مدتوں بعد میاں صاحب سے ایک ملاقات
جو توازن اب میاں صاحب کی سیاسی گفتگو میں ہے وہی اب ان کے چہرے مہرے اور وجود میں بھی ہے۔
جدہ نہیں لاہور میں بھی ہفتے مہینے گزر گئے میاں صاحب سے پرانی ملاقات تازہ نہ ہو سکی۔
تاآنکہ برادر عطاء الحق قاسمی کو میاں صاحب اور ان کے چند شناسا اور ہمارے جیسے نیاز مند ایک ساتھ یاد آ گئے اور انھوں نے میاں نواز شریف اور ہمیں پُر تکلف چائے پر بلا لیا۔ میاں صاحب نے ڈیڑھ دو گھنٹے اپنی، اپنے سابقہ حلیفوں اور حالیہ حریفوں کے بارے میں گفتگو کی۔ یوں تو کیا ہے جو اخباروں میں نہیں چھپ جاتا لیکن میاں صاحب کی زبانی سن کر مجھے یوں لطف آیا کہ اب ان کی گفتگو میں روانی آ گئی ہے اور صرف روانی ہی نہیں باتوں کا وزن اور گہرائی بھی بہت بڑھ گئی ہے اور اس سب پر میرے لیے یہ تعجب بھی کہ میاں صاحب اب بہت اسمارٹ ہو گئے ہیں۔
لگتا ہے انھوں نے بالآخر ورزش اور خوراک میں توازن پیدا کر لیا ہے۔ جو توازن اب ان کی سیاسی گفتگو میں ہے وہی اب ان کے چہرے مہرے اور وجود میں بھی ہے۔ مجھے نہیں معلوم ان کے دورِ اقتدار کے بارے میں ان کے سیاسی دوستوں کی کیا رائے ہے لیکن مجھے اتنا یاد ہے کہ اس دور میں سکون اور امن بہت تھا۔ میاں صاحب خود بھی امن سے رہتے تھے اور دوسروں کو بھی بے امن نہیں کرتے تھے، میں آج ہی پیپلز پارٹی کے ایک بڑے لیڈر کی تقریر پڑھ رہا تھا کہ میاں نواز کی سیاست نے ایک آمر کی گود میں پرورش پائی ہے۔
الیکشن شاید آنے والا ہے اس لیے ایسے موقعوں پر مخالفوں کو زچ کرنے کی ہر کوشش کی جاتی ہے لیکن اس کوشش میں بعض اوقات ذہن اور زبان دونوں پھسل جاتے ہیں اور پیپلز پارٹی والوں کو کسی کا ڈیڈی ایوب خان ہمیشہ بھول جاتا ہے جس کی آغوش میں کسی کی سیاست نے آنکھ کھولی اور پروان چڑھی بہر کیف پرانی باتیں' ایسی بھی ہوتی ہیں کہ بہتر ہے نہ یاد دلائی جائیں اور نہ یاد کی جائیں۔ میرے ذہن پر شاید ایوب خانیوں کا آج کا نیا دور حکومت سوار تھا کہ میں نے میاں صاحب سے پوچھا کہ وہ اقتدار میں آ کر اپنے گوناگوں اور زیادہ مسائل کو کیسے حل کریں گے، اس کے جواب میں انھوں نے کسی خاص مسئلے کا ذکر کرنے کا کہا تو میں نے کرپشن کا حوالہ دے دیا جو ایک چپڑاسی سے لے کر اعلیٰ ترین منصب تک پھیل چکی ہے۔
مجھے تعجب ہوا کہ میاں صاحب نے اس مسئلے کے حل کا ایک فارمولا بنا رکھا ہے، وہ کرپشن کے راستوں کو بند کرنا چاہتے ہیں، قوانین میں ترمیم اور تنسیخ، معاشی زندگی میں مساوات اور انصاف اور اسی طرح ان تمام خرابیوں کا خاتمہ جو کرپشن کا سبب بنتی ہیں۔ انھوں نے تفصیل کے ساتھ بات کی جو یہاں پوری نقل نہیں کی جا سکتی لیکن اگر وہ یہ سب کر گزریں تو کرپشن کا یہ عالم ہر گز نہیں رہے گا جس نے ہمیں دنیا بھر میں بدنام کر رکھا ہے۔ باہر کا سرمایہ کیا آئے گا اپنا بھی باہر بھاگا جا رہا ہے۔
