علیشا میرا کیا قصور تھا

ہم ایک ایسے سماج میں رہتے ہیں جو انسانوں پر رحم و کرم کی برکھا برسانے کے دعوے کرتا ہے۔


Zahida Hina May 29, 2016
[email protected]

ہم ایک ایسے سماج میں رہتے ہیں جو انسانوں پر رحم و کرم کی برکھا برسانے کے دعوے کرتا ہے۔ جس کا دعویٰ ہے کہ وہ تمام عالم انسانیت کے لیے رحمت و نعمت ہے۔ ایک طرف یہ دعوے ہیں، اور دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ انسان کا بدن اوڑھے وہ خوں آشام گروہ ہیں جو کسی کمزور کو چیر پھاڑ کر ڈال دینے سے نہیں چوکتے، اس گروہ کے لوگ کسی دوسرے قبیلے کے انسان کے بدن سے بہتا ہوا لہو دیکھتے ہیں، اس کے دوستوں اور چاہنے والوں کا واویلا انھیں سنائی نہیں دیتا۔

انسانوں کی جان بچانے پر مامور لوگ ہنستے ہیں۔ اسے مر جانے دو، یہ ہم میں سے نہیں۔ انھیں اپنی وہ قسم بھی یاد نہیں آتی جو انھوں نے طب کا پیشہ اختیار کرتے ہوئے اٹھائی تھی۔ جیتے جاگتے لہو کی نہر خشک ہو جاتی ہے اور اس کے اردگرد کھڑے ہوئے لوگوں کا نالہ آسمان کا چھونے لگتا ہے۔ لیکن آسمان کو بھی خبر نہیں ہوتی اور زمین والے بھی ہنستے ہوئے، فقرے کستے ہوئے گزر جاتے ہیں۔ بھلا ایک کھسرے کی موت پر اتنا شور مچانے کی کیا ضرورت ہے۔

علیشا کی پیدائش سوات میں ہوئی۔ گھر والے عبادت گزار تھے، خدا کو مانتے تھے، انھوں نے یہ نہ سوچا کہ اگر ان کی اولاد تیسری جنس سے تعلق رکھتی ہے تو یہ اس کی خطا نہیں۔ انھوں نے چند برس اسے برداشت کیا پھر گھر سے نکال دیا۔ در بدر ہونے والی اس بچی کو ایک کھسرے فرزانہ نے گود لے لیا اور اپنی اولاد کی طرح پالا۔ وہ باشعور اور پڑھی لکھی تھی، اپنے حقوق کو جانتی تھی۔ اپنے گروہ کے حق کے لیے لڑنا چاہتی تھی لیکن اس کی نوبت ہی نہ آئی۔ کسی نے سڑک پر ہونے والے جھگڑے سے برافروختہ ہو کر اس پر گولیاں برسا دیں۔

فرزانہ اور علیشا کی دوسری سہیلیاں یہ سن کر دوڑ پڑیں۔ وہ اسے لے کر پشاور کے سب سے بڑے اسپتال لیڈی ریڈنگ پہنچیں لیکن ان کی شکلیں دیکھ کر اسپتال والوں نے پہلے تو انھیں دھتکار دیا لیکن اس کی منہ بولی ماں، سہیلیاں اور دوست جب وہاں سے ہلنے کے لیے تیار نہ ہوئے تو ڈاکٹروں کے درمیان یہ بحث مباحثہ ہونے لگا کہ اسے زنانہ وارڈ میں رکھا جائے یا مردانہ وارڈ میں، اسے آئی سی یو میں بھی نہیں لے جایا گیا جب کہ اس کی حالت ابتر ہو رہی تھی۔ اس جھائیں جھائیں کے دوران زندگی علیشا کے بدن سے بوند بوند بہتی رہی۔

ایک بیان کے مطابق اسے وی آئی پی روم میں منتقل کیا گیا، کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ راہداری میں پردہ لگا کر اسے وہاں منتقل کیا گیا لیکن اس تگ و دو میں گھنٹوں گزر چکے تھے۔ اس کا علاج اس وقت شروع ہوا جب علیشا نے اپنی منہ بولی ماں اور دوستوں سے رخصت لی اور سوالوں کا ایک پشتارہ لے کر آسمان کا رخ کیا۔ یہ پوچھنے کے لیے کہ اگر میرا تعلق تیسری جنس سے تھا تو اس میں میرا کیا قصور تھا؟ مجھے اپنی اولاد کے رتبے سے گرانے والے، گھر سے باہر دھکیل دینے والے، نمازیں پڑھنے اور روزے رکھنے والے کیا یہ نہیں جانتے تھے کہ خدا کے حکم کے بغیر پتا نہیں ہلتا تو پھر خدا کی رضا کے بغیر میری پیدائش کیسے ممکن تھی؟

