آخری فتح انسان کی ہوگی
سید سبط حسن 100 برس پہلے 1916 میں پیدا ہوئے۔ یہ وہ سال تھا جب دنیا پہلی جنگ عظیم کے جہنم میں جل رہی تھی
ISLAMABAD:
سید سبط حسن 100 برس پہلے 1916 میں پیدا ہوئے۔ یہ وہ سال تھا جب دنیا پہلی جنگ عظیم کے جہنم میں جل رہی تھی۔ ہندوستان، تاج برطانیہ کی نو آبادیات میں سب سے اہم، اس کے وسائل بے اندازہ اور اس کی افرادی قوت کا بھی ٹھکانہ نہیں تھا۔ ہندوستان میں بھوک کا راج تھا، اسی لیے یہاں کے لاکھوں نوجوان چند سو روپوں کے عوض جنگ کے اس جہنم میں جھونک دیے گئے جہاں سے وہ پلٹ کر نہ آئے۔
ان کے پسماندگان کے سینے سے اٹھتا ہوا دھواں ہندوستان کے باسیوں کو رلاتا رہا اور ان کے دلوں میں نفرت کا آتش فشاں دہکتا رہا۔ ان کی پیدائش کے صرف ایک برس بعد روس سے زار شاہی رخصت ہوئی اور انقلابِ روس کا پرچم لہرایا۔ اس انقلاب نے ہندوستانی نوجوانوں پر گہرا اثر ڈالا۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ جب سبط حسن گھٹنوں چلنے کے دور سے نکلے تو دوسری جنگ عظیم سر پر تلی کھڑی تھی۔
ہندوستانیوں کو اندازہ تھا کہ اس بار بھی وہ اس جنگ کا ایندھن بنیں گے۔ اپنے جاگیردارانہ اور مذہبی پس منظر کے باوجود دوسرے بہت سے ادیب اور شاعر نوجوانوں کی طرح وہ بھی 1935 کی ترقی پسند تحریک کا حصہ بن گئے۔ تعلیم حاصل کرنے کے لیے امریکا گئے تو وہاں بھی ان کا قبلہ، انقلاب اکتوبر کی طرف راست رہا۔ اس روش کا نتیجہ امریکا میں چند دنوں کی جیل اور پھر امریکا سے دیس نکالا ہوا۔ پاکستان بن چکا تھا، وہ اپنے گھر جانا چاہتے تھے لیکن کمیونسٹ پارٹی کا حکم تھا کہ نئے ملک کا رخ کرو اور وہاں خرد افروزی اور روشن خیالی پھیلاؤ۔ وہ پاکستان آئے اور یہاں کمیونسٹ پارٹی سے ان کی وابستگی نے پاکستان میں ان کی زندگی کو مشکل سے مشکل تر بنایا۔ جیل، پریشاں حالی اور ایوب دور کی سختیوں کی بھٹی سے وہ کندن بن کر نکلے۔
انھوں نے جو کتابیں لکھیں وہ اپنے مشکل موضوعات کے باوجود ہاتھوں ہاتھ لی گئیں۔ پاکستان جہاں ادیبوں اور دانشورں کو اپنی ایک ہزار کتابوں کے فروخت نہ ہونے کی شکایت رہتی ہے، اسی ملک میں سوشلسٹ نظریات و افکار کے موضوعات پر بحث کرنے والی ان کی کتابیں مقبول عام ناولوں کی طرح ہزاروں کی تعداد میں فروخت ہوئیں اور سالہا سال بیسٹ سیلر رہیں۔ آج بھی ان کی کتابوں کے نئے ایڈیشن شایع ہوتے رہتے ہیں۔ ان کے قارئین کا سب سے بڑا حلقہ سندھ، بلوچستان اور پختونخوا تھا جہاں کے نوجوانوں کی ذہنی نشوونما پر ان کی کتابوں نے گہرے اثرات مرتب کیے اور آج بھی ان علاقوں میں وہ نظریاتی پیرو مرشد کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔
