سبزہ و گل کہاں کو جاتے ہیں

ہماری سمجھ دانی تو ویسے بھی کچھ زیادہ قابل رشک نہیں ہے لیکن جن لوگوں کی سمجھ بڑی کیپسٹی کی ہے


Saad Ulllah Jaan Baraq May 23, 2016
[email protected]

KARACHI: ہماری سمجھ دانی تو ویسے بھی کچھ زیادہ قابل رشک نہیں ہے لیکن جن لوگوں کی سمجھ بڑی کیپسٹی کی ہے ان سے بھی ہم نے پتہ کیا ہے لیکن کوئی بتا نہیں پایا کہ

سبزہ و گل کہاں پہ جاتے ہیں
ڈالر و پونڈ و روپیا کیا ہے

دیکھا جائے تو اس ملک میں اتنا روپیہ ہے کہ مت پوچھیے لیکن جتنا روپیہ ہے وہ بڑا ''فتنہ'' روپیا ہے، نوٹوں کے بنڈل ادھر ادھر ہوتے ہیں، بریف کیس ہی بریف کیس چل پھر رہے ہیں، الماریاں، تجوریاں، لاکر، سیف اور پنامے ہی پنامے ہیں لیکن تھانے جایئے تو ''کاغذ'' نہیں، پٹوار خانے جایئے تو ''کاربن'' نہیں ہے، اسپتال جایئے تو روئی نہیں ہے، کسی دفتر جایئے تو آدمی نہیں ہے، کسی مسجد میں جایئے تو خدا نہیں ہے، اگر ہوتا تو دن میں پانچ بار پیش ہونے والے درمیان میں ''یہ کرتے'' جو کر رہے ہیں۔

مطلب ہمارا یہ ہے کہ آخر اسٹیٹ بینک جو اتنے زیادہ ''سبز و گل'' پیدا کرتا ہے وہ جاتا کہاں ہے بلکہ کہیے تو پورا ملک اس شیر کی گھپاؤں سے بھرا ہوا ہے جس نے اپنی علالت کی خبر مشہور کر دی تھی حالانکہ اس کے سارے ٹیسٹ کلیئر تھے لیکن پھر بھی وہ اپنی گھپا میں پڑا رہا اور جانور اس کی عیادت کو جاتے رہے، ایک لومڑی بھی آئی تو اس نے گھپا کے باہر ہی سے بادشاہ سلامت کا مزاج پوچھا، شیر نے کہا عیادت کا شکریہ لیکن ذرا اندر تو آؤ نا ۔۔۔ لومڑی نے کہا حضور معاف فرما دیجیے کیونکہ میں نے اس گھپا کے دہانے پر جانوروں کے جانے کے نشان تو بہت دیکھے ہیں لیکن واپس آنے والوں کا ایک بھی نشان نہیں دکھائی دے رہا ہے، ہم بھی جب دیکھتے ہیں پڑھتے ہیں سنتے ہیں تو کروڑوں اربوں کو کسی گھپا میں جانے کا علم تو ہوتا ہے لیکن واپس آنے والے کا کوئی سراغ آج تک نہیں لگایا جا سکا، سبزہ و گل کی تو خیر عام سی بات ہے ایک دنیا جانتی ہے کہ سبزہ و گل جو بدنصیب بدبختوں، خدا ماروں کے خون پسینے سے اگتے اور کھلتے ہیں کہاں جاتے ہیں کیسے جاتے ہیں اور کیوں جاتے ہیں مطلب یہ کہ

پتہ پتہ بوٹا بوٹا حال ''ہمارا'' جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے

اس دن ایک گاؤں کے ''شمولیتی جلسے'' میں وزیراعلیٰ نے اس گاؤں کو پانچ کروڑ روپے ''ترقیاتی کام'' کے لیے دیے بہتر ہو گا کہ یہاں ''شمولیتی جلسوں'' اور ترقیاتی کاموں پر بھی کچھ کہا جائے لیکن کیوں کہا جائے اس سے کہا جائے اور کیا کیا کہا جائے ۔