علیشا کے ماتم داروں نے اس کے قتل کی ایف آئی آر درج کرانے کے لیے اس کا جنازہ تادیر پولیس اسٹیشن کے سامنے رکھا، پھر جب اس کے قتل کا پرچا کٹا اور مبینہ قاتل مفرور ہوا تو پولیس نے حسب عادت اس کے گھر والوں کو اٹھا لیا، جس پر زمانے کے دھتکارے ہوئے ان لوگوں نے احتجاج کیا کہ یہ تو انصاف کے برخلاف ہے، انھیں چھوڑا جائے۔ سو یوں ہوا کہ جن لوگوں کے ساتھ انصاف نہیں ہوتا، ان ہی کے اصرار پر مبینہ قاتل کے گھر والے چھوڑے گئے۔

اے این پی کی قیادت کو سلام کہ میاں افتخار الدین اور چند دوسرے سیاسی کارکن علیشا کے جنازے میں آئے اور اسے رحمان بابا قبرستان میں دفن کیا گیا۔ عمران خان اور ان کی جماعت کو دھرنوں اور جلسوں، جلوسوں سے فرصت ملے تو وہ اپنے صوبے کے عوام اور بہ طور خاص اس سنگین نوعیت کے غیر آئینی اور غیر قانونی سلوک کا جائزہ لیں۔ اپنے نہایت مستعد وزیراعلیٰ سے دریافت کریں کہ ایسا کیوں ہے کہ 2015ء سے اب تک ان کے صوبے میں چند مہینوں کے اندر علیشا کی کمیونٹی کے 46 افراد قتل کیے جا چکے ہیں اور ان کے قاتلوں کے گریبان تک قانون کا ہاتھ نہیں پہنچا ہے۔ کسی کمزور اور بے بس و بے کس گروہ کو انصاف کا فراہم نہ کرنا بھی تو شاید بدعنوانی کے زمرے میں آتا ہے، یا شاید زمرے میں نہ آتا ہو۔

علیشا کے بارے میں خبریں پڑھتے ہوئے مجھے لائل پور کا ایک دوست افتخار نسیم یاد آیا۔ دو حصوں میں بٹا ہوا افتخار جسے ہم سب 'افتی' کے نام سے جانتے تھے، اس نے اپنی شخصیت کے دو لخت ہونے کے عذاب پر شاعری کی، ایسی شاعری جسے لوگ وارفتگی سے سنتے تھے۔ اس کا پہلا مجموعہ کلام 'نرمان' کے نام سے آیا اور دوسرا ' آب دوز' تھا۔ لائلپور کا یہ دولخت نوجوان امریکا چلا گیا، وہاں اس نے تعلیم حاصل کی، کاروبار کیا، دوست بنائے ، وہ اردو، پنجابی اور انگریزی میں شعر کہتا تھا، مشاعروں میں بلایا جاتا اور اکثر مشاعرے لوٹ کر لے جاتا۔ شکاگو میں رہنے والے بہت سے قدامت پسند پاکستانی اسے ناپسند کرتے تھے۔ ان ہی میں سے ایک صاحب ایک مرتبہ خنجر لہراتے ہوئے جنت کمانے پہنچ گئے تھے لیکن افسوس کہ جنت ان کے ہاتھ نہ آئی۔

