عدم اعتماد… علاقائی جھگڑے
دونوں ملکوں کے درمیان 69 سالوں سے سخت کشیدگی ہے، اس حوالے سے تین جنگیں بھی لڑی جاچکی ہیں۔
آج کی مذہب دنیا جنگوں، نفرتوں، تعصبات، جرائم، معاشی ناانصافیوں، سماجی عدم مساوات کا ایک ایسا مجموعہ بنی ہوئی ہے کہ اسے دیکھ کر ذہن میں فطری طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا انسان اشرف المخلوقات کہلانے کا مستحق ہے؟ ان خرابیوں کا اگرگہرائی سے جائزہ لیا جائے تو اس کے دو بنیادی عوامل سامنے آتے ہیں، ایک معاشی ناانصافیاں دوسرے انسانوں کی مختلف حوالوں سے تقسیم۔ مغرب کے ترقی یافتہ اور مستند جائزاتی اداروں کے مطابق ہر سال لاکھوں انسان بھوک سے مر جاتے ہیں لاکھوں بچے دودھ اور معتدل غذا کی کمی کی وجہ سے موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔
ہر سال لاکھوں حاملہ خواتین طبی سہولتوں کے فقدان کی وجہ سے موت کا شکار ہوجاتی ہیں۔ یہ اعداد و شمار مخفی نہیں بلکہ میڈیا میں آنے والے اعدادوشمار ہیں ان کے علاوہ پسماندہ ملکوں میں غربت کا حال یہ ہے کہ 50 فیصد سے زیادہ لوگ غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزاررہے ہیں۔کیا دنیا میں ایسے دانشور ایسے مفکر ایسے فلسفی موجود ہیں جو ان مظالم کے خلاف آواز اٹھائیں۔
1947 تک برصغیر متحد تھا اس کی ایک آرمی تھی خواہ وہ انگریزوں کے زیر نگیں سہی لیکن ایک متحدہ ملک کے تحفظ کے لیے ایک ہی فوج درکار ہوتی ہے۔ 1947 میں جب ہندوستان تقسیم ہوا تو دو ملکوں میں بدل گیا دو ملکوں کی دو فوجیں بن گئیں دو محکمہ دفاع وجود میں آئے پھر دونوں ملکوں کے درمیان ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہوئی اور یہ دوڑ بڑھتے بڑھتے ایٹمی ہتھیاروں تک آ پہنچی۔ دونوں ملک اپنے بجٹ کا ایک بڑا حصہ دفاع پر خرچ کرنے لگے۔ یوں وہ بھاری رقوم جو عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ ہونی تھی وہ دفاع پر خرچ ہونے لگی اور اس کا نتیجہ غربت میں اضافے کی شکل میں سامنے آرہا ہے۔
دونوں ملکوں کے درمیان 69 سالوں سے سخت کشیدگی ہے، اس حوالے سے تین جنگیں بھی لڑی جاچکی ہیں۔ اس کشیدگی اور جنگوں کی بنیادی وجہ مسئلہ کشمیر ہے مسئلہ کشمیر مذاہب کے حوالے سے انسانوں کی تقسیم کا مسئلہ ہے 1947 میں دو مذاہب کی وجہ ملک تقسیم ہوا دو مذاہب کی وجہ مسئلہ کشمیر وجود میں آیا اور مسئلہ کشمیر کی وجہ سے اب تک 70-80 ہزارکشمیری اپنی جانیں گنوا بیٹھے ہیں۔ اسی طرز کا دوسرا مسئلہ فلسطین کا مسئلہ ہے اس مسئلے کی بنیاد بھی مذہب ہے یہاں ہندو مسلمان کی تفریق نہیں بلکہ عربوں اور یہودیوں کی تفریق ہے۔ اس تفریق نے اس خطے کو جہنم میں بدل دیا ہے، لاکھوں فلسطینی اس تفریق کی نذر ہوچکے ہیں لاکھوں دربدر ہیں یہ سب اس لیے ہو رہا ہے کہ اقتدار ان سیاستدانوں کے ہاتھوں میں ہے جو نہ اس تفریق کی لاجک کو سمجھتے ہیں نہ کرہ ارض پر انسان کے وجود کی حقیقت سے آگاہ ہیں۔