ایسے ایسے لوگ بھی ہم نے دیکھے ہیں جو ایک ہی دن میں تین مختلف مقامات پر مختلف پارٹیوں کے مختلف ''شمولیتی'' جلسوں سے نمٹ کر آ جاتے ہیں اور ہر ایک میں اپنے ہزاروں ساتھیوں سمیت شامل ہو جاتے ہیں اور پھر آیندہ ہر روز ہر پارٹی کے ہر جلسے میں شمولیت کے لیے تیار رہتے ہیں، جہاں تک ترقیاتی کاموں کا تعلق ہے تو پہلے تو ہمیں اس لفظ یا ترکیب یا اصطلاح ''ترقیاتی کام'' پر عش عش کرنے دیجیے، ہمارے خیال میں یہ اصطلاح حضرت مولانا مدظلہ العالی کے لفظ ''تحفظات'' سے بھی بڑی ایجاد و دریافت ہے بلکہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ اردو زبان اس کی لغات اور ایجادات کی ''نرگس'' ہزاروں سال تک روئی ہو گی تب کہیں جا کر یہ ''سنجے دت'' پیدا ہوا ہو گا، ''ترقیاتی کام'' آپ کا تو پتہ نہیں لیکن ہمیں تو لفظ سن کر کچھ بلکہ کچھ کچھ ہونے لگتا ہے۔

روایت کے مطابق جس دیگ میں ان کے لیے ایک وقت کا کھانا پکتا تھا اس میں جب دو لوہار بیک وقت مرمت کا کام کرتے تھے تو دونوں کو ایک دوسرے کے ہتھوڑوں کی آواز سنائی نہیں دیتی تھی، اس ترقیاتی کام کی دیگ میں بھی نہ جانے کتنے کفگیر کتنے چمچ اور ڈوئیاں اندر باہر ہو جاتی ہیں لیکن مجال ہے جو کبھی یہ دیگ خالی ہو، تو وزیراعلیٰ نے جس گاؤں کے ترقیاتی کاموں کے لیے پانچ کروڑ کا ترقیاتی فنڈ دیا اس کے یا کسی بھی گاؤں کے ترقیاتی فنڈ اور کاموں کا اگر حساب لگایا جائے تو اب تک ترقی کر کے آسمان سے بھی تھوڑا اونچا ہونا چاہیے لیکن حیرت ہے کہ وہ اتنے کروڑ ڈکار کر بھی اب تک اسی جگہ لیٹا ہوا ہے۔ بات ہم سبزہ و گل کی کر رہے تھے غالبؔ کو تو یہ فکر تھی کہ

سبزہ و گل کہاں سے آئے ہیں
ابر کیا چیز ہے ہوا کیا ہے

لیکن ہمارے سامنے معمہ یہ ہے کہ سبزہ و گل کہاں جاتا ہے آنے کا تو ہمیں پتہ ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے آتے ہیں اور اس کے بدلے میں آیندہ آنے والی تین نسلیں گروی رکھی جا چکی ہیں، دوسرا ذریعہ سبزہ و گل کے آنے کا اس بدبخت کے خون پسینے سے بنتا ہے جو خون اور پسینہ بہا کر بھی نہ سونے کو دیکھ پاتا ہے نہ چاندی کو حالانکہ یہ اسی کے جسم سے کھود کر نکالے جاتے ہیں۔ ویسے اگر واقعی ہمیں سمجھنا ہو تو اس سلسلے میں صرف پرانی کہانیاں ہی ہماری مدد کر سکتی ہیں کیونکہ نئی کہانیاں تو پنامیاں یا دھرنے ہوتے ہیں، ایک تو چھوٹا سا لطیفہ ہمارے جیسے نادان کا ہے ۔

اس سے کسی سے سنا کہ روپیہ روپے کو کھنیچتا ہے اس سے کہیں سے ایک روپیہ حاصل کیا اور ایک دکاندار کے ''گلے'' کے اوپر ہاتھ میں پکڑ لیا اس امید میں کہ قریب ہونے پر شاید میرا روپیہ ان ڈھیر سارے روپوں میں سے کچھ کھنیچ لے، دکاندار کی نظر پڑی تو اس نے روپیہ چھین کر اپنے گلے میں ڈالا اور دھکے دے کر بھگا دیا کہ گلے سے روپیہ اٹھاتے ہو چور کہیں کے، اس نے یہ ماجرا اس شخص سے کہا تو وہ بولا میں نے ٹھیک ہی تو کہا تھا۔

اس کے روپوں نے تیرا روپیہ کھنیچ لیا اور دوسرا قصہ کوہ غیب کا ہے جس میں چالیس نوجوان رہتے تھے ایک شخص نے لالچ میں آ کر اپنے اکلوتے بیٹے کو طرح طرح کی چیزوں کے ساتھ پہاڑ کے قریب بٹھایا پہاڑی لڑکے آئے اور اس کے اکلوتے بیٹے کو سارے سامان سمیت اپنے ساتھ ہمیشہ کے لیے لے گئے تب سے اس پہاڑ کا نام کوہ غیب یا غائیوں کا پہاڑ کہلانے لگا، حال ہی میں اس کا نام تبدیل ہو کر پنامہ رکھا گیا ہے۔