3 خوا 3 اور چوہدری شجاعت کا نسخہ کیمیا
سب سے بڑے حکیم پاکستان میں چوہدری شجاعت ہیں جو ’’مٹی پاؤ‘‘ سے ہر مرض کا علاج انتہائی کامیابی سے کرنے میں مشہور ہیں۔
3 خوا 3 اور ایک کم 4 لا 4 مردوں کا قصہ بھی امرتسر صوفی کانفرنس ہی سے متعلق ہے۔
ان 3 خوا 3 میں ایک تو ہماری سسٹر عائشہ زی خان تھیں ، دوسری ڈاٹرکرن بشیر احمد اور تیسری محترمہ نیرہ رحمان تھیں، یوں ہم ایک کم چار مردوں یعنی حضرت شام، محمد حنیف ساقی اور خاکسار خدائی خوار کی یہ مستقل ہم سفر رہیں ۔ تینوں انتہائی شریف، مخلص اور خدمت کرنے والی خواتین تھیں، قدم قدم پر ہمارا خیال رکھتی تھیں اور ہر مصیبت کی ڈھال بن جاتی تھیں لیکن کیا کیجیے خواتین بہرحال ''حواتین'' تو ہوتی ہیں ،سو ان میں بھی ''خواتین'' کی مخصوص دیر کرنے کی عادت منیر نیازی سے بھی زیادہ تھی لیکن ان 3 خوا ۔۔ تین کی جس عادت نے ہمیں خاصا ہلکان کیا، وہ ان کی فضول خرچی تھی، پیسوں کے معاملے میں نہیں بلکہ باتوں کے معاملے میں۔ وہ لطیفہ تو آپ نے سنا ہی ہو گا کہ ایک گھر میں فون کی گھنٹی بجی، خاتون خانہ ریسو کرنے گئی اور صرف ایک گھنٹے میں لوٹ آئی۔ شوہر نے پوچھا، آج ٹیلی فون پر زیادہ بات نہیں کی، تمہارا باتیں کرنے کا معیاری وقت تو تین گھنٹے ہے۔
بولی وہ دراصل رانگ نمبر تھا، چنانچہ ہماری یہ 3 خوا 3 بھی رانگ نمبر پر ایک گھنٹہ بڑی آسانی سے خرچ کر دیتی تھیں۔ کسی دکاندار سے پتہ پوچھنے میں بھی، بات جان پہچان اور پتہ نمبر کے تبادلے تک پہنچ جاتی تھی، باقی دو خواتین سے تو زیادہ آزادی نہیں لیکن سسٹر کے ساتھ اب کچھ کچھ تعلقات مادر ملت کے سے ہوتے جارہے تھے، اس لیے ہم اکثر اپنی بدمزگی کا اظہار ان ہی پر کر ڈالتے تھے، انھیں کئی نئے نئے نام دے ڈالے لیکن اتنی فراخ دل اور مرنجان مرنج خاتون ہیں کہ برا ماننے کے بجائے کھکھلا کر ہنس پڑتی تھی چنانچہ اس مرتبہ ہم نے انھیں دیر خان جیسے خطابات دے دیے جو انھوں نے خوشی سے قبول کر لیے، لیکن ایک موقع پر شاید ان کی برداشت کا پیمانہ بھی لبریز ہو گیا کیوں کہ ہم کو ایک جگہ بٹھا کر وہ ابھی آئی کہہ کر چلی گئیں اور پھر ہمیں ایسا لگا کہ ابھی کا کہہ کر وہ ''کبھی'' نہیں آئیں گی۔
بوریت کی بات یہ تھی کہ ہم موسیقی کے پروگرام سے نکل کر ہوٹل جانے کے لیے اس پچھلے ہال میں آئے تھے چنانچہ ہم خالی ہال میں بیٹھے رہے اور وہ موسیقی کے پروگرام میں کہیں عدم پتہ ہو گئی تھیں، اٹھ بھی نہیں سکتے تھے کہ اتنے میں اگر وہ آگئیں تو ۔۔۔ خیر انتظار کے گھونٹ پی پی کر جب سر سے پیر تک کڑوے ہو گئے تو وہ اپنی تیسری ساتھی کے ساتھ نمودار ہو گئیں، ان کی یہ تیسری ساتھی وہی نیرہ رحمان تھیں جو کراچی کی کوآرڈینیٹر ہیں۔ انھیں ہم نے آڑے ہاتھوں لیا تو وہ چپ سی ہو گئیں اور پھر تیز تیز چلنے لگیں، رفتار اتنی بڑھائی کہ منٹوں میں اسٹاپ پر پہنچ گئیں، پھر رکشے میں بیٹھے تو بھی چپ تھیں۔ خواتین میں کسی نے کپڑے کی دکانوں کا ذکر کیا تو پھٹ پڑیں، ہم سمجھ گئے کہ انگارہ بنی ہوئی ہیں ایسے مواقع پر اپنے تجربات کی پٹاری ٹٹولی تو ایک نسخہ کیمیا ہاتھ لگا اور وہ نسخہ کیمیا ''خاموشی'' کا تھا۔ وہ بولتی رہی اور ہم چپ رہے۔
