امریکا کا وہی پرانا وطیرہ

اس حقیقت سےانکارنہیں کیاجا سکتاکہ پاکستان نےاپنےعلاقےمیں دہشت گردوں اورانتہا پسندوں کی محفوظ پناہ گاہوں کوختم کردیا ہے


Editorial June 19, 2016
ملا فضل اللہ کے خلاف کارروائی نہ کرنے سے اس شک کو تقویت ملتی ہے کہ امریکا نے ان دہشت گردوں کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کے لیے زندہ رکھا ہوا ہے۔ فوٹو: فائل

امریکا نے پاکستان سے اپنی سرزمین پر دہشت گردوں اور انتہاپسندوں کو محفوظ پناہ گاہوں کی فراہمی بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو خطے میں دہشت گرد اور انتہاپسند گروپوں سے لاحق خطرے کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

غیرملکی میڈیا کے مطابق امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے کانگریس کو پیش کی گئی اپنی رپورٹ میں پاکستان پر زور دیا کہ وہ خطے کی سلامتی کے ماحول کو بہتر بنانے میں مدد کرنے کی کوششوں میں اپنی سرزمین پر دہشتگردوں اور انتہاپسندوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنا بند کر دے' پاکستان اور افغانستان کے درمیان داعش جیسے مشترکہ خطرے جیسے مخصوص مسائل پر درمیانی سطح کے ملٹری ٹو ملٹری ڈائیلاگ اور کبھی کبھار فوج اور حکومت کے اعلی سطح پر مذاکرات حوصلہ افزاء تھے تاہم حقانی نیٹ ورک اور طالبان پر دباؤ ڈالنے کے لیے پاکستانی کوششیں خطے میں تشدد کم کرنے میں مددکے لیے ضروری ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکا افغان امن عمل کے لیے چار فریقی گروپ کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

امریکا کا پاکستان سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ پہلی بار نہیں کیا گیا وہ اس سے پیشتر بھی متعدد بار ایسے مطالبات کا اعادہ کر چکا ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے جو بے مثال قربانیاں دی ہیں اس کا اعتراف امریکا عالمی سطح پر کئی بار کر چکا ہے لیکن اس کے اس اعتراف کا پاکستان کو کیا فائدہ ہوا وہ بظاہر نظر نہیں آ رہا کیونکہ اس کے ساتھ ہی وہ پاکستان سے ڈومور کا مطالبہ کرنا نہیں بھولتا ،اس طرح پاکستانی کی تمام قربانیاں رائیگاں جاتی معلوم ہوتی ہیں۔

آخر امریکا بار بار ایسے مطالبات کا اعادہ کیوں کرتا ہے مبصرین اس پر قیاس آرائیاں کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ امریکا ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت عالمی سطح پر پاکستان کی شناخت ایک دہشت گرد ریاست کے طور پر کروانے پر تلا ہوا ہے تاکہ اسے مسلسل دباؤ میں رکھ کر من مانی شرائط تسلیم کروائی جاسکیں،اس کی نظر پاکستان کے ایٹمی اسلحے پر ہے جسے وہ ہر ممکن طور پر ختم کرانے کے لیے کمربستہ ہے۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں کر کے عالمی سطح پر اپنا امیج بہتر سے بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہے مگر یوں لگتا ہے کہ اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ امریکا ثابت ہو رہا ہے۔ وہ ڈرون حملوں کے ذریعے کارروائیاں کر کے دنیا پر یہ ثابت کرنے کا کھیل کھیلتا ہے کہ دہشت گردوں نے پاکستان میں پناہ لے رکھی ہے جب کہ حقیقت وہ خود بھی جانتا ہے کہ یہ دہشت گرد بھیس بدل کر افغانستان کے راستے داخل ہوتے اور اپنی مذموم کارروائیوں کے ذریعے پاکستان کو نشانہ بناتے ہیں۔

