مفت اور لازمی تعلیم کا قانون
سرکاری اسکولوں میں بچے پڑھنے کم تفریح اور شرارتیں کرنے کے لیے زیادہ آتے ہیں ۔
قومی اسمبلی میں مفت اور لازمی تعلیم کا بل متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔ اس بل کے مطابق بچوں کو اسکول نہ بھیجنے والے والدین کو 25 ہزار روپے جرمانہ یا تین ماہ کی سزا دی جائے گی۔
اسکولوں کی رجسٹریشن لازمی ہوگی، جس کی خلاف ورزی کرنے والے اسکول (پرائیویٹ) مالکان کو 2 لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی جائے گی، بل میں کہا گیا ہے کہ نجی اسکول ہر جماعت میں غریب بچوں کے لیے 10 فیصد کوٹہ مختص کریں، اسکولوں میں بچوں کے میڈیکل چیک اپ کی سہولتیں بھی فراہم کی جائیں گی۔ بل میں کہا گیا ہے کہ 5 سے 16 سال تک کے بچوں کے لیے مفت تعلیم ان کا حق ہے، بل میں مفت تعلیم کی وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مفت تعلیم کا مطلب تعلیم سے متعلق اخراجات ہیں جن میں بچوں کے لیے اسٹیشنری، اسکول بیگ،اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات بھی شامل ہیں۔ یہ سہولتیں وفاق کے تحت قائم اسکولوں میں فراہم کی جائیں گی۔ کچھ اراکین اسمبلی نے کہا ہے کہ یہ سہولتیں صوبائی حکومتوں کے تحت قائم اسکولوں میں بھی فراہم کی جائیں۔
اخبارات میں بل کے حوالے سے جو خبریں شایع ہوئی ہیں ان سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ یہ سہولتیں ملک کے تمام سرکاری اسکولوں میں فراہم کی جائیں گی، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ سہولتیں صرف وفاق کے تحت قائم اسکولوں میں فراہم کی جائیں گی اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ملک میں وفاق کے تحت قائم اسکولوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ سرکاری اسکولوں کی اکثریت یا تو صوبائی حکومتوں کے ماتحت ہے یا بلدیاتی اداروں کے زیر سرپرستی کام کر رہی ہے۔ اس حقیقت کی روشنی میں مفت تعلیم کا بل پروپیگنڈہ زیادہ ہے حقیقت کم۔ اگر تعلیم کو عام کرنا ہو تو بلاتخصیص ملک کے تمام تعلیمی اداروں میں مفت اور لازمی تعلیم کا اہتمام کرنا ضروری ہے۔
اس حوالے سے دوسری تلخ حقیقت یہ ہے کہ سرکاری اسکولوں کا معیارِ تعلیم خاص طور پر پرائمری اسکولوں کا معیار تعلیم اتنا پست ہے کہ یہاں بچے پڑھنے کم تفریح اور شرارتیں کرنے کے لیے زیادہ آتے ہیں، یہی حال اساتذہ کا ہے۔ اس بدترین صورتحال کو صرف دہرے نظام تعلیم کے خاتمے کے ذریعے ہی بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ بل کی دوسری احمقانہ شق والدین کو جرمانے اور قید کی سزا ہے۔ بادی النظر میں تو یہ قانون بڑا بامعنی لگتا ہے، لیکن وہ لاکھوں ماں باپ جو اپنے گھر کا پیٹ پالنے کے لیے اپنے بچوں سے ملازمت کرواتے ہیں ان کے پاس دوسرا آپشن کیا ہوگا اور روٹی کے لیے بچوں کو ملازمت کرانے والے 25 ہزار جرمانہ کہاں سے ادا کریں گے اور جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں جیل جائیں گے تو ان کے گھر کا کیا حال ہوگا؟ ہمارا خیال ہے کہ ہمارے مقدس قانون سازوں کو قانون بنانے سے پہلے ان حقائق کا علم ہونا چاہیے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ جہل ہزاروں برائیوں کی جڑ ہے جس میں دہشت گردی بھی شامل ہے۔ آج ہمارا ملک ہی نہیں بلکہ ساری دنیا بے لگام دہشت گردی کی زد میں ہے۔ اس عفریت کو ختم کرنے کے لیے جو راستہ اپنایا جارہا ہے وہ طاقت کا راستہ ہے۔ لیکن دہشت گردی طاقت سے نہ قابو میں آرہی ہے نہ اس کے ختم ہونے کے کوئی امکانات نظر آرہے ہیں۔ امریکا اور نیٹو جیسی دنیا کی سب سے ہولناک طاقتیں دہشت گردی کے آگے بے بس نظر آرہی ہیں۔ کراچی جیسا ترقی یافتہ شہر دہشت گردوں کی جنت اس لیے بن گیا ہے کہ قبائلی سادہ لوح مذہب سے اندھی عقیدت رکھنے والے انسانوں کو یہ یقین دلاکر شہروں میں بھیجا جارہا ہے کہ پیٹ سے بارودی جیکٹ باندھ کر خودکش حملوں میں جان دینے والے سیدھے جنت میں جاتے ہیں اس قسم کا سبق دینے والوں کا ایمان ہے کہ وہ اس ملک کو اسلام کا رول ماڈل بنانا چاہتے ہیں جس میں علم انسان کا سب سے بڑا دشمن ہوگا۔
