موڈیز نے بھی فرانس کوٹاپ کریڈٹ ریٹنگ ٹرپل اے سے محروم کردیا

فرانس کی ریٹنگ اب بھی اچھی ہے مگر یہ فیصلہ سابق حکومت کی چھوڑی ہوئی صورتحال کی عکاسی کرتاہے۔


AFP November 21, 2012
فرانسیسی وزیر خزانہ نے ریٹنگ ایکشن پرکہاکہ یہ سابق انتظامیہ کا قصور ہے تاہم اس اقدام سے نئی حکومت کو اعلان کردہ اصلاحات پر فوری عملدرآمد کی ترغیب ملے گی۔ فوٹو: فائل

KARACHI: بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسی موڈیز انویسٹرسروسز نے فرانس کی سرفہرست سرمایہ کاری گریڈ ٹرپل اے کریڈٹ ریٹنگ گرادی اور معاشی حالت میں بہتری نہ آنے پر درمیانی مدت میں مزید کمی کی دھمکی دی ہے تاہم فرانس نے فیصلے پر کہاکہ یہ اب بھی بہتر سرمایہ کاری مقام ہے۔

گزشتہ روز جاری بیان میں موڈیز نے فرانس کی گورنمنٹ بانڈ ریٹنگ ایک درجے کمی سے ''Aa1'' کردی اور اس کا آئوٹ لک منفی رکھاگیا ہے جس کامطلب ہے کہ ریٹنگ میں مزید کمی ہوسکتی ہے۔ یاد رہے کہ ایس اینڈ پی کے بعد موڈیز فرانس کو ٹرپل اے ریٹنگ سے محروم کرنے والی دوسری ریٹنگ فرم ہے تاہم فچ نے اب تک فرانس کو سرفہرست ٹرپل اے ریٹنگ دی ہوئی ہے۔ موڈیز کا کہنا ہے کہ متعدد ڈھانچہ جاتی مسائل نے فرانسیسی معیشت کے لیے عالمی سطح پر مسابقت مشکل بنا دی ہے، پیرس کو مستقبل میں مالیاتی مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔

ریٹنگ فرم نے نئی حکومت کے اصلاحاتی منصوبے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ فرانسیسی حکومتوں کا ان اقدامات پر عملدرآمد کے حوالے سے ریکارڈ اچھا نہیں۔ فرانسیسی وزیر خزانہ Pierre Moscovici نے ریٹنگ ایکشن پرکہاکہ یہ سابق انتظامیہ کا قصور ہے تاہم اس اقدام سے نئی حکومت کو اعلان کردہ اصلاحات پر فوری عملدرآمد کی ترغیب ملے گی، فرانس کی ریٹنگ اب بھی اچھی ہے مگر یہ فیصلہ سابق حکومت کی چھوڑی ہوئی صورتحال کی عکاسی کرتاہے۔

موڈیز کا کہنا ہے کہ اس کے فیصلے کی تین وجوہ ہیں جس میں ڈھانچہ جاتی چیلنجز کے باعث اقتصادی نمو کو لاحق خطرہ اور اس کے نتیجے میں حکومتی مالی پوزیشن کو خطرہ، مارکیٹ مارکیٹ اور سروسز سیکٹر کی غیرلچکدار صورتحال، مسابقتی حیثیت کیلیے نقصاندہ جدت کا فقدان اور برآمدی صنعتی بنیاد میں کمی شامل ہے۔ فرانسیسی حکومتی ترجمان نے موڈیز کے اقدام پر ردعمل میں کہاکہ فرانس اب بھی ٹھوس قدر کی ترجمانی کرتا ہے اور جرمنی کے بعد دوسرے نمبر پر ہے، اب بھی سرمایہ کار فرانس کو سازگار ملک سمجھتے ہیں جس کی مثال یہ ہے کہ ہم اب بھی منفی ریٹس پر مختصرمدتی قرضے لے رہے ہیں، مارکیٹس بھی متاثر نہیں ہوئیں۔