اسرائیل کے سامنے مسلم دنیا کی بے بسی۔۔۔۔

مسلم ملکوں خاص طور پر پاکستان میں اسرائیل کو ملیا میٹ کرنے کے جو جذبات پائے جاتے ہیں وہ بلاشبہ فطری ہیں۔


Zaheer Akhter Bedari November 26, 2012
[email protected]

KARACHI: غزہ پر اسرائیل کی بمباری میں اب تک ڈیڑھ سو کے لگ بھگ فلسطینی شہید ہوچکے ہیں اور ایک ہزار سے زیادہ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

غزہ کے شہری علاقوں پر اسرائیلی بمباری کے جو مناظر ٹی وی پر دکھائے جارہے ہیں انھیں دیکھ کر ایسا محسوس ہورہا ہے کہ امریکا نے افغانستان پر جو کارپٹ بمباری کی تھی غزہ میں اس کی تاریخ دہرائی جارہی ہے، دو دو مہینوں دو دو سال کے بچوں کی کئی پھٹی لاشیں ہاتھوں میں اٹھائے فلسطینی عوام اسرائیل کی وحشتوں کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں اور یہ مناظر دیکھ کر عام اعتدال پسند مسلمانوں میں بھی انتہاپسندانہ جذبات فروغ پا رہے ہیں۔ ادھر اسرائیل کے سرپرست اعلیٰ اوباما کا فرمانا ہے کہ اسرائیل اپنا حقِ دفاع استعمال کر رہا ہے جسے روکا نہیں جاسکتا۔

غزہ پر فضائی حملوں کا جواز یہ بتایا جارہا ہے کہ حماس نے اسرائیلی شہروں پر راکٹ برسائے ہیں، غزہ پر اسرائیلی بمباری اسی گستاخی کی سزا ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ حماس کے راکٹوں سے کتنے اسرائیلی مارے گئے اور کتنے شہر تباہ ہوئے، لیکن میڈیا کی رپورٹس میں ایک دو اسرائیلی سپاہیوں کے زخمی ہونے کی خبریں دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ حماس کے راکٹوں سے اسرائیل کو جو نقصان ہوا ہے غزہ پر اسرائیلی بمباری سے ہونے والے نقصان سے اس کا موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ ان دونوں نقصانات میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ پاکستان سمیت کئی مسلم ملکوں میں اسرائیل کے خلاف پُرتشدد مظاہرے ہورہے ہیں، پاکستان کے مذہبی حلقے حکومتِ پاکستان، ترکی اور مصر کے حکمرانوں سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنی متحدہ طاقت سے اسرائیل پر حملے کرکے اُسے غزہ پر کی جانے والی وحشیانہ بمباری کی سزا دیں، او آئی سی کی بے عملی کے خلاف بھی نفرت کا اظہار کیا جارہا ہے۔

غزہ پر ہونے والے حملوں کے نقصانات ٹی وی اسکرین پر دیکھ کر اسرائیل کے خلاف نفرت کے جذبات پیدا ہونا ایک فطری بات ہے۔ اسرائیل کی فلسطینیوں پر مظالم کی تاریخ نصف صدی پر پھیلی ہوئی ہے، اب تک لاکھوں فلسطینی اسرائیلی بربریت کا شکار ہوچکے ہیں۔ اسرائیل کی بہیمانہ جنگی کارروائیوں بلکہ جنگی جرائم کی بنیاد وہ خوف ہے جو مسلم ملکوں خصوصاً عرب ملکوں سے اسے لاحق رہا ہے، لیکن اس مبینہ خوف کو جواز بناکر پچھلی نصف صدی سے اسرائیل فلسطینیوں پر جو ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اسرائیل کی فوجی طاقت عرب ملکوں کی اجتماعی فوجی طاقت سے زیادہ ہے پھر اسے امریکا اور مغربی ملکوں کی یہ گارنٹی حاصل ہے کہ وہ اسرائیل کی بقاء پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔

مسلم ملکوں خاص طور پر پاکستان میں اسرائیل کو ملیا میٹ کرنے کے جو جذبات پائے جاتے ہیں وہ بلاشبہ فطری ہیں، لیکن اسرائیل اور دہلی کو ملیا میٹ کرنے کی خواہش رکھنے والے بھائیوں نے کبھی یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کی کہ دنیا میں موجود 5 مسلم ملکوں کی اجتماعی طاقت 65 سال سے کشمیر اور فلسطین کے مسئلے کو حل کرانے میں کیوں ناکام رہی ہے؟ یہی وہ سوال ہے جو آج مسلم ملکوں میں دو طرزِ فکر کی شکل میں برسرِ پیکار نظر آرہا ہے۔ آج کی دنیا صدیوں پر پھیلی ہوئی جنگوں کے تلخ تجربات کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، بڑے سے بڑے تنازعات بات چیت کے ذریعے ہی حل کیے جاسکتے ہیں۔

