کیا چیئرمین واپس آئیں گے

اب ایسا لگتا ہے کہ شہریارخان کا بورڈ سے جانے کا دل نہیں چاہ رہا


سلیم خالق June 20, 2016
ایک بات واضح ہے کہ شہریارخان کیلیے آرام کرنا ہی مناسب ہوگا فوٹو: فائل

'' سنا ہے آپ انگلینڈ میں چھٹیاں گذارنے کے بعد بورڈ میں واپس نہیں آئیں گے''

کچھ عرصے قبل کی بات ہے جب میں نے چیئرمین شہریارخان سے یہ بات پوچھی تو انھوں نے اپنے مخصوص انداز میں جواب دیا '' سلیم صرف آپ کو بتا رہا ہوں ابھی میں نے ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا دیکھیں واپسی کے بعد کیا ہوتا ہے''

یہ اور بات ہے کہ یہی سب کچھ انھوں نے اور کئی لوگوں سے بھی کہا تھا، خیر اب وہ سالانہ تعطیلات پر لندن جارہے ہیں تو اس حوالے سے چہ مگوئیوں کا سلسلہ بھی بڑھ گیا، شہریارخان کا خود یہ کہنا تھا کہ وہ بادل نخواستہ بورڈ میں آئے ، ابتدائی طور پر ایک سال کیلیے عہدہ قبول کیا مگر پھر 2 برس کام کرنے پر آمادہ ہو گئے، یہ دورانیہ اب مکمل ہو رہا ہے، شہریارخان اور نجم سیٹھی دونوں ہی بورڈ کے سرپرست اعلیٰ وزیر اعظم نواز شریف کے قریب ہیں، کہنے والے کہتے ہیں کہ عدالتی کارروائیوں سے بورڈ کو نکالنے کیلیے جب شہریار خان آئے تو ایک خاموش معاہدہ ہوا کہ 2 سال وہ اور تیسرے سال نجم سیٹھی چیئرمین بنیں گے، مگر اقتدار ایسی چیز نہیں جسے آسانی سے چھوڑ دیا جائے۔

اب ایسا لگتا ہے کہ شہریارخان کا بورڈ سے جانے کا دل نہیں چاہ رہا، شاید انگلینڈ کے ٹھنڈے موسم میں وہ ٹھنڈے دل سے سوچیں تو چلیں جائیں ورنہ معاملہ گمبھیر ہونے سے بچانے کیلیے کسی اعلیٰ شخصیت کو ہی کال کرنا پڑے گی، البتہ صورتحال میں ایک دلچسپ موڑ ظہیرعباس کی انٹری سے آیا ہے، نجم سیٹھی نے اپنی جگہ انھیں آئی سی سی کا صدر بنایا مگر اب ان کے عہدے کی معیاد ختم ہو رہی ہے، اس دوران سابق اسٹار نے بڑی خوبصورتی سے اپنے کارڈز استعمال کیے اور اب پنجاب حکومت میں ان کے چاہنے والوں کی تعداد خاصی بڑھ چکی ہے، سنا ہے چیئرمین کے بڑے کمرے پرظہیرعباس کی بھی نظر ہے،البتہ نجم سیٹھی ہی فیورٹ نظر آتے ہیں، پی ایس ایل کے کامیاب انعقاد کا کریڈٹ تو ان کو جاتا ہی ہے۔

یہ اور بات ہے کہ ایونٹ سے جڑے مسائل ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے، ان دنوں ایک فرنچائز سے بینک گارنٹی کے معاملے پر تنازع چل رہا ہے، دیکھتے ہیں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے، ویسے بورڈ کی سربراہی کے حوالے سے ایک بات واضح ہے کہ شہریارخان کیلیے آرام کرنا ہی مناسب ہوگا، بھارت کے پاس اگر اپنی تاریخ کا سب سے کم عمر کرکٹ بورڈ چیف موجود ہے تو غالباً ہمارے چیئرمین سب سے عمر رسیدہ ہیں، اب ان کی یادداشت بھی ساتھ نہیں دیتی جبکہ دباؤ برداشت کرنا بھی آسان نہیں رہا، ان کو کوئی فیصلہ کر ہی لینا چاہیے، ویسے بھی عمر رسیدہ ملازمین کی پی سی بی میں بھرمار ہے،65 سال سے زائد العمر افراد کو فارغ کرنے کے فیصلے پر تاحال عمل درآمد نہیں ہو سکا، گذشتہ دنوں گورننگ بورڈ میٹنگ میں بھی اس حوالے سے بات ہوئی مگر سفارشوں کی بھرمار کے سبب نتیجہ معاہدوں میں تین ماہ توسیع کی صورت میں ہی سامنے آیا ۔

