پاکستان صحافیوں کے لیے خطرناک ملک

اس سال کے اختتام تک اور کتنے صحافی قتل ہوں گے، یہ تو قتل کی منصوبہ بندی کرنے والی طاقتیں ہی بتاسکتی ہیں۔


Dr Tauseef Ahmed Khan November 23, 2012
[email protected]

بلوچستان کے پسماندہ علاقے پنجگور میں فرائض انجام دینے والے صحافی رحمت اﷲ عابد نامعلوم حملہ آوروں کی گولیوں کا نشانہ بن گئے۔

بلوچستان میں اس سال قتل ہونے والے صحافیوں کی تعداد 6 تک پہنچ گئی۔ اس سال کے اختتام تک اور کتنے صحافی قتل ہوں گے، یہ تو قتل کی منصوبہ بندی کرنے والی طاقتیں ہی بتاسکتی ہیں۔ کراچی کے صحافی ولی خان بابر کے قتل کے تمام گواہوںکو قتل کیا جا چکا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر ماہ ایک صحافی قتل ہورہا ہے۔ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2000 سے 91 صحافی قتل ہوچکے ہیں۔ پاکستان صومالیہ اور شام کے بعد صحافیوں کے لیے خطرناک ملک بن گیا ہے۔شام اور صومالیہ میں جو صورتحال ہے وہ سب کے سامنے ہے۔وہاں صحافی متحارب گروپوں کی باہمی لڑائی میں بھی مارے جاتے ہیں۔شام میں کئی صحافی مارے گئے ہیں۔ پاکستان میں اتنی خطر ناک صورت حال تو نہیں ہے لیکن یہاں بھی صحافیوں کے لیے خطرات کم نہیں ہیں۔

پاکستان میں صوبہ خیبر پختونخوا سمیت قبائلی علاقوں اور بلوچستان میں صحافیوں کے لیے حالات زیادہ خطرناک ہیں مگر اسلام آباد اور کراچی میں فرائض انجام دینے والے بھی خطرے میں گھرے ہوئے ہیں۔ پاکستان کو ان بڑے شہروں میں بھی صحافیوں پر مختلف قسم کے دبائو موجود ہوتے ہیں۔ انھیں اطلاعات کے حق سے بھی محروم رکھا جاتا ہے۔لاہور اور کراچی جیسے بڑے شہروں میں بھی کئی صحافی مارے جا چکے ہیں۔ممکن ہے ان میں سے کچھ لوگ ذاتی تنازعوں کا شکار ہوئے ہوں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ کچھ صحافیوں کوباقاعدہ ٹارگٹ کر کے مارا گیا ہے۔یہ صورت حال انتہائی تشویشناک ہے۔ بدقسمتی سے اس جانب حکومت کی کوئی توجہ نہیں ہوتی اور وہ اسے بڑی آسانی سے نظر انداز کر دیتی ہے۔

کراچی میں گزشتہ مہینے انٹیلی جنس ایجنسی کو ملنے والی خفیہ رپورٹ میں کئی صحافیوں کی زندگی خطر ے میں ہونے اور دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ میں شامل ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اب تک جو صحافی قتل ہوئے ہیں ان کے قاتل گرفتار نہیں ہوئے۔

پاکستان میں صحافیوں کے لیے حالات ہمیشہ خطرناک رہے ہیں، خاص طور پر عوام کو صحافت کے معروضی اصولوں کے تحت اطلاعات فراہم کرنے والے صحافیوں کی زندگیاں اور روزگار ہمیشہ خطرے میں رہا ہے، مگر نائن الیون کے بعد جب امریکی اور اتحادی فوجوں نے کابل میں طالبان کی حکومت کے خلاف کارروائی کی اور مذہبی انتہاپسندوں نے اپنی جنگ کو قبائلی علاقوں'خیبر پختونخوا، بلوچستا ن اور کراچی تک منتقل کیا تو پیشہ ورانہ فرائض انجام دینے والے صحافی طرح طرح کی مشکلات کا شکار ہوئے۔ قبائلی علاقوں اور سوات میں طالبان کے خلاف فوجی آپریشن کے دوران صحافی سب سے زیادہ مشکلات میں مبتلا ہوئے۔

قبائلی علاقوں اور خیبرپختونخوا میں فرائض انجام دینے والے صحافیوں کا کہنا ہے کہ طالبان اور سیکیورٹی فورس نے صحافیوں کو معروضی رپورٹنگ سے روکنے کے لیے مختلف قسم کے ہتھکنڈے استعمال کیے، جو اس دبائو کے خلاف مزاحمت پر آمادہ ہوئے وہ یا تو قتل کردیے گئے یا انھیں اپنے علاقوں سے ہجرت کرنی پڑی۔ ان صحافیوں میں شمالی وزیرستان کے صحافی حیات اﷲ کا معاملہ خاصا مشہور ہوا۔کراچی کے کئی سینئر صحافی اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔بلوچستان کے معروف صحافی ندیم گرگناڑی کے دو بیگناہ بیٹوں سراج اور منظور کو قتل کیا گیا۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سابق سیکریٹری مظہر عباس کا کہنا ہے کہ صحافیوں کے مسلسل مطالبات کے بعد حیات اﷲ کے اغوا اور قتل کی وجوہات پر اعلیٰ سطح عدالتی تحقیقات کی گئی مگر یہ تحقیقات حکومت کی فائلوں میں دب گئی۔ شمالی اورجنوبی وزیرستان میں کئی صحافی اس پیشے سے دستبردار ہوگئے اور کچھ کو دوسرے علاقوں میں پناہ لینی پڑی ہے ۔

