افغان مہاجرین کی جلد واپسی ممکن بنائی جائے

صدر ممنون حسین نے افغان مہاجرین کی واپسی خطے میں پائیدار امن اور ترقی کے لیے ناگزیر قرار دے دی۔


Editorial June 24, 2016
صدر ممنون حسین نے افغان مہاجرین کی واپسی خطے میں پائیدار امن اور ترقی کے لیے ناگزیر قرار دے دی۔ فوٹو: فائل

صدر مملکت ممنون حسین نے بدھ کو ایوان صدر میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزین فلیپو گرانڈی سے ملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے واضح کر دیا کہ افغان مہاجرین کی واپسی خطے میں پائیدار امن اور ترقی کے لیے ناگزیر ہو چکی ہے' عالمی برادری اس مقصد کے لیے مل کر کام کرے۔ پاکستان چار عشروں سے 30 لاکھ سے زائد افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہا ہے جس کے باعث جہاں اس کی معیشت پر دباؤ پڑا ہے وہاں امن وامان اور اس کی سلامتی کے لیے بھی بہت سے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔

گزشتہ کچھ عرصے سے یہ خبریں منظرعام پر آ رہی ہیں کہ افغانستان سے آنے والے دہشت گرد افغان پناہ گزینوں کے کیمپوں میں پناہ لے لیتے ہیں' ان بے چہرہ اور ناقابل شناخت دہشت گردوں کے باعث پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور پھر یہ دہشت گرد اپنی مذموم کارروائیوں کے بعد بآسانی فرار ہو جاتے اور گرفت میں نہیں آتے۔ اب جب افغان حکومت یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ اس نے افغانستان میں امن قائم کر دیا ہے اور وہاں ترقی اور خوشحالی کے بہت سے منصوبے شروع ہو چکے ہیں' لہٰذا ان دعوؤں کے پس منظر میں بھی یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ افغان مہاجرین اپنے وطن میں جلد از جلد واپس لوٹ جائیں اور ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ حیرت انگیز امر ہے کہ افغان حکومت پاکستان سے مہاجرین کی واپسی کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کر رہی اور مکمل طور پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔

پاکستان نے گزشتہ چار عشروں سے افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کے دوران جو قربانیاں دی ہیں وقت آگیا ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کے اس کردار کو اجاگر کیا جائے۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزین فلیپو گرانڈی نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے ملاقات کرتے ہوئے کہا یو این ایچ سی آر نے رضا کارانہ طور پر واپس جانے والے افغانیوں کے لیے نقد امداد کی رقم دگنی کر دی ہے۔ پاکستان آخر کب تک لاکھوں افغان مہاجرین کا بوجھ برداشت کرتا رہے گا' وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری افغان مہاجرین کی رضاکارانہ واپسی کے لیے اپنا کردار ادا کرے اور جتنا جلد از جلد ممکن ہو اس مسئلے کو حل کرے۔ پاکستان کو بھی اپنی سلامتی کے امور کے پیش نظر چاہیے کہ وہ افغان مہاجرین کی جلد از جلد واپسی کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے کیونکہ بدلتے ہوئے جغرافیائی حالات کے باعث افغان مہاجرین کا پاکستان میں مزید قیام ملک کی سلامتی کے لیے چیلنج بن چکا ہے۔