ایک بار پھر
متحدہ کے رہنما بجا طور پر شکوہ کررہے ہیں کہ ان کے کارکنوں کو قتل کرنے کا سلسلہ ختم نہیں ہونے پاتا۔
ISLAMABAD:
کراچی کے عوام پوری طرح سکھ کا سانس بھی نہیں لے پائے تھے کہ کراچی ایک بار پھر ٹارگٹ کلنگ اور بینک ڈکیتیوں وغیرہ کی زد میں آگیا ہے۔ ایک ہی دن میں 6 انسانوں کے قتل سے ماضی قریب ایک بار پھر عوام کے سامنے کھڑا نظر آرہاہے اور عوام ایک بار پھر خوف و ہراس کا شکار ہو رہے ہیں ۔ اس حوالے سے اس بات کی نشان دہی بھی ضروری ہے کہ متحدہ کے کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ اب تک ختم نہیں ہوسکا۔ 27 مئی کو جن 6 لوگوں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایاگیا ان میں دو افراد متحدہ کے تھے۔
متحدہ کے رہنما بجا طور پر شکوہ کررہے ہیں کہ ان کے کارکنوں کو قتل کرنے کا سلسلہ ختم نہیں ہونے پاتا۔ ہوسکتا ہے متحدہ میں کچھ جرائم پیشہ لوگ موجود ہوں لیکن مہذب ملکوں میں جرائم پیشہ لوگوں کو ان کے انجام تک پہنچانے کے لیے متنازعہ ہی سہی قانون اور انصاف کا نظام موجود ہے۔ قانون اورانصاف کے نظام کی موجودگی میں ٹارگٹ کلنگ اور ماورائے عدالت قتل کراچی کے عوام کے ذہنوں میں ایک سوالیہ نشان بن کر رہ گیا ہے، اس حوالے سے متحدہ کا یہ سوال بھی منطقی اور جواب طلب ہے کہ ''کیا دوسری پارٹیوں میں جرائم پیشہ اور مسلح ونگز موجود نہیں؟'' اس سوال کا جواب کوئی دے گا؟
متحدہ کے کارکنوں کا ذکر ہم نے برسبیل تذکرہ کیا ہے، اصل مسئلہ کراچی ہی میں نہیں بلکہ پختونخوا اور بلوچستان میں جاری ٹارگٹ کلنگ خودکش حملوں اور بم دھماکوں کا ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ ضرب عضب کے آغاز کے بعد دہشت گردی میں کمی آئی ہے لیکن دہشت گردی ختم نہیں ہوئی، اس حوالے سے یہ کہنا اس لیے غیر منطقی ہوگا کہ فورسز دہشت گردی ختم کرنے میں ناکام ہوگئی ہیں،کراچی سیکڑوں کلو میٹر پر پھیلا ہوا شہر ہے اور ملک ہزاروں میل پر پھیلا ہوا ہے، سیکیورٹی فورسز متحرک بھی ہیں اور قربانیاں بھی دے رہی ہیں، لیکن اگر کراچی ہی میں جاری ٹارگٹ کلنگ کے حوالے سے غور کیا جائے تو یہ نقشہ سامنے آتا ہے کہ سیکڑوں میل پر پھیلے اس شہر میں جہاں سیکڑوں بستیاں ہزاروں محلے گلیاں موجود ہوں یہ کس طرح ممکن ہے کہ پولیس یا رینجرز ہرگلی محلے کی حفاظت کرسکیں؟
دہشت گردی نہ کوئی اتفاقی سرگرمی ہے نہ اس کا ذمے دارکوئی ایک گروہ ہے بلکہ یہ بلا ایک منظم اور منصوبہ بند قتل وغارت ہے جس کا ایک مقصد عوام اور سیکیورٹی فورسز میں دہشت اور مایوسی پھیلانا ہے، دہشت گردوں کا مواصلاتی نظام اس قدر فعال ہے کہ انھیں یہ معلوم ہوجاتا ہے کس علاقے میں سیکیورٹی فورسز موجود نہیں پھر وہ تیزی کے ساتھ ان خالی علاقوں میں اپنی وحشیانہ کارووائیاں کرکے فرار ہوجاتے ہیں، جب قاتلوں کو ایک قتل پر 80 ہزار روپے اور ایک دھماکے پر ڈھائی لاکھ معاوضے کی ترغیب موجود ہو تو پیشہ ور قاتلوں کے لیے یہ پیشکش نعمت غیر مترقبہ ہی بن جاتی ہے۔ کراچی ملک کا معاشی حب ہے کراچی میں خوف و ہراس کی فضا پیدا کرنے کا مقصد ایک طرف پاکستان کی معاشی سرگرمیوں کو منجمد کرنا ہے تو دوسری طرف اس شہر میں خوف و ہراس پیدا کرکے ان کے ذہنوں میں حکومت کی ناکامی کا تاثر پیدا کرنا ہے۔
