رمضان کے بعد
2014ء کے اسلام آبادی دھرنے کے دو شرکا تنظیمیں تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک تھیں
SYDNEY:
2014ء کے اسلام آبادی دھرنے کے دو شرکا تنظیمیں تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک تھیں۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کی رہائش گاہ سے رکاوٹین ہٹانے کے مسئلے پر کارکن منہاج القرآن کے مرکز کے باہر جمع ہوئے تو ان پر بغیر کسی معقول جواز کے لاہور پولیس نے فائرنگ۔ جس کے نتیجے میں 14 کارکن جاں بحق اور سو سے زیادہ زخمی ہو گئے۔ کہا جاتا ہے کہ پولیس نے ہجوم پر سیدھے گولیاں چلائیں۔
عموماً جب سیاسی جلسے جلوس قابو سے باہر ہو جاتے ہیں اور امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے تو پولیس اور دوسرے قانون نافذ کرنے والے ادارے مشتعل ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لیے قدم بہ قدم اقدامات کرتے ہیں۔ پہلے ہجوم کو وارننگ دی جاتی ہے کہ وہ منتشر ہو جائیں اگر وارننگ کا ہجوم پر کوئی اثر نہیں ہوتا تو واٹر کینن استعمال کیا جاتا ہے اگر ہجوم اس سے بھی قابو میں نہ آئے تو لاٹھی چارج کیا جاتا ہے، ہجوم زیادہ مشتعل ہو تو ہوائی فائرنگ کر کے ہجوم کو قابو کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور ہجوم اس سے بھی کنٹرول نہ ہو تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ مشتعل عوام کے پیروں پر گولیاں چلائیں لیکن عوام پر براہ راست گولیاں چلانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 17 جون 2014ء کو لاہور میں جو کارروائی کی گئی کیا وہ قانون کے مطابق قدم بہ قدم کی گئی؟ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو انتہائی صورت میں عوام کے پیروں کا نشانہ لینے کی ہدایت ہوتی ہے تا کہ جانی نقصان نہ ہو لیکن لاہور میں 17 جون 2014ء کو منہاج القرآن کے کارکنوں پر جو گولیاں چلائی گئیں ان کا نشانہ کارکنوں کے پیر نہیں تھے بلکہ سر اور سینے تھے۔ اس نشانے کی وجہ سے 14 کارکن جاں بحق اور سو سے زیادہ شدید زخمی ہوئے۔ تحریک کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پولیس نے گولیاں براہ راست ہجوم پر چلائیں جس سے 14 کارکن جاں بحق اور سو سے زیادہ شدید زخمی ہوئے جو اب معذوری کی زندگی گزار رہے ہیں۔
ترقی یافتہ ملکوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار ہجوم کتنا ہی مشتعل کیوں نہ ہو قانون کی حدود اور اخلاقیات کے اندر رہ کر کارروائی کرتے ہیں لیکن پسماندہ ملکوں خاص طور پر پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے ادارے قدم بہ قدم اقدامات کرنے کے بجائے براہ راست عوام پر گولیاں چلانے پر اتر آتے ہیں۔ 17 جون کا واقعہ پہلا بدترین سانحہ نہیں تھا بلکہ 1972ء میں جب ہم کراچی میں لیبر آرگنائزنگ کمیٹی کے جنرل سیکریٹری کی حیثیت سے اور عثمان بلوچ متحدہ مزدور فیڈریشن کے رہنما کی حیثیت سے مزدوروں کی قیادت کر رہے تھے تو کراچی کے دو علاقوں سائٹ اور لانڈھی انڈسٹریل ایریا میں مزدوروں پر براہ راست گولیاں چلائی گئیں اور لاتعداد مزدور پولیس کی گولیوں کا شکار ہو گئے۔
