آتشزدگی سے نمٹنے کی صلاحیتیں مفقود کیوں

بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی یہ غفلت ہر حادثے میں سامنے آتی ہے لیکن اب تک کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی


Editorial June 28, 2016
محض دو دن میں کراچی میں آگ لگنے کے چار بڑے واقعات پیش آئے لیکن نہ تو فائر بریگیڈ کی مطلوبہ تعداد میسر تھی۔ فوٹو : عرفان علی

ملک کا معاشی ہب اور دو کروڑ نفوس سے زائد آبادی والا میٹروپولیٹن سٹی جہاں دیگر سہولیات کے ساتھ آتشزدگی کے واقعات سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت ہونی چاہیے، ایسے واقعات کا سدباب اور معمولی آگ پر قابو پانے کی صلاحیت سے بھی یکسر عاری دکھائی دیتا ہے۔ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ کراچی شہر میں بلند و بالا عمارتوں کی تعمیر کی اجازت تو دے دی گئی ہے لیکن ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے انتظامی صلاحیتوں کا فقدان نظر آتا ہے، دوسری جانب شہری انتظامیہ قطعی مفلوج ہے۔ محض دو دن میں کراچی میں آگ لگنے کے چار بڑے واقعات پیش آئے لیکن نہ تو فائر بریگیڈ کی مطلوبہ تعداد میسر تھی، نہ ہی بلند عمارتوں تک پہنچنے کے لیے اسنارکل دستیاب تھی، اس پر مستزاد فائر بریگیڈ کی گاڑیوں میں پانی نہ ہونے کی شکایات بھی ایسے واقعات کے ظہور پذیر ہونے کے بعد منظر عام پر آتی رہی ہیں۔

ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب شہر کے پوش علاقے کلفٹن میں 11 منزلہ عمارت کی آخری منزل پر لگنے والی آگ نے متعلقہ محکمے کی صلاحیتوں کی پول کھول دی کہ کنکریٹ سے بنے اس جنگل میں فائر بریگیڈ محکمے کے پاس دس منزلہ عمارت میں لگی آگ پر قابو پانے کی صلاحیت نہیں تو آنے والے دنوں میں جو کثیر منزلہ عمارتیں زیر تعمیر ہیں ان میں حادثات کی صورت میں کیسے نمٹا جائے گا؟ وزیر بلدیات کا کہنا ہے کہ شہر میں اونچی عمارتیں قائم ہوچکی ہیں اور اسنارکل کے ذریعے اتنی بلند عمارتوں سے شہریوں کو نہیں نکالا جاسکتا۔ انھوں نے ایسے واقعات سے نمٹنے کے لیے ہیلی کاپٹر خریدنے کی بات کی۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شہر میں بلند عمارتوں کی تعمیر ایک عرصے سے جاری ہے پھر اس امر کی جانب توجہ مرکوز کیوں نہیں کی گئی؟ تجارتی عمارت میں ہنگامی اخراج کا راستہ بھی نہیں بنایا گیا تھا، بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی یہ غفلت ہر حادثے میں سامنے آتی ہے لیکن اب تک کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ راست ہوگا کہ بلدیاتی ادارے خواب غفلت سے جاگیں اور آتشزدگی و دیگر حادثات سے نمٹنے کے لیے پیشگی تیاری کررکھیں، ورنہ بعد از حادثہ پچھتاوا لاحاصل ہے۔