یو اے ای سے تنگ پاکستان نئی تدبیریں سوچنے لگا

سیریز کے لیے میزبان کو تمام معاملات سونپنے کے بجائے گراؤنڈز کرائے پرلیے جائیں گے


Saleem Khaliq May 25, 2016
طے شدہ رقم دے کر باقی تمام منافع پی سی بی کا ہوگا،تمام معاملات وہی دیکھے گا فوٹو: فائل

یو اے ای سے تنگ پاکستان نئی تدبیریں سوچنے لگا، باہمی سیریز میں بھی پی ایس ایل ماڈل اپنانے کا فیصلہ کر لیا گیا، میزبان کو تمام معاملات سونپنے کے بجائے گراؤنڈز کرائے پرلیے جائینگے۔

تفصیلات کے مطابق پی سی بی امارات کرکٹ بورڈ سے ہر سیریز کیلیے کنٹریکٹ کرتا ہے جس کے تحت اسی کو تمام انتظامات کرنا ہوتے ہیں، بعد میں نفع نقصان میں برابر کی شراکت ہوتی ہے،اس طریقہ کار سے پاکستان کو زیادہ فائدہ نہیں ہوتا، پی ایس ایل میں ایک نیا ماڈل اپنایا گیا تھا جس کے تحت دبئی اور شارجہ کے گراؤنڈز کرائے پر لے کر ایک مخصوص رقم اماراتی حکام کو دیدی گئی، ٹکٹس، رہائش، پروموشن، ہورڈنگز، سفری و دیگر تمام انتظامات لیگ منتظمین نے خود سنبھالے، اس سے خاصا فائدہ بھی ہوا۔

اب یہ تجویز سامنے آئی ہے کہ یہی ماڈل باہمی سیریز کیلیے بھی اپنایا جائے، اکتوبر میں ویسٹ انڈیز سے سیریز میں پی سی بی کو مالی فائدے کی توقع نہیں، اس لیے اخراجات کم رکھنے کیلیے سری لنکا کے آپشن پر غور جاری ہے، اس ضمن میں ایس ایل سی کو خط لکھ کر بجٹ مانگا گیا لیکن تاحال کوئی جواب نہیں ملا، اگر معاملات طے پا گئے تب بھی ایک ہی سیریز کیلیے معاہدہ ہوگا کیونکہ سری لنکا میں موسم کی مداخلت کافی رہتی ہے، اماراتی میدان پی سی بی کے پلانز میں شامل ہیں، سابقہ کنٹریکٹ کے تحت دوسری پی ایس ایل کا انعقاد بھی وہیں ہوگا۔