بھارت چینی کی قیمت میں استحکام کیلیے 25  فیصد ٹیکس لگانے پرغور

اس ٹیکس کے نفاذ کے باعث برآمدات میں کمی سے عالمی مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا، تجارتی حلقے


APP June 13, 2016
اس ٹیکس کے نفاذ کے باعث برآمدات میں کمی سے عالمی مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا، تجارتی حلقے: فوٹو: فائل

KARACHI: بھارتی حکام نے ملک میں قیمتوں کے استحکام کیلیے چینی کی برآمد پر25 فیصد ٹیکس عائد کرنے پر غور شروع کردیا۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارت، برازیل کے بعد چینی کا دوسرا بڑا پیداکنندہ ہے تاہم رواں سال خشک سالی اور گرم موسم کے باعث اس کی چینی کی پیداوار کم ہونے کا امکان ہے۔ اس وقت دنیا میں چینی کی قیمتیں اڑھائی سال کی بلند ترین سطح پر ہیں جس کی وجہ سے ملکی صنعتکار چینی کی برآمد پر توجہ دے رہے ہیں جسے روکنے کے لیے حکومت نے25 فیصد برآمدی ٹیکس عائد کرنے پر غور شروع کردیا ہے۔

وزیر خوراک رام ولاس پسوان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس اقدام کا مقصد چینی کی برآمد کو روکنا اور ملک میں مصنوعات کی قیمتوں میں استحکام لانا ہے۔ تجارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے اس ٹیکس کے نفاذ کے باعث برآمدات میں کمی سے عالمی مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں میں اضافہ ہوجائے گا۔

یاد رہے کہ بھارت دنیا میں دوسرے نمبر پر چینی پیدا اور برآمد کرتا ہے۔ 2015-16 کے دوران اس کی چینی کی برآمد 2.9 ملین ٹن رہی۔

مقبول خبریں