آج علیشا کے بارے میں لکھتے ہوئے یہ تمام باتیں یاد آ رہی ہیں۔ میں امریکا گئی تو شکاگو میں ڈاکٹر عذرا رضا کے گھر اس سے ملاقات ہوئی اور پھر کئی ملاقاتیں ہوئیں۔ بہ ظاہر ایک کھلنڈرا اور ہنس مکھ انسان لیکن اندر سے لخت لخت۔ وہ چند دن جو میں نے شکاگو میں گزارے اس میں ڈاکٹر عذرا رضا، ڈاکٹر میمن، سی ایم نعیم اور افتی نے بہت دل داریاں کیں۔ میرے پاس نوٹ کم تھے اور بہت سی کتابیں خریدنے کی خواہش بہت زیادہ۔ افتی نے یہ معرکہ بھی سرانجام دیا اور وہ یوں کہ وہ اتوار کو پرانی کتابوں کے ٹھیوں پر مجھے لے گیا جہاں سے میں 'مالا مال' واپس آئی۔ 'یہ صندوق اٹھا کر آپ کیسے لے جائیں گی؟' عذرا نے حیرت سے پوچھا۔ 'یہ آپ مجھ پر چھوڑ دیں ڈاکٹر رضا''۔ افتی نے کہا اور پھر وہ بورا بھر کتابیں اس نے مجھے سمندری ڈاک سے بھجوا دیں، وہ ہفتوں بعد کراچی پہنچیں لیکن پہنچ گئیں۔

شکاگو میں وہ بہت خوش تھا، دوست تھے، شاعری تھی، مشاعرے تھے، ڈاکٹر عذرا رضا کی وہ 'گوئیاں' (رازدار سہیلی) تھا پھر عذرا اس عذاب میں گرفتار ہوئیں جس نے ان کی زندگی کو تلپٹ کر دیا۔ ان کے شریک حیات ڈاکٹر ہاروی جو کینسر کے درجہ اول معالج تھے، وہ خود کینسر میں گرفتار ہوئے اور آخرکار اپنی جان ہار گئے۔ افتی نے اس دوران عذرا اور ان کی بیٹی شہر زاد کی جیسی دل جوئی کی، وہ صرف قریبی دوست ہی جانتے ہیں۔ ڈاکٹر ہاروی کی رخصت کے ساتھ ہی وہ محفلیں بھی اجڑ گئیں۔

علیشا کے ماتم داروں کی تصویریں دیکھ کر افتخار نسیم کی یاد نے مجھ پر نرغہ کیا۔ شاید علیشا بھی باہر نکل جاتی تو گولیوں سے چھلنی نہ ہوتی، شاید وہ بھی شعر کہتی، افسانے لکھتی، یا قانون پڑھتی اور مظلوموں کا مقدمہ لڑتی۔ وہ چلی گئی ہے، شاید اس کی ملاقات افتی سے ہو، شاید وہ دوسرے، تیسرے یا چوتھے آسمان پر اپنے شعر سنا رہا ہو:

جلاوطن ہوں مرا گھر پکارتا ہے مجھے
اداس نام، کھلا در پکارتا ہے مجھے

......

مشعلِ امید تھامو، رہ نما جیسا بھی ہے
اب تو چلنا ہی پڑے گا راستہ جیسا بھی ہے

......

کس لیے سر کو جھکائیں اجنبی کے سامنے
اس سے ہم واقف تو ہیں اپنا خدا جیسا بھی ہے

جی چاہتا ہے افتی سے کہوں کہ تم خوش نصیب تھے تم نے جلاوطنی اختیار کی، ورنہ تم بھی علیشا کی اور دوسروں کی طرح گولیوں سے، چھروں سے یا اینٹوں سے مار دیے جاتے۔ موت تمہیں شکاگو میں آئی، عزت کی موت، دل کا دورہ پڑا اور تم ختم ہو گئے۔ تمہارے دوستوں نے تمہارا جنازہ احترام سے اٹھایا اور تمہیں ایک اجنبی خاک کے سپرد کر دیا۔ ایک ایسی اجنبی خاک جس نے تمہیں ایک آزاد شہری کے تمام حقوق دیے۔ کچھ علیشا اور دوسروں کے بارے میں سوچو کہ انھوں نے کیسے ستم سہے اور ان کے لیے تو ستم کی رات ابھی بہت لمبی ہے۔ یہ بات شاید تم ہی نے کہی تھی کہ انسان کھانے اور پانی کے بغیر دنوں زندہ رہ سکتا ہے لیکن اُمید کے بغیر دو پل جینا بھی محال ہو جاتا ہے۔ ہمارے یہاں تمہاری طرح کے دولخت انسان تو امید کے بغیر ہی جی رہے ہیں۔

مقبول خبریں