اب یہ بات ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ میں غیر ملکی ہاتھ سرگرم ہے، بھارتی خفیہ ایجنسی ''را'' کے ایجنٹ کلھبوشن نے جو انکشافات کیے ہیں ان سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ بھارت پاکستان میں امن کی فضا دیکھنا نہیں چاہتا، بلوچستان میں افغان ایجنسیوں کے جو چھ دہشت گرد پکڑے گئے ہیں ۔ ان کے انکشافات سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ایک پڑوسی مسلم ملک کس طرح پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے میں ملوث ہے۔ ایران میں پچھلے دنوں بھارت افغانستان اور ایران کے سربراہوں کی جو کانفرنس ہوئی ہے وہ اپنے اندر بہت سے مضمرات رکھتی ہے ایران کی بندر گاہ چاہ بہار کو ترقی دینے اور اس میں بھارت کی طرف سے 40 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے سے دو باتیں بہت واضح ہوکر سامنے آئی ہیں، ایک پاکستان چین کے راہداری منصوبے میں کھنڈن ڈالنا، دوسرے چاہ بہار ترقیاتی منصوبے کے تحت بھارت کے تجارتی منصوبوں کو متبادل راہداری فراہم کرتا ہے۔
ایران میں بھارت افغانستان اور ایران کے سربراہوں کی کانفرنس سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ آج کی دنیا میں ملکوں کے درمیان مذہبی رشتوں کی کوئی اہمیت نہیں بلکہ ہر ملک کی پہلی ترجیح اس کے اقتصادی مفادات ہوتے ہیں۔ پاکستان کو نام نہاد اسلامی قلعہ کہنے والوں کو ایران کی سہ فریقی کانفرنس اور اس کے مقاصد کا ادراک کرتے ہوئے اسلام کے قلعے کی غیر منطقی رٹ سے باز آجانا چاہیے۔
بد قسمتی یہ ہے کہ پاکستان میں نہ کوئی وزیر خارجہ ہے نہ خارجہ پالیسی کی کوئی حقیقت پسندانہ منصوبہ بندی ہے، جدید دنیا میں خارجہ پالیسی حساس نوعیت کی حامل ہوتی ہے اورخارجہ پالیسی کو مرتب کرنے کے لیے ایک عالمی امور کے ماہر وزیر خارجہ کی ضرورت ہوتی ہے لیکن برسر اقتدار پارٹی کا عالم یہ ہے کہ تین سال سیکوئی وزیر خارجہ ہی نہیں ہے، اس صورت حال کو دیکھ کر ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان ایک جمہوری ملک ہے؟
کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کو محض پولیس اور رینجرز کے ذریعے ہرگز روکا نہیں جاسکتا کیوں کہ پولیس اور رینجرز کی محدود تعداد کی کراچی کے تمام محلوں اور گلیوں تک رسائی ممکن نہیں، کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ گلی محلوں تک پھیلے ہوئے بلدیاتی نظام کو فعال کیا جائے اور صوبائی حکومت وڈیرہ شاہی نفسیات سے نکل کر بلدیاتی نظام کو وہ تمام اختیارات دے جو آئین اور قانون کے تحت اسے ملنے چاہئیں۔ اگر حکومت کو یہ خوف لاحق ہے کہ متحدہ ان اختیارات کا غلط استعمال کرے گی تو حکومتی بقراطوں کو یہ علم ہونا چاہیے کہ میڈیا غیر جانبدار بھی ہے، فعال بھی ہے، اگر میڈیا وزیر اعظم کے خاندان کو نہیں بخشتا تو متحدہ کی غلط رویوں کو کیسے نظر انداز کر دے گا۔ پھر متحدہ جن مشکلات سے دوچار ہے اس کا منطقی حل یہ ہے کہ بلدیاتی نظام کو اپنی ساکھ بحال کرنے کے لیے استعمال کرے۔ بلدیاتی اداروں کو فعال بنانا متحدہ کی ضرورت بھی ہے، مجبوری بھی ہے۔