عطاء الحق قاسمی کی آراستہ کی گئی اس مجلس میں متعدد ایڈیٹر اور سینئر صحافی موجود تھے۔ اور ظاہر ہے کہ فضا بے تکلف اور قطعاً غیر رسمی تھی، اس لیے سب نے کھل کر بات کی اور میاں صاحب نے کھل کر جواب دیے جو پارٹیاں الیکشن میں حصہ لینا چاہتی ہیں وہ اپنے اپنے عطاء قاسمی تلاش کر کے اگر کوئی ہو تو ایسی مجلسیں منعقد کریں اور اپنے خیالات بلا تکلف اور بِلا تامّل عوام کے سامنے پیش کریں، میں یہ ان سب کے فائدے کی بات کر رہا ہوں، ویسے ووٹروں نے ان تمام امید وار، جماعتوں سے کیا سلوک کرنا ہے میرا خیال ہے انھوں نے بڑی حد تک طے کر لیا ہے لیکن وہ الیکشن کی برکات اور نعمتوں سے محروم ہونا نہیں چاہتے۔
چند دنوں سے میں ایسے کھانے دیکھ رہا ہوں جن کے مہمان کھانوں پر ایک دشمن کی طرح یلغار کرتے ہیں۔ ڈونگے الٹ پلٹ جاتے ہیں اور بلا امتیاز سب کے کپڑے بھی اس دعوت میں شریک ہو جاتے ہیں۔ یہ سب الیکشن کی سوغات ہیں۔ جن لوگوں کو الیکشن کی جلدی ہے وہ یا تو امیدواروں سے ملے ہوئے ہیں یا پھر انھیں اندازہ نہیں کہ الیکشن قریب آتے ہیں تو عوام پر عنایات کی کیا کیا برساتیں برستی ہیں، اس بار امیدواروں نے بہت مال کمایا ہے، وہ زمین بیچ کر الیکشن لڑنے والے محتاط اور کنجوس چلے گئے۔
میں کئی امیدواروں کو ذاتی طور پر جانتا ہوں جو وسیع زمینوں سے محروم ہو کر اوسط درجے کے زمیندار بن کر رہ گئے لیکن آفرین ہے ان پر کہ کامیابی پر بھی مال نہ بنایا اور نہ ہی اپنی بیچی ہوئی زمینیں واپس لیں۔ اکا دکا مثالیں ملتی ہیں بھٹو صاحب نے جو جیب سے خرچ کرنا جانتے ہی نہیں تھے ،کچھ زمینداروں کو کنگال کر دیا، ان میں سے بعض نے اقتدار کے بعد جوں توں کر کے زمینیں واپس لیں مگر کچھ دے دلا کر دھاندلی نہیں کی۔ یہ پرانے سیاستدان جو سیاست اور عزت کو ایک جیسا سمجھتے تھے اب قریب قریب ناپید ہو گئے ہیں۔ اس وقت کرپشن کی جو انتہا ہو گئی ہے اس کی ایک وجہ ایسے لوگوں کی بہت کمی بھی ہے۔
اب کئی سیاستدان یا سیاسی تاجر آتے ہی مال بنانے کے لیے ہیں، وہ مال نہیں بنائیں گے تو اور کیا کریں گے۔ کیا وہ کسی نظرئیے کے تحت قوم کی خدمت کریں گے۔ حالت تو یہ ہے کہ پورا اقتدار ایک خط کے سوال پر گزار دیا مگر ان کو ایسے معصوم سیاسی ساتھی بھی ملے جو کسی بھی جماعت کے تھے لیکن ان کے مدد گار تھے، ان کے سہارے یا ان کو اُلّو بنا کر وہ حکمرانی کرتے رہے اور کر رہے ہیں۔
بہر حال الیکشن اس سب کا علاج ہے لیکن سوال یہ ہے اور بڑا ہی بنیادی کہ نئے لوگ کون منتخب ہوتے ہیں۔ کیا فوٹو اسٹیٹ کاپی چلتی ہے یا اوریجنل۔ خدا کرے اس ملاقات کے بعد میرا اندازہ درست ہو کہ میاں صاحب بہت بدل گئے ہیں اور اس کی ایک مثال ان کا بھائی ہے جو پنجاب میں تعمیر کر رہا ہے، خدا کرے اس کا نتیجہ درست نکلے اور قوم کو کوئی مناسب اور قابل برداشت لیڈر مل جائے بشرطیکہ الیکشن ہو گئے۔