ہوئے تم دوست جس کے

پاکستان کی خارجہ پالیسی کی تاریخ ہی امریکا کی یاری سے شروع ہوتی ہے،


Zaheer Akhter Bedari June 14, 2016
[email protected]

پاکستان کی خارجہ پالیسی کی تاریخ ہی امریکا کی یاری سے شروع ہوتی ہے، لہٰذا کسی کو پاکستان کی امریکا دوستی پر اعتراض ہوسکتا ہے نہ حیرت ہوسکتی ہے، لیکن بھارت جیسے غیر جانبدار ملکوں کے 'چوہدری' نے امریکا سے یاری کے جو رشتے استوارکیے ہیں وہ دنیا کے لیے اس لیے باعث حیرت ہیں کہ بھارت ماضی میں سامراجی ملکوں کا نقاد رہا ہے اوراس کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہی غیر جانبداری رہا ہے ۔

ایسے ملک کے سربراہ جب امریکی صدرکے ساتھ کھڑے ہوکر یہ کہتے ہیں کہ وقت ضرورت دونوں ملک ایک دوسرے کے فوجی نظام کو استعمال کرسکیںگے تو بھارت اس کے وزیراعظم اور بھارت کی خارجہ پالیسی پر فاتحہ ہی پڑھی جاسکتی ہے۔

غیر جانبدار بلاک کی رسم قتل کے بعد بھارتی قیادت نے امریکا سے یاری کی جو تابعدارانہ پالیسی کا سفر شروع کیا ہے وہ فوجی معاہدوں سے گزرکر ایک دوسرے کے فوجی نظام کے استعمال تک پہنچ گیا ہے، ویسے تو امریکا سے یاری کا عارضہ بھارت کو عشروں سے لاحق ہے، لیکن مودی حکومت کے برسر اقتدارآنے کے بعد یہ عارضہ ایک تشویشناک بیماری میں بدل گیا ہے ۔ دنیا کے سب سے بڑے اور واحد چوہدری امریکا کے صدر بارک اوباما کے ساتھ کھڑے ہوکر جب وہ یہ کہتے ہیں کہ ''چین پاکستان خطے کے چوہدری بننا چاہتے ہیں'' تو ان کی پالیسی کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے۔

بھارت جنوبی ایشیا میں سب سے بڑا چوہدری بنا ہوا ہے، اس خطے کے چھوٹے ممالک پر عشروں سے اس کی چوہدراہٹ چل رہی ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ جنوبی ایشیا کے وہ ملک جو اپنی اندرونی اور خارجہ پالیسیاں بھارتی سیاسی مفادات کے پس منظر میں بناتے تھے وہ بھی اب بھارتی چوہدراہٹ کے مضر اثرات سے باہر آرہے ہیں، نیپال چاروں اطراف سے بھارتی علاقوں سے گھیرا ہوا ملک ہے۔

لیکن جب نیپال کی ترقی پسند حکومت اپنی داخلی اورخارجہ پالیسیوں کو بھارتی قید سے آزاد کرانے کے راستے پر گامزن ہوئی تو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت نے اس کا دانہ پانی بند کردیا۔ آج نیپال کے عوام بھارتی چوہدرانہ پالیسیوں کی وجہ سے سخت مشکلات کا شکار ہیں لیکن بھارتی حکومت کو نیپالی عوام کی مشکلات کا ذرہ برابر احساس نہیں اگر ان حکمرانوں کے ذہنوں پرکوئی بھوت سوار ہے تو وہ ہے ''مہا بھارت'' کا بھوت۔ بھارت کے حکمران مہا بھارت کی راہ میں چین اور پاکستان کو روڑہ سمجھتے ہیں اور اسی پس منظر میں وہ چین اور پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے رہتے ہیں۔

امریکی صدر بارک اوباما کے ساتھ کھڑے ہوکر چین اور پاکستان کے خلاف بلا جواز الزامات لگانے سے ہوسکتا ہے کہ امریکی مہربانیوں میں کچھ اضافہ ہوجائے لیکن ''باہر والا'' وزیراعظم یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ چین اور پاکستان اس کے پڑوسی ملک ہیں اور انھیں کے ساتھ اسے زندہ رہنا ہے لیکن ہزاروں میل دور کے یار غار کی محبت میں بھارتی وزیراعظم اس قدر اندھے ہوگئے ہیں کہ وہ دوستوں کو دشمن اور دشمن کو دوست سمجھ رہے ہیں۔