سرمایہ دارانہ نظام میں اس نظام کی پٹھو حکومتیں عوام کو خوفزدہ کرنے کے لیے ان کی جانوں سے بے خوف و خطر کھیلتی ہیں۔طاہر القادری کا کہنا ہے کہ ان کے کارکنوں پر اندھا دھند گولیاں پولیس نے اعلیٰ انتظامی قیادت کے حکم پر ہی چلائیں۔ طاہر القادری اس قتل عام کی ذمے داری صوبائی حکومت پر ڈالتے ہیں۔ عوام کو یہ قانونی حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنے ساتھ ہونے والی کسی زیادتی کے خلاف پولیس میں ایف آئی آر درج کرا سکتے ہیں، انفرادی شکایت کنندگان کو تو ایف آئی آر درج کرانے میں بہت ساری مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اس قدر سنگین سانحے کے خلاف ایف آر درج کرنے سے احتراز کیا جاتا رہا حتیٰ کہ ملک کی مسلح افواج کے سربراہ کو اس حوالے سے مداخلت کرنی پڑی تب کہیں ایف آئی آر درج ہو سکی اس پر مزید یہ ستم ہے کہ دو سال کے بعد بھی یہ فیصلہ نہ ہوسکا کہ یہ کیس قابل سماعت ہے بھی یا نہیں۔ ہماری انتظامی مشینری اور عدالتی نظام 69 سال سے صورت سوال بنے ہوئے ہیں۔
یہ رمضان کا مہینہ ہے ملک بھر میں سخت گرمی پڑ رہی ہے اس منظر نامے میں لاہور کی مال روڈ پر تاحد نگاہ کارکنوں کا ہجوم ہے۔ طاہر القادری ابھی دو دن پہلے پاکستان آئے ہیں انھوں نے اپنے اعلان اور پروگرام کے مطابق 14 جون 2014ء کے شہدا کی دوسری برسی پر مال روڈ پر دھرنا دیا۔ دھرنا افطار سے سحری تک جاری رہا۔ قادری صاحب نے اس دھرنے کو حکومت کے خلاف تحریک کا نقطہ آغاز کہا ہے۔ رمضان المبارک کی وجہ سے عوام کو کسی سخت امتحان میں ڈالنا مناسب نہیں سمجھا جاتا، لہٰذا قادری صاحب نے رمضان کے دوران اپنے کارکنوں کو تحریک کی تیاری کی ہدایت کی ہے۔
اس حوالے سے قادری صاحب کا موقف یہ ہے کہ دو سال گزر جانے کے بعد بھی 17 جون 2014ء کے قتل عام کے ملزمان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو سکی اس کی وجہ یہ ہے کہ بقول قادری صاحب 14 جون 2014ء کے سانحے کی ذمے داری حکومت پنجاب کے اعلیٰ ترین حکام پر بھی آتی ہے اور وہ کسی صورت میں اس خطرناک کیس میں شمولیت کے لیے تیار نہیں اور اسی وجہ سے اس کیس کو ٹال مٹول کے حوالے کیا جا رہا ہے۔
17جون 2016ء کی رات تقریباً ڈیڑھ بجے ہم نے قادری صاحب کی تقریر سنی جو مدلل اور باجواز تھی۔ قادری صاحب خون کا بدلہ خون کی آواز بلند کر رہے ہیں اور ان کے لاکھوں منظم کارکن ان کی آواز میں شریک ہیں۔ 17 جون 2014ء کا سانحہ قانون کے نام پر ہی کلنک نہیں بلکہ ہمارے نظام انصاف کے سامنے بھی صورت سوال کھڑا ہے۔ ادھر آف شور کمپنیوں کے حوالے سے اپوزیشن بھی رمضان کے بعد سڑکوں پر آنے کے اعلانات کر رہی ہے۔
اگر واقعی اپوزیشن رمضان کے بعد آف شور کمپنیوں کے حوالے سے سڑکوں پر آتی ہے اور قادری صاحب بھی اپنے مطالبات کے ساتھ سڑکوں پر آتے ہیں تو پھر یہ مسئلہ 14 جون 2014ء والی تحریک نہیں رہے گا بلکہ امکان ہے کہ یہ مشترکہ تحریک نفاق کا شکار نہ ہو تو حکومت کے لیے اس سے نمٹنا آسان نہ ہو گا۔ یہ تحریک حکومت کو لے ڈوب سکتی ہے۔