بلوچستان بجٹ مالی سال 201617

گوادرپورٹ دراصل گیٹ وےہےپاکستانی اقتصادی ومعاشی ترقی کااوراب سی پیک منصوبےسےترقی کی نئی راہیں کھلنےکےامکانات روشن ہیں


Editorial June 21, 2016
پرانے پنشنرزکو بھی کمپیوٹرائزڈ نظام کے ذریعے ادائیگی سے گھوسٹ پینشنرز کے خاتمے میں یقیناً مدد ملے گی فوٹو:اے پی پی

وفاقی بجٹ کے بعد صوبائی بجٹ پیش کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے،گزشتہ روزصوبائی وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری نے بجٹ کیا۔ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے ہمارا سب سے بڑا صوبہ ہے اورآبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا ۔ایک طویل عرصے تک بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال دگرگوں رہی، جس کے باعث معاشی واقتصادی سرگرمیاں ماند رہیں ، قتل وغارت گری کے باعث نقل مکانی ہوئی، سرمایہ کاری کا عمل بھی رکا ، گوادر پورٹ دراصل گیٹ وے ہے پاکستانی اقتصادی ومعاشی ترقی کا اور اب سی پیک منصوبے سے ترقی کی نئی راہیں کھلنے کے امکانات روشن ہیں۔

طے شدہ قواعد کے تحت بلوچستان کو سب سے کم فنڈز ملتے ہیں، جو دراصل اس کی پسماندگی کی اصل وجہ ہیں ۔کیونکہ پاکستان کے تنتالیس فیصد رقبے والے صوبے کے مسائل کی نوعیت دیگر صوبوں کی نسبت مختلف ہے ، صوبے درماندگی کا نوحہ سمجھنے کے لیے اہل درد اور اہل محبت کی ضرورت ہے جو عوام کے حقیقی مسائل کو سمجھنے کا نہ صرف شعور وادرک رکھتے ہوں ، بلکہ ان میں مستقبل بینی کی صلاحیت بھی ہو ۔ بلوچستان کا مالی سال 2016-17کے لیے 2 کھرب 89 ارب روپے سے زائد مالیت بجٹ میں 71.182ارب روپے کا ترقیاتی اور 218.174 روپے کا غیر ترقیاتی بجٹ شامل ہے۔

36.908 ارب روپے کا خسارہ ظاہرکیا گیا، بجٹ کے مندرجات جوکہ اعدادوشمار پر مشتمل ہوتے ہیں ان پراظہارخیال کرنا تو ماہرین معیشت کو ہی زیب دیتا ہے، ہم تو صرف عوامی مسائل کے تناظر میں بجٹ میں موجود مندرجات پر رائے دے سکتے ہیں ۔امن وامان کی مکمل بحالی بلوچستان کی اولین ضرورت ہے اس ضمن میں صوبے میں مالی معاملات اور نظم ونسق کی بہتری کے لیے بین الاقوامی اداروں کی مدد سے اصلاحات کا پروگرام شروع کرنے کا اعلان اور امن وامان کے لیے غیر ترقیاتی بجٹ میں تیس ارب پچیس کروڑ روپے مختص کرنے کو مستحسن اقدام قرار دیا جاسکتا ہے۔ جس میں تیرہ کروڑ روپے سے جدید ومعیاری اسلحہ فراہم کرنے کا بندوبست کیا جارہا ہے اور دیگر ضروری آلات فراہم کرنے کی غرض سے 75 کروڑ اٹھائیس لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ امن ہوگا تو خوشحالی آئے گی ۔

