالے سے کراچی کے مستقبل کی منصوبہ بندی کی جانی چاہیے۔

مقبول خبریں