اب مردِ خِشت نہ کہ مردِ آہن
مبارک ہو پیپلز پارٹی کو اب اس کے ہاں نئے انداز اور نئی نسل کے جیالے پیدا ہو گئے ہیں۔
ISLAMABAD:
ہماری پارلیمانی تاریخ کے مشہور ترین وزیر جناب رحمن ملک نے اپنی ذات گرامی اور ہیت ترکیبی کے بارے میں عجیب و غریب انکشاف کیا ہے کہ وہ ہماری آپ کی طرح گوشت پوست کے نہیں کسی دیوار کی طرح اینٹ کے بنے ہوئے ہیں۔
انھوں نے خود کہا ہے کہ دہشت گرد مجھے دھمکیاں دے رہے ہیں کہ وہ میری اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔ اب تک تو عمارتوں کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ فلاں نے اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور یہ بھی کسی بے رحم فاتح کے بارے میں کہا جاتا تھا جیسے ہلاکو یا تیمور۔ درست کہ یہ دہشت گرد بھی کسی ہلاکو یا تیمور جیسے بے رحم اور سنگدل حملہ آور سے کم نہیں ہیں لیکن وہ انسانوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دینے یعنی تکا بوٹی کرنے کی دھمکی تو دیا کرتے ہیں لیکن ان کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی نہیں مگر ملک صاحب کے دشمن دہشت گردوں کی اطلاعات ہم آپ سے بہت مستند اور گہری معلوم ہوتی ہیں کہ انھوں نے ہمارے کسی وزیر کو اینٹ پتھر کا بنا ہوا بھی ڈھونڈ لیا ہے، اس لیے وہ اس کو اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ ہماری آپ کی ظاہری معلومات اپنی جگہ لیکن دل یہی چاہتا ہے کہ ملک صاحب سچ مچ کسی بہت اچھے بھٹے کی اینٹ کے بنے ہوئے ہوں۔ بڑی ہی مضبوط اینٹ کے جیسی آثار قدیمہ کی دیواروں میں دکھائی دیتی ہے، یہ چھوٹی سی اینٹ صدیوں کا بوجھ اٹھاتی ہوئی آج بھی ناقابل شکست نظر آتی ہے اور کسی دہشت گرد کی مجال اور طاقت نہیں کہ وہ اسے توڑ سکے۔
اس لیے ہم ملک صاحب کے مداح کسی بھی اتھرے سے اتھرے دہشت گرد کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ وہ کبھی اپنے برے ارادوں میں کامیاب نہیں ہوں گے اور ملک صاحب کی اینٹ سے اینٹ نہیں بجا سکیں گے۔ ملک صاحب ان کے خلاف مسلسل بیان جاری کرتے رہیں گے اور ہر روز انھیں اپنے سخت بیانات کی مسلسل مار دیتے رہیں گے چنانچہ وہ دن دور نہیں جب ملک صاحب ان کو تہس نہس کر دیں گے۔ بس انھیں صرف اس خفیہ ہاتھ کو پکڑ لینے کا موقع مل جائے جو انھوں نے گزشتہ چار برسوں کی مشقت سے تلاش کیا ہے اس کے بعد وہ دن آنے ہی والے ہیں جب دہشت گرد روزانہ دو تین وارداتوں سے زیادہ کی کارروائی نہیں کر سکیں گے اور پاکستان کے عوام محفوظ ہو جائیں گے۔ انشاء اللہ۔ ملک صاحب بہت جلد اس خفیہ بیرونی ہاتھ کو اپنی کسی اینٹ جیسے سخت ہاتھ کی ضرب سے توڑ دیں گے۔ پوری قوم کی دعائیں ان کے ساتھ ہیں۔
ہاں عرض ہے کہ پہلے تو حکومتوں کے پاس مرد آہن ہوا کرتے تھے۔ ہمارے ہاں بھی کئی مردان آہن گزر چکے ہیں مگر اب کوئی 'مرد خشت' پیدا ہوا ہے جس کی طاقت کو ہم دیکھ رہے ہیں۔ مبارک ہو پیپلز پارٹی کو اب اس کے ہاں نئے انداز اور نئی نسل کے جیالے پیدا ہو گئے ہیں۔ کیا یہ کہیں قرب الیکشن کی نشانی تو نہیں کیونکہ جیالوں کو اس بار الیکشن میں کچھ زیادہ محنت کرنی پڑے گی، اب کوئی نیا شہید بھی دستیاب نہیں۔ مردان سنگ و خشت کو میدان میں لانا پڑے گا کیونکہ کئی مردان آہن بھی جعلی نکلے ہیں، ادھر اقتدار کا ڈنڈا ہاتھ سے گرا اور ادھر مرد آہن ریت کا ڈھیر بن گیا، اس مایوسی میں ایک اور شادی کر لی، اپنی زندگی کے ثبوت کے لیے یا مرد آہن کے بچے کھچے آثار کے ثبوت کے لیے کہ بوئے مردانگی ابھی باقی ہے۔ بہر کیف پیپلز پارٹی خوش نصیب ہے کہ اسے ہر زمانے میں نئی زندگی مل جاتی ہے اور وہ پھر سے جی اٹھتی ہے لیکن اس بار پارٹی کے بد خواہوں کا یہ خیال ہے کہ اتنی بری حکومت کے بعد جس کے چرچے ایک عالم میں ہیں پاکستانی اب شاید ووٹ نہ دیں مگر ان لوگوں کو پاکستانیوں سے واقفیت نہیں، وہ اپنے پائوں پر کلہاڑی چلانے میں ماہر ہیں۔