روزگار کے مواقعے بڑھیں گے ۔ماہرین معاشیات تو بجٹ کی خامیاں اورخوبیاں اعدادوشمار میں تلاش کرتے ہیں جب کہ ایک عام آدمی کے لیے روزگار، تعلیم ، صحت ، پانی ، بجلی،گیس اور ٹرانسپورٹ کے مسائل اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ۔بجٹ کے حوالے سے اس کی امیدوں کا محور بھی یہی مندرجات ہوتے ہیں ۔ شعبہ تعلیم میں ہم جتنا زیادہ انوسٹ کریں ، اس کا کئی گنا نفع بحیثیت قوم وملک پائیں گے، بجٹ میں قابل طلبا وطالبات کے لیے لیپ ٹاپ کی فراہمی ، سرکاری اسکولوں میں پانی اور بیت الخلا کی سہولت فراہم کرنے اور تمام اضلاع میں پرائمری سے لے کر کالج اور یونیورسٹی تک کے چودہ ہزار باصلاحیت ہونہار اور پوزیشن ہولڈر طلبہ وطالبات کو ملکی اور غیر ملکی مستند تعلیمی اداروں کے لیے وظائف دینے کا اعلان انتہائی خوش آیند قراردیا جاسکتا ہے ۔

صوبائی ملازمین کی تنخواہوں اور پنش میں اضافہ تو وہی کیا گیا ہے جو وفاقی بجٹ میں پیش کیا گیا تھا ، جو کہ سرکاری ملازمین کی دلجوئی کے لیے ناکافی ہے ، اس میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کیا جائے ، مزدور کی کم ازکم تنخواہ بھی بہت کم رکھی ہے، کوئی بھی ماہر معاشیات چودہ ہزار روپے کمانے والے مزدور کی فیملی کا ماہانہ بجٹ بنا کر دکھا دے تو بات ہے ۔ البتہ ایک بات ذرا بہتر ہوئی ہے کہ محکمہ صحت کے ڈاکٹروں کے طرز پر محکمہ سوشل ویلفیئر، لیبر اور پاپولیشن کے گریڈ 17 اور گریڈ 18 کے ڈاکٹر زکوبھی نان پر یکٹس الاؤنس چار ہزار اور چھ ہزارروپے کی منظوری دی گئی ہے، شعبہ صحت کے لیے غیر ترقیاتی بجٹ کی مد میں 17 ارب 36 کروڑ 77 لاکھ روپے مختص کیا جانا اور ایک ارب ستاون کروڑ چھیانوے لاکھ کی مفت ادویات مریضوں کو دینے کے اعلان سے یقیناً عوام کو صحت کی بہتر سہولتیں میسر آئیں گی اور انھیں ریلیف ملے گا۔ کوئٹہ بلوچستان کا صدرمقام اور پاکستان کا اہم ترین شہر ہے ۔

کوئٹہ کوکچھی کینال سے پانی کی فراہمی، ماس ٹرانزٹ ٹرین، گرین بس پروجیکٹ جیسے منصوبوں اور مواصلات کو ترجیح دینے سے کوئٹہ کا شمار بھی ترقی یافتہ شہروں میں ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے ۔ وزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری کے مطابق کوئٹہ شہر کے لیے خصوصی ترقیاتی پیکیج کی مد میں پانچ ارب روپے، ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرہسپتالوں کے لیے ڈیڑھ ارب روپے ، لوکل کونسلز کے لیے ترقیاتی گرانٹ کی مد میں پانچ ارب مختص کیا جانا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت کوئٹہ کے شہریوں کو سہولتیں فراہم کرنا چاہتی ہے۔

پرانے پنشنرزکو بھی کمپیوٹرائزڈ نظام کے ذریعے ادائیگی سے گھوسٹ پینشنرز کے خاتمے میں یقیناً مدد ملے گی۔ زراعت کے لیے سات ارب چالیس کروڑ بیس لاکھ روپے،آب پاشی کے لیے ایک ارب 82کروڑ 25 لاکھ روپے،کھیلوںکے لیے دس کروڑ روپے، محکمہ سوشل ویلفیئر، لیبر اور پاپولیشن کے فارمارسِسٹ کے لیے بھی دس ہزار ہیلتھ پر وفشینل الاؤنس کی منظوری اور تین ہزار نئی ملازمتوں کی فراہمی بجٹ کے نمایاں اہداف ہیں ، یہ اہداف اس وقت پورے ہوسکتے ہیں جب فنڈز کا استعمال درست اندازمیں اور انتہائی شفاف طریقے سے کیا جائے، ورنہ بجٹ ہندسوں کے ہیرپھیرکے سوا کچھ نہیں ۔