کراچی ایک بار پھر سوگوار

کراچی کو ایک بار پھر غارت گران امن کی چیرہ دستیوں کا سامنا ہے۔


Editorial June 24, 2016
کراچی کو ایک بار پھر غارت گران امن کی چیرہ دستیوں کا سامنا ہے۔ فوٹو: ایکسپریس

KARACHI: کراچی کو ایک بار پھر غارت گران امن کی چیرہ دستیوں کا سامنا ہے۔ شہر قائد میں پہلے تو قانون شکن قوتوں کے ہاتھوں انصاف کے منصب کو للکارا گیا اور پھر ایک سنہری آواز والے فنکار کو بیدردی سے قتل کیا گیا۔ شہر قائد آجکل اشکبار ہے۔ بدھ کی سہ پہر کو مسلح دہشتگردوں کی فائرنگ سے عالمی شہرت یافتہ قوال امجد صابری جاں بحق ہو گئے جب کہ اس سے ایک روز قبل کراچی کے پوش علاقے کلفٹن میں واقع ایک سپراسٹور کے احاطے سے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے بیٹے اویس علی شاہ کو اغوا کار اپنی کار میں ڈال کر لے گئے۔

کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی جب کہ ریڈ الرٹ دورانئے میں دو وارداتیں اتنی دیدہ دلیرانہ چابکدستی اور پیشہ ورانہ و مجرمانہ مہارت کے ساتھ انجام پائیں کہ وفاقی و سندھ حکومت کے قیام امن کے سارے کیے کرائے پر پانی پھر گیا اور شہر قائد کو امن کا گہوارہ بنانے کا خواب تک ریزہ ریزہ ہو گیا۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ وفاق اور صوبائی حکومتیں لاقانونیت روکنے میں ناکام ہو گئیں۔

سندھ حکومت سکتے کے عالم میں ہے اور اسے بے عملی کے باعث ہونا بھی چاہیے، اس کی بنجر پالیسیوں کے باعث کراچی حالت مرگ میں ہے، ادارہ جاتی انحطاط عروج کو پہنچ چکا ہے اور جرائم میں اضافے کے حوالے سے پورا ملک سفاکانہ جرائم اور بہیمانہ ظلم و ستم کی درد انگیز تصویر پیش کرتا ہے، ایک آئس لینڈ دنیا کا محفوط ترین ملک قرار دیا گیا ہے جب کہ مادر وطن کا نام اکنامکس اینڈ پیس نامی عالمی تنظیم کے 163 ممالک کی فہرست میں 153 ویں نمبر پر ہے۔ آخر ہم کب تک امن کی کاشت کی جدوجہد میں اپنے وطن کے فنکاروں، جواں سال وکیلوں، ڈاکٹروں، اساتذہ، خواتین، بچوں اور شہریوں کی دہشت انگیز اور بلا جواز موت اور اغوا کی وارداتوں کے زخم سہتے رہیں گے۔

ارباب اختیار کو ''ابھی نہیں تو کبھی نہیں'' کے مصداق مذمتی بیانات جاری کرنے کے بجائے دہشتگردوں اور قاتلوں کی گرفتاری تک چین سے نہیں بیٹھنا چاہیے، رینجرز، سندھ پولیس اور انٹیلی جنس اداروں کو دہشتگردوں نے للکارا ہے، انھیں کیفر کردار تک پہنچانا لازم ہے، کیونکہ دہشت گردی اور اغوا کی دو پے در پے وارداتوں سے دہشت گردی نے اچانک تقویت پائی ہے، اس نے کراچی کے امن پر غلبہ پانے کا گمراہ کن تاثر پھیلایا ہے جب کہ عدالتوں کو بھی ایک طرح سے ان دہشت گردوں، کالعدم گروہوں، ٹارگٹ کلرز اور نامعلوم مجرموں نے خشمگیں آنکھیں دکھائی ہیں جہاں ملک کے انتہائی خطرناک ملزمان کا فوجی و سویلین عدالتوں میں سنگین مقدمات کی سماعت ہو رہی ہے۔

ان دہشتگردوں کی ہدف تک رسائی کاٹنا پڑیگی، ان کے کراچی سمیت پورے ملک میں سلیپنگ سلیپرز اور خفیہ کمیں گاہوں کو جڑ سے اکھاڑنا ہو گا، مگر اس کے لیے سیکیورٹی لیپس کی کمزوری پہلے دور کرنا ہو گی، اویس شاہ کے کراچی سے باہر جانے یا ابھی تک شہر قائد میں یرغمال ہونے کے کی متضاد اطلاعات ہیں، امجد صابری کے دردناک قتل کے محرکات کی تفتیش جاری ہے، ایم کیو ایم نے تین دن کے سوگ کا اعلان کیا ہے، معروف قوال کو دھمکیاں ملنے کی تحقیقات ضرور ہونی چاہیے، مگر سیکیورٹی حکام عوام کے اس سوال کا جواب بھی دیں کہ اتنے ہائی پروفائل قتل و اغوا کے ملزمان کیسے بھرے بازاروں سے بھاگ گئے۔ ان کے پاس ایسی کون سی سلیمانی ٹوپی ہے جسے وہ پہن کر غائب ہو جاتے ہیں؟ کلفٹن اور لیاقت آباد تو شہر قائد کے معروف ترین علاقے ہیں۔

بلاشبہ ملک کی مجموعی تہلکہ خیز صورتحال کے وسیع تر تناظر میں مضروب کراچی میں ہونے والے ان واقعات کی درست سیاق و سباق میں تفتیش ہو، معلوم کیا جائے کہ اویس شاہ کے اغوا میں استعمال شدہ پولیس کار پر فینسی نمبر پلیٹ کیسے لگی۔ 18 سی سی ٹی وی فوٹیج کسی کام نہیں آئے، جیو فینسنگ میں تاخیر کی کیا وجہ ہے، سی پی ایل سی سے مدد کا کیا بنا، ٹریکر سسٹم کیوں فیل ہوا، ساتھ ہی افغانستان کے دھمکی آمیز بیانات سے اٹھنے والے سیاہ بادل اور بھارتی دخل اندازی کا تخریب کارانہ سرا ابھی ڈھونڈنا چاہیے جب کہ پاکستان کے خلاف معاندانہ مہم جوئی بھی نظر انداز نہیں کی جانی چاہیے، جن داخلی عناصر نے ریاستی رٹ تسلیم نہیں کی وہ احتساب اور سزا کے مرحلہ سے گزرتے ہوئے جو کچھ کرنے لگے ہیں ۔

اسے کراچی میں مجرمانہ شو ڈاؤن کے حالیہ واقعات کے آئینہ میں دیکھنا چاہیے۔ امجد صابری کا قتل اور اویس شاہ کا اغوا دہشتگردوں کی طرف سے اپنی بے خوف موجودگی اور امن قائم کرنے والے اداروں کو کھلا چیلنج ہے، وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے اسے سیکیورٹی کی ناکامی کہا ہے، واضح رہے 20 جون کو آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ خود بھی اپنے بیان میں بڑھتے ہوئے جرائم پر تشویش ظاہر کر چکے تھے۔ تاحال کسی کالعدم گروہ نے ان وارداتوں کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے، اندرونی و خطے کی سیاسی صورتحال کی تپش بڑھ رہی ہے، کراچی کو بچانے کے لیے بڑے کریک ڈاؤن کی ضرورت ہے۔ اگر امجد صابری کے قاتل اور اویس شاہ کے اغوا کار کراچی سے باہر نہیں گئے تو ان کی گرفتاری میں اب کسی قسم کی تاخیر ہر گز نہیں ہونی چاہیے۔