صدر اوباما کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں ان دونوں اکابرین نے بجا طور پر یہ کہا ہے کہ دونوں ملک داعش اور دوسری مذہبی انتہا پسند جماعتوں کے خلاف تعاون میں مزید استحکام لائیں گے لیکن ان احمقوں نے اس حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ داعش اور اس جیسی بے شمار انتہا پسند تنظیمیں بھارت اور امریکا کی پالیسیوں ہی کے نتیجے میں پیدا ہوئیں اور ان ہی کی عنایتوں کی وجہ سے پروان چڑھ رہی ہیں۔ بھارتی وزیراعظم تو خود انتہا پسند نظریات کا بندہ ہے لیکن کیا دنیا کی واحد سپر پاور کا صدر بھی مذہبی انتہا پسندی کے عوامل کو نہیں سمجھتا۔ کیا امریکا کے تھنک ٹینک اس قدر نا اہل ہیں کہ وہ مذہبی انتہا پسندی کے پس منظر میں موجود عوامل سے نابلد ہیں، مسٹر اوباما جب تک مذہبی انتہا پسندی کے عوامل کو ختم نہیں کیا جائے گا مذہبی انتہا پسندی ختم نہیں ہوسکتی خواہ تم اور بھارت لاکھ کوشش کریں۔

مسٹر نریندر مودی دنیا بڑی خوش تھی کہ ایک ڈھابے کا باہر والا بھارت جیسے دنیا کے دوسرے بڑے ملک کا وزیراعظم بنا ہے لیکن یہ باہر والا اندر اور باہر ایسی پالیسیوں پر چل رہا ہے کہ اہل دانش حیران ہیں کہ یہ شخص بھارت کو تباہی کے کس غارکی طرف لے جارہا ہے، ہم تو باہر والے ہیں ہوسکتا ہے ہماری باتوں میں جانبداری کا کوئی پہلو ہو لیکن خود اندر والے تمہاری انتہا پسندانہ پالیسیوں سے کس قدر نالاں ہے اس کا اندازہ ان تین سو سے زیادہ دانشوروں، مفکروں، اہل علم اور اہل فکر کے رد عمل سے ہوسکتا ہے جنھوں نے تمہاری انتہا پسندانہ پالیسیوں کے خلاف احتجاجاً اپنے وہ ایوارڈ واپس کردیے جو ان کی اعلیٰ خدمات کے صلے میں انھیں حاصل ہوئے تھے۔

اس حوالے سے میں تمہارے ایک اہل قلم کے کالم کے کچھ اقتباسات پیش کررہا ہوں، جو آج ہی کے کالم میں میری نظر سے گزرے ہیں۔ کلدیپ نیئر کا شمار بھارت کے غیر جانبدار اہل قلم میں ہوتا ہے انھوں نے آج اپنے کالم میں جس کا عنوان ''مودی حکومت کے دوسال'' ہے فرمایا ہے کہ مودی نے سرکاری طور پر ہندو توا پر عمل در آمد نہیں کرایا لیکن آر ایس ایس، بجرنگ دل جیسی مذہبی انتہا پسند جماعتوں کو کھلی چھوٹ دیدی ہے کہ وہ تمہاری پالیسیوں پر عمل در آمد کرتی رہیں۔ آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھگوت کو بھارت کے سرکاری ریڈیو اکاش وانی پر زہر پھیلانے کی اجازت دیدی گئی ہے۔

سرکاری اداروں سے کہہ دیا گیا ہے کہ وہ آر ایس ایس کے ہیڈ کوارٹر سے ملنے والی ہدایات پر عمل کریں۔کلدیپ جی نے اور بھی بہت کچھ کہا ہے لیکن ہمارے کالم میں اتنی جگہ نہیں کہ ان کا احاطہ کریں، ہاں ہم اتنا وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ تم بھارت کو داخلی اور خارجی طور پر ایک اندھے کنویں کی طرف لے جارہے ہو یہ کام تمہارے پیش رو بھی نہ کرسکے جو تم کررہے ہو۔

مقبول خبریں