مذہب کے بعد انسانوں کی دوسری بڑی تقسیم قوم کے حوالے سے عمل میں آئی اشرف المخلوقات نے کرہ ارض پر قوموں کے حوالے سے جغرافیائی لکیریں کھینچ کرکرہ ارض کو سیکڑوں ملکوں میں بدل دیا اور کوئی بیرونی خطرہ ہو نہ ہو ہر ملک کے دفاع کے لیے ایک بھاری فوجی مشینری کھڑی کی گئی ۔ اس پر اربوں کھربوں ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں اگر دنیا بھر میں دفاع پر جو بھاری سرمایہ خرچ کیا جا رہا ہے اگر وہ کرہ ارض پر بسنے والوں کی بہبود پر خرچ کیا جائے تو دنیا سے غربت کا نام و نشان مٹ جائے گا لیکن ایسا اس لیے ممکن نہیں کہ انسان انسان رہنے کے بجائے امریکی، روسی، چینی، جاپانی، بھارتی، پاکستانی بنا رہنا چاہتا ہے۔
اس حوالے سے ایک بنیادی فیکٹر پر توجہ دینے کی ضرورت ہے وہ ہے اسلحے کی صنعت۔ اگر قوموں کے حوالے سے ملک تقسیم نہ ہوں تو نہ دفاع کا مسئلہ درپیش رہتا ہے نہ بھاری فوج کا نہ اسلحے کی تیاری اور تجارت کا۔ اسلحے کی صنعت میں کھربوں ڈالر کا سرمایہ لگا ہوا ہے اور اربوں ڈالر کمائے جا رہے ہیں۔ اسلحے کی مانگ کے لیے قوموں کے درمیان عدم اعتماد اور کشیدگی ضروری ہے۔ یہ عدم اعتماد اور کشیدگی اسلحے کے تاجروں کے تھنکرز بڑے منظم طریقوں سے پیدا کرتے ہیں اسلحے کی صنعت کی ترقی کے لیے ملکوں کے درمیان عدم اعتماد اورعلاقائی تنازعات ضروری ہیں۔
مذہبی منافرت قومی تقسیم حب الوطنی کا فلسفہ قومی تشخص کا احترام اور مقبولیت علاقائی تنازعات پیدا کرنا یہ سب نہ اتفاقی عوامل ہیں نہ خود رو مسائل۔ ان کے پیچھے اسلحے کی صنعت کے نظریاتی ماہرین کی منصوبہ بندی ہے یہ ماہرین لاکھوں ڈالر معاوضہ لے کر اسلحے کی تیاری اور تجارت کے لیے میدان ہموار کرتے ہیں اور اہل سیاست آنکھ بند کرکے ان ماہرین کے تیار کردہ پلان کا حصہ بنتے ہیں۔ مثال کے طور پر کشمیر اور فلسطین کو لے لیں۔ اگر بڑی طاقتیں چاہیں تو یہ دونوں مسائل ہفتوں میں حل ہوسکتے ہیں لیکن ایسا اس لیے نہیں ہو رہا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کے تسلسل کے لیے عوام کی مختلف حوالوں سے تقسیم اور اسلحے کی تیاری اور تجارت کے لیے ملکوں کے درمیان تنازعات کا ہونا ضروری ہے۔
ہماری دنیا کا دوسرا بڑا مسئلہ معاشی ناانصافیوں کا نظام ہے یہ کیسا ظلم کیسا انیائے ہے کہ ہر ملک میں دولت پیدا کرنے والے طبقات دو وقت کی روٹی سے محروم ہیں اور مٹھی بھر حرام خور طبقہ عوام کی محنت سے کمائی ہوئی دولت کے 80 فیصد سے زیادہ حصے پر قابض ہے۔ دنیا میں عشروں سے بلکہ صدیوں سے اس معاشی ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائی جا رہی ہے ادب شاعری اور فن کے شعبوں میں ان ناانصافیوں کے خلاف لکھا جا رہا ہے لیکن معاشی ناانصافیوں میں کمی کے بجائے اضافہ ہی ہو رہا ہے معاشی ناانصافیاں بھی نہ کوئی اتفاقی واقعہ ہیں نہ قسمت کا لکھا ہیں بلکہ ان کے پیچھے ایک جاندار فلسفہ ایک مستحکم نظام ہے بڑے بڑے مقدس لوگ جب یہ کہتے ہیں کہ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں تو وہ دانستہ یا نادانستہ اس ظالمانہ طبقاتی نظام کی حمایت کرتی ہیں۔ اس طبقاتی نظام کے خلاف کوئی آواز اٹھتی ہے کوئی متبادل منصفانہ نظام پیش کیا جاتا ہے تو سرمایہ دارانہ نظام کی پوری پروپیگنڈا مشینری حرکت میں آجاتی ہے اور مذہب سمیت ہر قابل احترام عناصر کو نظام کے مخالفین کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔کیا عام آدمی ان اسرار سے واقف ہوگا؟