ہفتہ رفتہ اوپن مارکیٹ میں روئی کے بھاؤ برقرار اسپاٹ ریٹ50روپے بڑھ گئے

ٹیکسٹائل کو زیروریٹڈ،ریفنڈزادائیگی کے اعلان پربھائومیں متوقع اضافہ صنعتی بجلی کی لوڈشیڈنگ کے اعلان سے خدشے کا شکار


Ehtisham Mufti June 06, 2016
ٹیکسٹائل کو زیروریٹڈ،ریفنڈزادائیگی کے اعلان پربھائومیں متوقع اضافہ صنعتی بجلی کی لوڈشیڈنگ کے اعلان سے خدشے کا شکار فوٹو: فائل

عالمی سطح پرمعاشی سرگرمیوں میں ٹھہرائو اور پاکستان میں وفاقی بجٹ کی آمد کے باعث گزشتہ ہفتے کے دوران پاکستان سمیت دنیا بھر میں روئی کی قیمتوں میں تیزی یا مندی کا کوئی واضح رجحان سامنے نہیں آ سکا تاہم توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ وفاقی بجٹ 2016-17 میں ٹیکسٹائل سیکٹر کو زیرو ریٹڈ انڈسٹری کرنے اور عرصہ دراز سے ایف بی آر کے پاس رکے ہوئے اربوں روپے کے فنڈز 31 اگست تک ادا کرنے کے اعلان کے باعث توقع ہے کہ رواں ہفتے کے دوران پاکستان میں روئی کی قیمتوں میں دوبارہ تیزی کا رجحان سامنے آ سکے گا تاہم رمضان المبارک کے دوران صنعتوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ میں اضافے کے اعلان کے باعث ٹیکسٹائل ملز مالکان میں تشویش کی لہر دیکھی جا رہی ہے۔

چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ امریکامیں زیادہ کپاس پیدا کرنے والے شہروں میں غیر معمولی بارشوں اور بھارت میں رواں سال کپاس کاشت کرنے کے رجحان میں ریکارڈ کمی کے باعث کاٹن ایئر 2016-17 کے دوران دنیا میں کپاس کی پیداوار پہلے تخمینوں کے مقابلے میں کافی کم ہو سکتی ہے جبکہ کھپت میں متوقع اضافے کے باعث پاکستان سمیت دنیا بھر میں کپاس کی قیمتوں میں 2016-17کے دوران تیزی کا رجحان مسلسل برقرار رہ سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران نیو یارک کاٹن ایکسچینج میں حاضر ڈلیوری روئی کے سودے 1.15 سینٹ فی پائونڈ کمی کے بعد 72.05 سینٹ فی پائونڈ، جولائی ڈلیوری روئی کے سودے 0.36 سینٹ فی پائونڈ کمی کے بعد 63.92 سینٹ فی پائونڈ تک مستحکم رہے جبکہ بھارت میں روئی کی قیمتیں ریکارڈ 1ہزار 404 روپے فی کینڈی اضافے کے ساتھ کاٹن ایئر 2015-16 کی بلند ترین سطح 37 ہزار 357 روپے فی کینڈی تک پہنچ گئے جبکہ چین میں روئی کی قیمتیں 440 یو آن فی ٹن کمی کے بعد 12 ہزار 450 یو آن فی ٹن تک گر گئیں۔

پاکستان میں اوپن مارکیٹ میں روئی کی قیمتیں 5 ہزار 800 سے 5 ہزار 900 روپے فی من تک مستحکم رہیں جبکہ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن میں روئی کے اسپاٹ ریٹ 50 روپے فی من اضافے کے ساتھ 5 ہزار 600 روپے فی من تک مستحکم رہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہفتہ 4جون کو پاکستان میں نئے کاٹن جننگ سیزن کا آغاز ہو چکا ہے اور ابتدائی طور پر سندھ کے شہروں بدین، ٹھٹھہ، ٹنڈوبھاگو اور ڈگری میں کپاس کی چنائی شروع ہونے کے باعث ضلع سانگھڑ کے شہر شہداد پور میں ایک جننگ فیکٹری آپریشنل ہو چکی ہے اور ابتدائی طور پر نئی پھٹی 3 ہزار 100 سے 3 ہزار 200 روپے فی 40 کلو گرام تک فروخت ہو رہی ہے جبکہ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ آئندہ چند روز کے دوران سندھ چند مزید شہروں اور پنجاب کے شہروں چیچہ وطنی اور بورے والا میں ایک دو جننگ فیکٹریاں آپریشنل ہو سکتی ہیں۔