پاکستان کے موجودہ سیاسی تناظر میں ان کی تحریریں بے حد اہمیت کی حامل ہیں۔ انھوں نے بالخصوص ''تھیوکریسی'' اور ''سیکولرازم'' کے موضوعات پر 80 کی دہائی کے پہلے دو برسوں میں جو مضامین قلم بند کیے تھے وہ آج 35 برس بعد بھی بھرپور معنویت رکھتے ہیں۔ قیام پاکستان کے وقت یہی سمجھا جارہا تھا کہ اس نئے ملک میں ایک زندہ اور متحرک سماج نمو پذیر ہوسکے گا اور یہاں تدبر و تفکر کے ذریعے آگے بڑھنے کی راہیں نکلیں گی۔
یہ خیال کیا جارہا تھا کہ یہ ایک جدید اور روشن خیال سماج ہوگا جہاں لوگ آزادی اظہار اور آزادی انکار کا حق رکھیں گے، جہاں جمہوریت پروان چڑھے گی اور ہر شخص کو اس کے بنیادی انسانی حقوق ملیں گے۔ وہ لوگ جنہوں نے ان بنیادوں پر پاکستان کی حمایت کی تھی ان کے ذہن میں بانی پاکستان کے وہ بیانات اور خطبات تھے جن میں انھوں نے کہا تھا:
''ہم کس چیز کے لیے جدوجہد کررہے ہیں؟ ہمارا نصب العین کیا ہے؟ ہم تھیوکریسی کے لیے نہیں لڑرہے ہیں، نہ ہمارا نصب العین تھوکریٹک ریاست قائم کرنا ہے۔'' یہ دوٹوک بات انھوں نے 1946میں کہی تھی۔ 11 اگست 1947 کی ان کی تاریخی تقریر اسی موقف کی توثیق کرتی ہے اور پھر قیام پاکستان کے بعد فروری 1948 میں انھوں نے زور دے کر یہ کہا تھا: ''بہرصورت پاکستان تھیوکرٹیک ریاست نہیں ہونے والا ہے، جہاں ملاؤں کی حکومت ہو۔''
یہ المناک بات ہے کہ بانی پاکستان کے اس موقف اور اسے ایک جدید روشن خیال جمہوری ریاست سمجھ کر اس کی حمایت کرنے والوں کو پاکستان بننے کے ابتدائی برسوں میں شکست فاش ہوئی۔
وہ ملک جہاں ایک زندہ اور متحرک انسان دوست سماج وجود میں آنے والا تھا وہاں انتہاپسندی اور فرقہ واریت اپنے عروج کو پہنچی۔ ابتدا سے ہی جاگیرداروں، سول اور فوجی اشرافیہ کا مثلث وجود میں آیا جو آج ہمارے لیے پیر تسمہ پا بن چکا ہے۔ حکمراں جرنیل کبھی اس ملک کو اسلام کا قلعہ بنانے کی دعویداری کرتے ہوئے اپنے اقتدار کی مدت دراز کرتے ہیں، کبھی ان کے دوسرے بھائی بند اسے ایک روشن خیال اور اعتدال پسند ریاست بنانے کی نوید سناتے ہیں اور جن پر تنقید کرتے ہیں انھی کے مطالبات پر سر تسلیم خم کرتے ہیں۔
تاریخ کے وسیع تر ارتقائی تناظر میں تھیوکریسی کے حوالے سے سبط صاحب نے اب سے تیس برس پہلے لکھا تھا کہ ''یہ کوئی ابدی اور مقدس نظریہ ریاست نہیں ہے بلکہ معاشرتی ارتقاء کے ایک مخصوص عہد میں تاریخی ضرورتوں کے تحت وجود میں آئی اور جب یہ ضرورتیں باقی نہیں رہیں تو تھیوکریسی کا بھی وہی انجام ہوا جو غلامی کا ہوا تھا۔''
ہم پر ان کا احسان ہے کہ انھوں نے پاکستان میں تہذیب کا ارتقاء، ماضی کے مزار، انقلاب ایران، نوید فکر، اور موسیؑ سے مارکس تک ایسی متعدد کتابیں لکھیں۔ وہ بھی اس زمانے میں جب یہاں آمریت اور ملائیت کا نقارہ بجتا تھا۔ ان کی کتابیں ثقیل موضوعات پر تھیں لیکن وہ ہمارے بلوچی، پشتون، سندھی اور پنجابی نوجوانوں کے لیے رہنما ثابت ہوئیں۔ ہمارے یہاں لوگ یہ شکایت کرتے نہیں تھکتے کہ پاکستان میں کتابیں فروخت نہیں ہوتیں لیکن ان کی کتابوں کے پندرہ، سولہ اور سترہ ایڈیشن چھپے۔ یہ سندھی میں ترجمہ ہوکر بھی چھپیں اور ہاتھوں ہاتھ لی گئیں۔