انتخاب عالم، اظہر زیدی اور بعض دیگر افراد کو اس کا فائدہ ہوا، اسی طرح ڈگریوں کے معاملے کو بھی آگے بڑھا دیا گیا، ایسے آفیشلز کو جتنا وقت مل رہا ہے اس میں تو وہ ویسے ہی گریجویشن کر لیں گے، اگر اس حوالے سے مشہور ایک ادارہ بند نہ ہوتا تو شاید اتنی تاخیر ہوتی ہی نہ، گورننگ بورڈ والے بیچارے تائید کرنے کے سوا کچھ کرتے ہی نہیں ہیں، ایک ممبر نے گذشتہ دنوں شورمچا دیا انگلینڈ جانا ہے ، ایسے میں بورڈ نے ان سے کہا کہ ہم ٹکٹ دے دیں گے باقی آپ خود کر لینا، وہ اسی میں خوش ہو گئے،2 ارکان کے بعض قریبی رشتہ دار کرکٹ کھیل رہے ہیں وہ کسی کی مخالفت مول نہیں لے سکتے، بیشتر ممبران مصلحتوں کا شکار ہیں شاید اسی وجہ سے گورننگ بورڈ ربڑ اسٹیمپ بن چکا، ورنہ اتنا عرصہ ہو گیا کسی نے یہ کیوں نہ پوچھا کہ بھائی ذاکرخان تو اب بطور ڈائریکٹر بورڈ میں نہیں ہیں انھیں کس کھاتے میں سابقہ تنخواہ اور مراعات دی جا رہی ہیں، اسی طرح غیرفعال جی ایم میڈیا آغا اکبر کو بھی کیوں اب تک سابقہ پیکیج مل رہا ہے؟ اب چند روز بطور میڈیا منیجر انگلینڈ میں گذار کر وہ پھر گھر بیٹھ جائیںگے۔ نجم سیٹھی اگر چیئرمین بنے تو ان سے پہلا سوال میں اسی حوالے سے پوچھوں گا دیکھتے ہیں وہ کیا جواب دیتے ہیں۔

چیئرمین سے قبل قومی کرکٹ ٹیم انگلینڈ پہنچ چکی جہاں 50 لاکھ روپے سے زائد رقم خرچ کر کے کنڈیشننگ کیمپ لگایا گیا ہے، امید ہے یہ رقم ضائع نہیں ہو گی، ویسے کھلاڑی جس طرح جانے سے قبل سیلفیز لے رہے تھے اس سے ان کی خوشی عیاں تھی، ہیئر اسٹائل تو بنا لیے، بال رنگوا بھی لیے،اب فیلڈ میں اچھا پرفارم کرنا ہوگا، سوشل میڈیا پر ہزاروں فینز کارکردگی کی وجہ سے ہی بنتے ہیں، سیلفیز اسی وقت اچھی لگتی ہیں جب کھلاڑی کھیل بھی اچھا پیش کرے،ورنہ احمد شہزاد آج ٹیم سے باہر نہ ہوتے، اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ دورہ بہت کٹھن ہے۔

سلمان، عامر اور آصف نے گذشتہ ٹور میں جو گل کھلائے تھے اس کے بعد اب وہاں کا میڈیا نئے تنازع کی تلاش میں ہوگا، انتخاب عالم بطور منیجر اب تک بہتر انداز میں فرائض انجام دے رہے ہیں البتہ انھیں تھوڑی سختی کرنا ہوگی، عامرکے بارے میں جو ضابطہ اخلاق تیار کیا اس پر عمل درآمد بھی کرائیں، انگلینڈ میں دو محاذوں پر لڑنا ہے، ایک فیلڈ میں حریف اسکواڈ اور دوسرا وہاں کا میڈیا دونوں ہی ہماری ٹیم کے منتظر ہیں، مصباح الحق کیلیے بھی یہ دورہ خاصی اہمیت کا حامل ہے، اب تک انھیں انگلینڈ میں کوئی ٹیسٹ کھیلنے کا موقع نہیں ملا، اب بطور بیٹسمین اپنی صلاحیتوں کو مزید منوا سکتے ہیں، یونس خان کے لیے بھی یہ ٹور بہت خاص ہے ،مصباح 42 سال کے ہو چکے اب اگر وہ ریٹائر ہوئے تو یونس کو ایک بارپھر ٹیسٹ میں قیادت مل سکتی ہے، سیریز کا پہلا ٹیسٹ جب قریب آئے گا تو پاکستانی ٹیم کی کامیابی کے امکانات کا مزید جائزہ لیں گے، البتہ ایک بات واضح ہے کہ فتح ناممکن نہیں، اسکواڈ میں کئی میچ ونرز موجود ہیں بس انھیں اپنی صلاحیتوں سے انصاف کرنا ہوگا۔