کہتے ہیں کہ اس بار الیکشن کا فیصلہ پنجاب میں ہو گا لیکن اکثریتی صوبہ ہونے کے باوجود شاید پنجاب اس بار پہلے کی طرح فیصلہ کن نہیں ہو گا، سیاستدانوں نے اس میں انتشار پیدا کر دیا ہے خصوصاً جنوبی صوبے کے خواہ مخواہ کے نعرے سے۔ جناب زرداری نے تو بروقت ٹکا سا جواب دے دیا ہے کہ ان کے پاس صوبے کی تشکیل کے لیے ضروری ووٹ نہیں ہیں لیکن اس نعرے کو ختم کرنا آسان نہیں ہو گا کیونکہ کئی سجادہ نشین قسم کے سیاستدان گورنر کے وزیراعلیٰ اور وزیر وغیرہ بن چکے ہیں جو اپنی خیالی حکومتیں بچانے کے لیے ہر ممکن حربہ استعمال کریں گے۔ میرے ایک پرانے دوست مرحوم سردار عاشق مزاری جب ایک بار ایسے ہی ایک جلسے سے واپس آئے (یہ جنوبی صوبہ پرانا مسئلہ ہے) تو میں ان دنوں ملتان میں تھا، مجھ سے کہنے لگے کہ یہ بے وقوف لوگ اتنا نہیں جانتے کہ اب تو ہم لوگوں پر لاہور کا دبائو رہتا ہے لیکن جب ہم لاہور سے آزاد ہوں گے اور خود مختار حکمران ہوں گے تو ان کی وہ درگت بنا کرے گی جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتے۔
اب وہ اگر نیم غلام ہیں تو پھر غلامی مکمل ہو جائے گی، روشن خیال سردار مزاری کا مطلب شاید یہ تھا کہ جب تک سرداری اور سجادگی کا یہ سسٹم نہیں بدلاجائے گا، کسی نئے صوبے کا کیا مطلب ہو گا۔ چند بڑوں کے لیے نئے خود مختار عہدے اور آقائی اور غلامی کا ایک نیا دور۔ سب کو معلوم ہے کہ پنجاب بالائی ہو یا زیریں پنجاب شمالی ہو یا جنوبی وسائل ہوں گے تو کسی کو کچھ ملے گا اور وسائل جتنے کچھ بھی ہیں وہ سرداروں کے قبضے میں ہیں اور سردار خود حکمران ہیں اور رہیں گے، بلوچستان کا مسئلہ خالصتاً یہی ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ جب تک برابری، انصاف اور مساوات کی کوئی صورت پیدا نہیں ہوتی تب تک سب فضول بلکہ یوں نقصان دہ بھی ہے کہ قوم میں سکون اور ٹھہرائو ختم ہو جاتا ہے۔ آنے والے الیکشن میں جنوبی پنجاب صوبے کا ایک مسئلہ بھی ہو گا علاوہ ان تمام مسائل کے جو پہلے موجود ہیں اور ایک اور نیا مسئلہ عمران خان کا ہے جو بالکل نیا ہے اور ابھی پختہ بن رہا ہے۔ اس کی کیا شکل و صورت نکلے گی یہ بھی دیکھنا ہو گا۔
میں یہ ادھر ادھر سے دیکھ سن رہا ہوں کہ بار بار آزمائے ہوئے سیاستدانوں کو اب مزید آزمانے کی گنجائش باقی نہیں رہی اور جیسا کہ بار بار کہا جا چکا ہے، عمران اس صورت حال کا ردعمل ہے اور یہ صورت حال اور اس کا ردعمل دونوں آنے والے وقت تک موجود رہیں گی یا تو ردعمل اپنا کوئی جواز پیدا کرے گا یا جس صورت حال کی یہ پیداوار ہے وہ بدلے گی۔ اس تمام صورت حال میں نون لیگ ابھی تک اپنی جگہ کھڑی ہے بلکہ ڈٹی ہوئی ہے۔ خادم اعلیٰ نے جو تھرتھلی مچا رکھی ہے اس کا عمل پختہ بھی آپ زیادہ دور نہیں جو الیکشن پر دونوں صورتوں میں زبردست اثر انداز ہو گا لیکن میں نے بات تو ایسے بالکل نئی شکل و صورت اور نئی ساخت کے ایک سیاستدان کے ذکر سے شروع کی تھی جس نے مرد آہن کی جگہ 'مرد خشت' ہونے کا اعلان کیا ہے مگر بات الیکشن تک نکل گئی خدا الیکشن کو سلامت رکھے جس کے بارے میں خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