وہ 1916 میں پیدا ہوئے تھے اور لاکھوں لوگوں کے پیرو مرشد تھے، ایسے میں یہ کیسے ممکن تھا کہ ہم 2016 کو ان کی صدی کے طور پر نہ منائیں۔ مارچ 2016 میں انجمن ترقی پسند مصنفین کی سینٹرل کمیٹی کا اجلاس ملتان میں ہوا۔ اسی اجلاس میں یہ طے ہوا کہ انجمن کے صدر سلیم راز اور سیکریٹری جنرل ڈاکٹر جعفر احمد لاہور میں سید سبط حسن کی خدمات کے بارے میں ایک عالمی کانفرنس منعقد کرنے کا اہتمام کریں گے۔ اس سلسلے میں کراچی میں سبط حسن صدی کمیٹی قائم ہوئی۔ اس کے صدر ڈاکٹر ہارون احمد ، نائب صدر ڈاکٹر طارق سہیل اور سیکریٹری ڈاکٹر جعفر احمد ہیں۔ اس کمیٹی میں ملک بھر سے نمایندے شامل ہیں۔ میرے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ میں بھی ان نمایندوں میں سے ایک ہوں۔
کراچی میں ہونے والی کانفرنس میں تہذیبی اور ثقافتی سرگرمیاں بھی شامل ہوں گی۔ ان ثقافتی سرگرمیوں کا مقصد لوگوں کو یہ بتانا ہے کہ سبط حسن زاہد خشک ہرگز نہ تھے۔ انھوں نے کیسی کیسی کہانیاں لکھیں، انھیں داستانوں میں در آنے والی پریوں اور جنوں سے ربط خاص تھا۔ وہ لوگ جو بائیں بازو کے ادیبوں کو داستانوں کا دشمن جانی کہتے تھے، ان ہی داستانوں کے بارے میں سبط صاحب لکھتے ہیں:
''شہزادے شہزادیوں کی کہانیاں، جن پریوں کی کہانیاں، جادو طلسم کی کہانیاں۔ ان کہانیوں میں شجاعت اور جواں مردی کی باتیں ہوتیں۔ بہادری اور محبت کے قصے بیان کیے جاتے۔ انسانی ہمدردی اور اخوت کے گن گائے جاتے۔ عدل اور انصاف کی طاقتوں کو سراہا جاتا۔ خیرو شر کی جنگ ہوتی۔ دیو، بھوت، بیتال اور جادوگر بڑے ظالم اور بے رحم دکھائے جاتے اور طاقت ور بھی۔ وہ شہزادیوں کو اٹھا لے جاتے اور اچھے لوگوں کو بڑی اذیتیں پہنچاتے۔ مگر آخر میں ان کو شکست ہوتی۔ خیر شر پر غالب آتا اور سب کے دن پھرتے۔ کہانی کا خاتمہ کامرانی اور شادمانی پر ہوتا۔ ''
سبط صاحب کا کہنا تھا کہ جن پریوںکی کہانیوں کے ذریعے سماجی اور اخلاقی اقدار کے اوصاف اور محاسن ذہن نشین کیے جاتے تھے۔ بچوں کو داستانوں کے پیرایے میں بچپن ہی سے یہ بتایا جاتا کہ شجاعت، خدا ترسی، مہمان نوازی، مہم جوئی، راست بازی اور حق پرستی اچھی صفتیں ہیں، اور ان اوصاف کو اپنا کر انسان سرخرو اور کامیاب ہوتا ہے۔ اس کے برعکس مردم آزاری، ظلم، تشدد، قتل و غارت گری بری باتیں ہیں۔ ان سے آدمی ذلیل اور ناکام ہوتا ہے۔ چنانچہ ان کہانیوں کی سب سے بڑی خوبی اور سب سے اہم خصوصیت یہ تھی کہ ہزاروں آفتیں جھیلنے اور لاکھوں بلاؤں میں مبتلا ہونے کے بعد آخر میں فتح انسان ہی کی ہوتی تھی۔
اسی طرح جس طرح ایک حبس زدہ سماج میں سبط حسن جیسے لکھنے والے کی فتح ہوئی۔