امریکا نے افغانستان پر کبھی زور نہیں دیا کہ وہ دہشت گردوں کی آزادانہ آمدورفت روکنے کے لیے سرحدی حفاظتی نظام مضبوط بنائے۔ امریکا کی دوغلی پالیسیاں سب پر عیاں ہو چکی ہیں افغانستان میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں کا الزام بھی وہ پاکستان کے سر منڈھ دیتا ہے یہ جانتے ہوئے بھی کہ ریاستی سطح پر پاکستان یا اس کی کوئی ایجنسی اس میں ملوث نہیں۔ اب امریکا نے حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کا ایشو کھڑا کر رکھا ہے اور وہ اس آڑ میں پاکستان پر دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کے الزامات عائد کر رہا ہے جب کہ وہ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ پاکستان تمام دہشت گردوں کے خلاف خواہ ان کا تعلق حقانی نیٹ ورک سے ہو یا کسی اور نیٹ ورک سے بلا امتیاز کارروائیاں کر رہا ہے' پاکستان نے اپنی کارروائیوں کے ذریعے جتنا نقصان طالبان اور دیگر جنگجو گروہوں کو پہنچایا ہے امریکا اپنی تمام تر جنگی قوت کے باوجود انھیں اتنا نقصان نہیں پہنچا سکا۔

افغانستان میں امریکا اور نیٹو کی فوجیں اب بھی موجود ہیں وہ وہاں چھپے ہوئے دہشت گردوں خاص طور پر ملا فضل اللہ کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کرتیں۔ ملا فضل اللہ کے خلاف کارروائی نہ کرنے سے اس شک کو تقویت ملتی ہے کہ امریکا نے ان دہشت گردوں کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کے لیے زندہ رکھا ہوا ہے ورنہ اس کے لیے ان دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا کیا مشکل ہے۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ امریکا ایک منصوبہ بندی کے تحت پاکستان کا گھیراؤ کر رہا ہے، ایک جانب وہ بھارت کو بڑی عسکری اور معاشی قوت بننے کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کر رہا ہے تو دوسری جانب اندرون خانہ بھارت سے مل کر افغان حکومت کو پاکستان کے خلاف اکسا رہا ہے جس کی ایک واضح مثال طورخم بارڈر پر افغان فوجوں کی بلااشتعال فائرنگ ہے جس سے اس سرحدی علاقے میں کشیدگی پیدا ہو چکی ہے۔

پاکستان ان تمام سازشوں کا بخوبی ادراک کرتے ہوئے بھارت اور افغانستان کے ساتھ اپنے متنازعہ معاملات بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر مسلسل زور دے رہا ہے مگر یہ دونوں ہمسایہ ممالک مذاکرات کی میز پر آنے کے بجائے سرحدی کشیدگی میں اضافہ کر رہے ہیں۔ امریکا اگر اس خطے میں امن قائم کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے کیا مشکل ہے، کیا وہ بھارت اور افغان حکومت پر دباؤ ڈال کر انھیں مذاکرات کی میز پر نہیں لا سکتا، وہ یقیناً ایسا کرسکتا ہے لیکن یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہاں امن اس کے ایجنڈے میں شامل نہیں اور وہ یہاں ایک خاص حد تک کشیدگی قائم رکھ کر پاکستان کو دباؤ میں رکھنے کے ساتھ ساتھ اس خطے میں اپنی موجودگی کا جواز قائم رکھنا چاہتا ہے۔

جہاں تک دہشت گردی کا تعلق ہے تو اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان نے اپنے علاقے میں دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کر دیا ہے، اب یہ پناہ گاہیں افغانستان کے علاقے میں موجود ہیں۔ امریکا اگر دہشت گردی کا خاتمہ چاہتا ہے تو اسے پاکستان سے ڈومور کا مطالبہ کرنے کے بجائے خود سب سے پہلے افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنا چاہیے۔پاکستان نہیں اب امریکا ڈومور پر عمل کرے۔