امریکا کے محترم صدر نے اپنی انتخابی مہم کے دوران اور انتخابات جیتنے کے بعد بار بار کہا ہے کہ جنگ دنیا کے مسائل کا حل نہیں وہ ایک پُرامن دنیا کے خواہشمند ہیں۔دنیا کے 7 ارب انسان بھی اب نہ صرف جنگوں سے نفرت کر رہے ہیں بلکہ اپنی غربت کی ذمے داری بھی جنگوں کے بہیمانہ کلچر پر ہی ڈال رہے ہیں جو ایک مثبت اور منطقی سوچ ہے، لیکن جو تنازعات جنگوں کا سبب بن رہے ہیں انھیں ختم کیے بغیر جنگوں کے خاتمے کی خواہش ایک حماقت کے علاوہ کچھ نہیں۔ مثال کے طور پر ''دہشت گردی کے خلاف امریکا کی جنگ'' کو اب دس سال سے زیادہ عرصہ ہورہا ہے، اس جنگ میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے کھربوں ڈالر ضایع ہوئے اور دس لاکھ کے لگ بھگ انسانی جانوں کا نقصان ہوا۔ پاکستان جیسے انتہائی پسماندہ ملک کے ستّر ارب ڈالر سے زیادہ اس جنگ پر خرچ ہوگئے۔

لیکن امریکا یہ جنگ اس لیے نہیں جیت سکا کہ اس نے 9/11 کے حملوں کے پیچھے موجود محرکات کو ختم کرنے کے بجائے ڈنڈا اُٹھا کر دہشت گردی کے پیچھے دوڑتا رہا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ افغانستان کے ایک محدود علاقے میں پائی جانے والی دہشت گردی نے پاکستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا اور مشرق وسطیٰ سمیت کئی افریقی ممالک تک پھیل گئی۔ اس کا نیٹ ورک اب ساری دنیا میں پھیل چکا ہے۔ 9/11 کے حملوں کا ایک بڑا سبب فلسطینی عوام کے ساتھ ہونے والی اسرائیلی زیادتیاں رہی ہیں۔ امریکا کے احمق حکمرانوں اور ''عقل و خِرد سے محروم اہلِ خرد'' نے کبھی سنجیدگی سے فلسطین کا مسئلہ حل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ ان حماقتوں کی وجہ سے ہی فلسطین میں حماس اور لبنان میں حزب اللہ جیسی تنظیمیں وجود میں آئیں اور طالبان القاعدہ مستحکم اور مضبوط ہوئے۔ کیا امریکا اور مغربی ملک اس قدر کمزور اور بے بس ہیں کہ وہ اسرائیل کو فلسطین کا مسئلہ حل کرنے پر مجبور نہیں کرسکتے؟

ایسا نہیں ہے، اصل مسئلہ یہ ہے کہ امریکا اور اس کے حلیف مشرق وسطیٰ کی تیل کی دولت پر اپنی اجارہ داری برقرار رکھنے اور عرب ملکوں کو کھربوں کے ہتھیار خریدنے پر مجبور کرنے کے لیے مشرق وسطیٰ پر اسرائیل کی بالادستی ضروری سمجھتے ہیں۔ اپنے اقتصادی اور سیاسی مفادات کے تحفظ کی اس پالیسی کی وجہ سے جنگوں کی شدت کے ساتھ مذہبی انتہاپسندی بھی شدت اختیار کرتی جارہی ہے اور یہ وباء اب آہستہ آہستہ مذہبی یا تہذیبی جنگوں کی شکل اختیار کرتی جارہی ہے۔ اس پس منظر میں اوباما کی امن کی خواہش ایک فریب اور خود فریبی کے علاوہ کیا ہوسکتی ہے؟

مسلم ممالک اور خاص طور پر پاکستان اور افغانستان میں مذہبی جنون جن راہوں پر آگے بڑھ رہا ہے وہ نہ فلسطینیوں کا مسئلہ حل کراسکتا ہے نہ کشمیر کا۔ کیونکہ کسی بھی بڑی فوجی طاقت کا مقابلہ اب باتوں یا نعروں کی طاقت سے ممکن ہے نہ بارودی گاڑیوں اور خودکش حملوں سے ممکن ہے، اس لیے اسلحہ سازی میں ترقی اور خود کفالت کے ساتھ ساتھ اقتصادی ترقی و استحکام ضروری ہے۔ کیا حماس کو یہ علم نہیں تھا کہ اس کے چند راکٹوں کے جواب میں اسرائیل کس بربریت کا مظاہرہ کرسکتا ہے؟ اگر ان حقائق کو نہ سمجھا گیا اور اندھے پن کا مظاہرہ یوں ہی جاری رہا تو غزہ کے المیے جنم لیتے رہیں گے اور ہم زبانی جمع خرچ سے آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔

مقبول خبریں