آہستہ آہستہ پریشر ککر کی ساری بھاپ نکل گئی اور پھر ہم نے دیکھا کہ رکشا اسی مارکیٹ میں کھڑا ہے جہاں سے کپڑوں کی خریداری کرنے کا طے ہوا تھا اور جس سے اس نے تھوڑی دیر پہلے انکار کیا تھا، ہم نے بزرگوں کو دل ہی دل میں دعا دی کہ انھوں نے ایسے آتش فشاں مواقع کے لیے کیا زبردست نسخہ ایجاد کیا ہوا ہے، کوئی کتنا ہی غصے میں کیوں نہ ہو آپ اسے بولنے دیں اور کوئی بحث مباحثہ نہ کریں نہ صلح صفائی دیں نہ وضاحت کریں نہ تردید و تصحیح کریں کیوں کہ ایسی تمام چیزیں ایندھن کا کام دیتی ہیں حتیٰ کہ ایک ایسے موقع پر پانی بھی کام نہیں د یتا، صرف اور صرف ''خاموشی'' کی ریت مٹی ہی کام دیتی ہے ، اس نسخے کے سب سے بڑے حکیم پاکستان میں چوہدری شجاعت ہیں جو ''مٹی پاؤ'' سے ہر مرض کا علاج انتہائی کامیابی سے کرنے میں مشہور ہیں، بعد میں حضرت شام اور حنیف ساقی نے ہوٹل پہنچ کر ذکر کیا کہ سسٹر تو بڑے طیش میں تھیں، ہمارا تو خیال تھا کہ اب شانت نہیں ہوں گی۔
اس موقع پر ہم نے اعتراف کیا کہ واقعی ہم سے کچھ زیادہ ہی سختی ہو گئی تھی لیکن اس کی اپنی ایک وجہ ہے۔ بھوپال کانفرنس سے یہاں تک، سچ پوچھئے تو سسٹرہی نے ہمیں بگاڑا تھا، وہ قدم قدم پر آگے بڑھ کر ہماری رہنمائی یوں کرتی تھیں جیسی مائیں اپنے بچوں کی کرتی ہیں بلکہ ہمیں تو اکثر ان پر اس مرغی کا گمان ہوتا تھا جو خطرہ دیکھ کر چوزوں کو اپنی پناہ میں لے لیتی ہیں اور ہر خطے کے آگے سینہ سپر ہو جاتی ہے، ہمیں ہر سہولت اور آسانی پہنچانے کے لیے وہ بھاگتی دوڑتی اور لوگوں سے لڑتی بھڑتی رہتی تھیں، نتیجے میں ہم نے خود کو مکمل طور پر ان کی سپردگی میں دے دیا تھا، کوئی بھی مسئلہ کوئی بھی بات ہو انھی کو پکارتے تھے اور جو بھی تکلیف اور کٹھنائی آتی تھیں، انھی کے نام کر دیتے تھے۔
کسی کا درد ہو کرتے ہیں تیرے نام رقم
کسی سے جو بھی گلہ ہے ترے سبب سے ہے
حالانکہ عمر میں وہ ہم سے چھوٹی ہیں لیکن کس نے کہا ہے کہ ''ماں'' کو ضرور بوڑھا ہونا چاہیے یا بوڑھے لوگ بچے نہیں بن سکتے، آدمی کسی بھی عمر کا ہو بچہ تو ہمیشہ اس کے اندر بیٹھا رہتا ہے اور قدم قدم پر کسی انگلی کو پکڑنے کی خواہش رکھتا ہے، یہ تو ہم نے آپ کو بتایا ہی نہیں کہ اتنی دیر تک وہ غائب کیوں ہوئی تھیں، اصل میں وہ گھاس کے ڈھیر میں سوئی ڈھونڈنے گئی تھیں اور یہ پتہ ہمیں بعد میں لگا، ظاہر ہے گھاس کے ڈھیر میں سوئی ڈھونڈنا آسان کام نہیں تھا' گھاس کا ڈھیر موسیقی کے شائقین سے بھرا ہوا پنڈال تھا اور اس سوئی کا نام نیرہ رحمان تھا جس کا فرسٹ نیم ہم نے چھوٹی الائچی رکھا تھا لیکن چھوٹی سوئی اور چھوٹی الائچی کی کہانی اور کارنامے اتنے چھوٹے نہیں ہیں۔