بلوچستان کے سیاسی کارکنوں کے اغوا، پیرا ملٹری دستوں پر حملہ، مسخ شدہ لاشوں کے ملنے، غیر مقامی افراد اور پھر ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ کے ساتھ صحافیوں پر حملوں اور ان کے قتل کا سلسلہ شروع ہوا۔ بلوچستان میں صرف بڑے شہروں میں ہی صحافیوں کو نشانہ نہیں بنایا جارہا ہے، چھوٹے چھوٹے شہروں اورگائوں میں ان کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے۔ بلوچستان کے دوسرے بڑے شہر خضدار میں پریس کلب کا سیکریٹری قتل ہوچکا ہے اورکلب کے صدر کے دو نوجوان لڑکوں کو قتل کیا جاچکا ہے، خضدار میں پریس کلب کو بند ہوئے کئی ماہ ہوچکے ہیں۔ کوئٹہ میں صحافیوں اور ایڈیٹروں کو پیرا ملٹری فورسز کی جانب سے ایک نئی پابندی کا سامنا کرنا پڑا، جب دو مقامی اخبارات کے دفاتر کو جانے والے راستوں کو پیرا ملٹری دستوں نے مہینوں گھیرے میں رکھا، اور صحافی عملے کے لیے دفاتر پہنچ کر فرائض انجام دینا مشکل ہوگیا۔ کوئٹہ میں فرائض انجام دینے والے صحافی کہتے ہیں کہ دہشت گردی کی وارداتوں میں عام آدمی کے علاوہ صحافی ہی نشانہ بنتے ہیں اور پھر جو صحافی ان دھماکوں سے بچ جاتے ہیں وہ ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہوجاتے ہیں۔

بلوچستان کے صحافی بھی انتہائی خطرات میں زندگی کے دن پورے کررہے ہیں۔ گزشتہ چند سال کے دوران دہشت گردی کا شکار ہونے والوں میں سلیم شہزاد کا نام نمایاں ہے۔ صحافیوں کے مطالبے پر حکومت نے سپریم کورٹ کے ایک جج کی قیادت میں اعلیٰ تحقیقاتی کمیشن قائم کیا، اس کمیشن میں فیڈرل شریعت کورٹ کے چیف جسٹس اور اعلیٰ پولیس افسروں کو شامل کیا گیا۔ اس کمیشن نے کئی ماہ تک تحقیقات کے بعد اپنی رپورٹ میں بہت سے حقائق افشا کردیے۔ عدالتی کمیشن کا کہنا تھا کہ ایجنسیوں کے احتسا ب کے لیے کئی طریقے وضع ہونے چاہئیں، اس رپورٹ میں منتخب اراکین کھل کر بحث و مباحثہ کریںتاکہ قانون سازی ہوسکے، یوں صحافیوں سمیت عام آدمی کے حقوق کا تحفظ ہوسکتا تھا مگر صحافیوں کے قتل کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ جاری ہے۔

پاکستان میں صحافت ایک پر خطر پیشہ بن چکا ہے۔ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ بلوچستان اور خیبر پختوانخوا میں صحافیوں کے لیے زیادہ مشکل ہے۔ خصوصاً ایسے صحافیوں جو دہشت گردوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے کوئی خبر یا رپورٹ دیتے ہیں 'انھیں بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دہشت گرد انھیں مختلف حوالے سے پیغامات بھیجتے ہیں اور انھیں خوفزدہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات حقیقت معلوم ہونے کے باوجود صحافی خبر دینے سے پرہیز کرتا ہے۔ شمالی وزیرستان اس کی ایک مثال ہے۔ وہاں سے خبر بھیجنا انتہائی مشکل کام ہے۔ بلوچستان میں صحافیوں کو قتل ہونے سے صورت حال پر بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

بعض سینئر صحافی کہتے ہیں کہ صحافیوں کو مختلف نوعیت کے پریشر گروپوں کے دبائو کا سامنا ہے۔ یہ گروہ اپنی طاقت کے ذریعے اپنی مرضی کے پیغامات ابلاغ عامہ سے پیش ہونے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں، جو صحافی ان گروپوں کی راہ میں مزاحمت کرتا ہے اس کی زندگی مشکل میں پڑجاتی ہے۔ جمہوری معاشرے کے استحکام کے لیے میڈیا کی آزادی ضروری ہے۔ صحافیوں کا تحفظ کرکے ہی اس آزادی کو تحفظ دیا جاسکتا ہے۔ایک مہذب معاشرے کے قیام کے لیے صحافیوں کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ جس معاشرے میں اہل صحافت خطرات میں گھرے ہوں گے 'وہاں انارکی جنم لے گی ۔پاکستان میں حالات خاصے خراب ہو رہے ہیں۔ قبائلی علاقوں اور بلوچستان کی صورت حال دوسرے علاقوں پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔ ان علاقوں میں سرگرم گروہ لاہور 'کراچی اور اسلام آباد کا رخ کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں مجموعی طور پر صحافیوں کے لیے فضا ساز گار نہیں رہی اور ان کے لیے خطرات بڑھ رہے ہیں۔