احسان الحق نے بتایا کہ انٹرنیشنل کاٹن ایڈوائزری کمیٹی (آئی سی اے سی) کی جانب سے جاری ہونے والی تازہ ترین رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کاٹن ایئر 2015-16 میں دنیا بھر میں پچھلے سال کے مقابلے میں کپاس کی کھپت میں سب سے زیادہ کمی پاکستان جبکہ سب سے زیادہ اضافہ بنگلہ دیش اور ویت نام میں سامنے آیا جبکہ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ 2016-17 میں بنگلہ دیش اور ویت نام دنیا بھر میں سب سے زیادہ کپاس درآمد کرنے والے ملک بن جائیں گے۔ رپورٹ کے مطابق کاٹن ایئر 2015-16 کے دوران پاکستان میں کپاس کی کھپت ریکارڈ 12 فیصد کمی کے بعد 2.2 ملین ٹن تک گر گئی ہے جس کی بڑی وجہ زیادہ پیداواری اخراجات، توانائی کا بحران اور ناقص حکومتی پالیسیاں بیان کی گئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 2015-16 میں دنیا بھر میں کپاس کی کھپت پچھلے سال کے مقابلے میں 3 فیصد کمی کے بعد 23.6 ملین ٹن تھی جس کی بڑی وجوہات میں پولیسٹر کی مسلسل کم ہوتی ہوئی قیمتیں اور دنیا بھر میں گرتے ہوئے معاشی حالات ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 2007-08 تک چین دنیا بھر میں کاٹن کی کھپت والا سب سے بڑا ملک تھا اور اس سال کے دوران چین میں 10.90 ملین ٹن کپاس کی کھپت ہوتی تھی جبکہ 2015-16 میں یہ کم ہو کر 7.1ملین ٹن رہ گئی اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ 2016-17 میں چین میں کپاس کی کھپت 6.7 ملین ٹن رہے گی جبکہ 2016-17 میں ویت نام میں روئی کی کھپت ریکارڈ 16 فیصد اضافے کے ساتھ 1.3 ملین ٹن، بنگلہ دیش میں 10 فیصد اضافے کے ساتھ 1.2 ملین ٹن کا تخمینہ لگایا گیا ہے اور پاکستان میں 2016-17 میں روئی کی کھپت میں صرف 1 فیصد اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 2016-17 میں دنیا بھر میں کپاس کی پیداوار پچھلے سال کے مقابلے میں 6 فیصد اضافے کے ساتھ 23 ملین ٹن متوقع ہے جس میں سب سے زیادہ پیداوار بھارت میں 6.5 ملین ٹن اور چین میں 4.6 ملین ٹن کی توقعات ظاہر کی گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 2016-17 میں دنیا بھر کی کل درآمدات کا 34 فیصد صرف بنگلہ دیش اور ویت نام درآمد کریں گے جس سے ان ملکوں کی کاٹن برآمدات میں بھی خاطر خواہ اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔ یاد رہے کہ بنگلہ دیش میں کپاس کی پیداوار زیرو ہونے کے باوجود بنگلہ دیش کی کاٹن ایکسپورٹس پاکستان کے مقابلے میں کئی زیادہ ہے اور ان میں ہر سال اضافہ دیکھا جا رہا ہے جبکہ پاکستانی کاٹن ایکسپورٹس میں ہر سال کمی کا رجحان سامنے آ رہا ہے۔

مقبول خبریں