سیاسی جماعتیں، سیاست، جمہوریت، انتخابات سب کفر ہیں۔ بے گناہوں کے بے رحمانہ قتل کے ذریعے یہ انسان نما حیوان پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانا چاہتے ہیں۔کراچی، پاکستان، افغانستان ہر جگہ یہ مقدس مشن تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ پولیس، رینجرز، ایف سی، فوج سب بے بس نظر آتے ہیں۔ اس بارودی جنگ کا مقابلہ عموماً ہتھیاروں ہی سے کیا جاتا ہے ، لیکن چونکہ اس بارودی جنگ کے پیچھے سب سے بڑی طاقت جہالت ہے، اس لیے اس کا مقابلہ علم ہی سے کیا جاسکتا ہے۔
اگرچہ کہ ہمارا نصاب تعلیم بذاتِ خود بچوں میں جہل کو فروغ دینے کا سبب بن رہا ہے، لیکن بعض حلقے انفرادی، اجتماعی اور ادارتی سطح پر علم کی شمعیں روشن کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور نصابِ تعلیم کو زمانے کی ضرورتوں کے مطابق تبدیل کرنے پر بھی زور دے رہے ہیں۔ دنیا میں اور بھی بڑے مذاہب موجود ہیں اور ان مذاہب کو ماننے والے آج ترقی کی دوراہے پر کھڑے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے مذہب کو سیاست اور ریاست سے الگ رکھا ہے۔ سیاست ایک گندگی ہے اور مذہب کی تقدیس کو سیاست کی گندگی میں ملوث کیا جاتا ہے تو اس سے جو تصویر بنتی ہے وہ تصویر پاکستان کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ ہمارا حال کچھ ایسا ہوگیا ہے
نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم
نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے
ہم ہندو معاشرے کی تصویر ''بغل میں چھری منہ میں رام رام'' کی شکل میں پیش کرکے اس کے جہل اور دوغلی سیاست کو اجاگر کرتے ہیں، لیکن یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ خود ہم آج ''پیٹ پر بارودی جیکٹ منہ میں اسلام'' کی تصویر بن گئے ہیں۔ دہشت گردی پر قابو پانا اس لیے ممکن نہیں ہورہا ہے کہ دہشت گردوں کو خود عوام پناہ دے رہے ہیں، قبائلی علاقوں میں تو دہشت گرد مجاہد اور دہشت گردی فروغِ دین مانی جارہی ہے، لیکن کراچی جیسا شہر اس لیے قتل گاہ میں بدل گیا ہے کہ کراچی کے گردونواح کو جنوبی اور شمالی وزیرستان بنادیا گیا ہے۔ اس بلائے عظیم سے لڑنے کا روایتی طریقہ تو ہتھیار ہی ہے، لیکن اس بلائے جہل سے لڑنے کا اصل اور منطقی طریقہ علم اور صرف علم ہے۔ اگر یہ جنگ جیتنا ہے جو جہل کا پروڈکٹ ہے تو سب سے پہلے ہمارے نصابِ تعلیم کو تبدیل کرنا اور تاریخ کو ازسرِ نو مرتب کرکے اس سب سے مذہبی برتری مذہبی کم تری اور مذہبی نفرتوں کو فروغ دینے والے عنصر کو نکالنا پڑے گا۔جیساکہ ہم نے ابتداء میں نشان دہی کی ہے قبائلی علاقوں میں علم کو کفر سے کم نہیں سمجھا جاتا ہے۔
اس سائیکی کو بدلنے کے لیے ان علاقوں میں بھی تعلیم کو لازمی اور مذہبی نفرتوں سے پاک کرنا ہوگا۔ تعلیمِ بالغان کو بڑے پیمانے پر شروع کرنا ہوگا۔ میڈیا کے ذریعے خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے علاقائی زبانوں میں تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرنے اور دہشت گردی کے نقصانات سے عوام کو آگاہ کرنے کے پروگرام کا اہتمام کرنا ہوگا۔تاریخ میں مثبت تبدیلیوں کے حوالے سے ڈاکٹر مبارک علی کوششیں کر رہے ہیں۔ اسی طرح بامقصد علوم کی ترویج کے لیے کراچی میں ڈاکٹر سید جعفر احمد بہت منظم طریقے سے جدوجہد کر رہے ہیں۔ اب تک ان کے ادارے ''پاکستان اسٹڈی سینٹر'' نے اُردو کی چالیس کے لگ بھگ علمی سائنسی اور ادبی کتابیں شایع کی ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارا میڈیا ان مثبت کوششوں کو آگے بڑھانے کے بجائے منفی اور زنگ آلود خیالات و نظریات کے پرچار میں لگا ہوا ہے۔ ضرورت ہے کہ ڈاکٹر مبارک علی، ڈاکٹر جعفر احمد جیسے علم شناس لوگوں اور ان کی کاوشوں کو الیکٹرانک میڈیا زیادہ سے زیادہ وقت دے تاکہ جہل کے پروڈکٹ دہشت گردی کو ختم کرنے کا ایک دیر آید، لیکن درست آید راستہ ہموار ہوسکے۔ مفت اور لازمی تعلیم ملک کے تمام اسکولوں میں مہیا کیے بغیر اور دوہرا نظامِ تعلیم ختم کیے بغیر کیے جانے والے اقدامات پروپیگنڈہ کے علاوہ کچھ نہیں۔