گزشتہ ہفتے کے دوران پاکستان سمیت دنیا بھر میں روئی کی قیمتوں میں اضافہ

پاکستان میں اوپن مارکیٹ میں روئی کی قیمتیں 100 روپے فی من اضافے کے ساتھ 5 ہزار 900 روپے فی من تک پہنچ گئیں


Ehtisham Mufti June 20, 2016
سندھ میں 6 اور پنجاب میں 4 جننگ فیکٹریاں آپریشنل ہو چکی ہیں فوٹو: فائل

پاکستان، بھارت اورامریکا میں رواں سال کپاس کی کاشت میں غیر معمولی کمی کی اطلاعات کے باعث گزشتہ ہفتے کے دوران پاکستان سمیت دنیا بھر میں روئی کی قیمتوں میں زبردست تیزی کا رجحان سامنے آیا جس کے باعث نیویارک کاٹن ایکس چینج میں بھی مندی کا مسلسل رجحان کاروباری ہفتے کے آخری دو روز کے دوران تیزی میں تبدیل ہو گیا جبکہ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں کمی کے رجحان کے باعث رواں ہفتے کے دوران بھی نیویارک کاٹن ایکسچینج میں روئی کی قیمتوں میں تیزی کا رجحان غالب رہے گا۔

چیئر مین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ گزشتہ سال کی طرح رواں سال بھی پنجاب کے بیشتر شہروں میں کپاس کی کاشت غیر حوصلہ افزا ہے۔انہوں نے بتایا کہ رپورٹس کے مطابق 13جون تک پنجاب بھر میں کپاس کی کاشت 2.428 ملین ہیکٹر ہدف کے مقابلے میں صرف 1.860 ملین ہیکٹر رقبے پر کپاس کاشت ہو سکی تھیں جو ہدف کے مقابلے میں ریکارڈ 23.4 فیصد جبکہ پچھلے سال کے مقابلے میں 17فیصد کم ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پنجاب بھر میں کپاس کی فصل پر سفید مکھی اور سنڈیوں کے حملے اور مون سون کے دوران متوقع زیادہ بارشوں کے باعث کپاس کی فصل کو مزید نقصان پہنچے گا۔

انہوں نے بتایا کہ سندھ میں بھی کپاس کی کاشت ہدف کے مقابلے میں 9 فیصد اور پچھلے سال کے مقابلے میں 4.51 فیصد کم کاشت ہوئی ہے جبکہ بھارت میں بھی کپاس کی کاشت پچھلے 7 سال کی کم ترین سطح 11 ملین ہیکٹر پر کاشت ہونے کی اطلاعات ہیں جس سے دنیا بھر میں کاٹن ایئر 2016-17 کے دوران کپاس کی پیداوار توقعات سے کافی کم ہو سکتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ چین میں روئی کے ذخائر توقعات کے برعکس بہترین قیمتوں پر فروخت ہو رہے ہیں اور یہ خیال بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مستقبل قریب میں چین روئی کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کر سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران نیویارک کاٹن ایکسچینج میں حاضر ڈلیوری روئی کے سودے 1.30 سینٹ فی پاؤنڈ کمی کے بعد 72.75 سینٹ فی پاؤنڈ، جولائی ڈلیوری روئی کے سودے معمولی تبدیلی کے ساتھ 64.57 سینٹ فی پاؤنڈ تک مستحکم رہے جبکہ بھارت میں روئی کی قیمتیں ریکارڈ 1ہزار 379 روپے فی کینڈی اضافے کے ساتھ 40 ہزار 240 روپے فی کینڈی تک پہنچ گئیں جبکہ چین میں بھی گزشتے ہفتے کے دوران روئی کی قیمتیں 395 یو آن فی ٹن اضافے کے ساتھ 13 ہزار 137 یو آن فی ٹن تک پہنچ گئیں۔

پاکستان میں اوپن مارکیٹ میں روئی کی قیمتیں 100 روپے فی من اضافے کے ساتھ 5 ہزار 900 روپے فی من تک پہنچ گئیں جبکہ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن میں روئی کے اسپاٹ ریٹ بغیر کسی تبدیلی کے 5 ہزار 500 روپے فی من تک مستحکم رہے۔ احسان الحق نے بتایا کہ حیران کن طور پر بھارتی ٹیکسٹائل ملز مالکان پاکستان سے نئی فصل کی روئی کی خرید نے میں غیر معمولی دلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں اور اطلاعات کے مطابق ابتدائی طور پر سندھ کی بعض جننگ فیکٹریوں نے بھارت سے 70 سے 72 سینٹ فی پاؤنڈ روئی کی فروخت کے کچھ معاہدے سائن کیے ہیں اور توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ بھارت میں روئی کی نئی فصل آنے تک پاکستان سے بڑے پیمانے پر بھارت کو روئی برآمد کی جا سکے گی۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت سندھ میں 6 اور پنجاب میں 4 جننگ فیکٹریاں آپریشنل ہو چکی ہیں اور ملک بھر میں تقریباً 1ہزار 200 سے 1ہزار 500 روئی کی بیلز کے برابر پھٹی کی آمد بھی شروع ہو گئی ہے اور سندھ میں پھٹی کی آمد میں بتدریج اضافہ دیکھا جا رہا ہے ۔

انہوں نے بتایا کہ اپٹما نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت سے واہگہ کے راستے سے درآمد ہونے والی روئی کی سالانہ حد 5 لاکھ سے بڑھا کر 10 لاکھ بیلز کرنے کے ساتھ ساتھ بھارت سے روئی کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی بھی عائد نہ کی جائے تاکہ پاکستان سے کاٹن ایکسپورٹس متاثر نہ ہو سکیں جبکہ کاشتکار تنظیموں نے حکومت پاکستان سے اپیل کی ہے کہ بھارت سے روئی کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی کا نفاذ کیا جائے تاکہ پاکستان میں پھٹی کی قیمتیں مستحکم رہنے سے کسانوں کی فی ایکڑ آمدنی میں کمی واقع نہ ہو سکے۔ انہوں نے بتایا کہ اطلاعات کے مطابق بعض ٹیکسٹائل ملز پچھلے کافی عرصے سے روئی خریداری کے عوض سندھ اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے کئی کاٹن جنرز کے کروڑوں روپے دبائے بیٹھی ہیں اور کاٹن جنرز کے زبردست احتجاج کے باوجود مذکورہ ٹیکسٹائل ملز ان کاٹن جنرز کو ادائیگیاں نہیں کر رہیں جس سے بعض کاٹن جنرز کے دیوالیہ ہونے کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

مقبول خبریں