جن روزوں درویش ہوئے ہم …
کتابیں تو ایک زمانے سے لکھی گئی ہیں لکھی جا رہی ہیں
FAISALABAD:
کتابیں تو ایک زمانے سے لکھی گئی ہیں لکھی جا رہی ہیں اور لکھی جاتی رہیں گی اسی طرح چھپی بھی ہیں چھپ بھی رہی ہیں اور مزید چھپتی جائیں گی اور یہ کہ پڑھی بھی گئی ہیں پڑھی جا رہی ہیں پڑھی جاتی رہیں گی لیکن میرے سامنے اس وقت جو کتاب پڑی ہے نہ صرف پڑی ہے بلکہ پڑھی بھی ہے یہ بظاہر ایک عام کتاب ہے لیکن اس میں جو خاص بات ہے وہ اس لیے خاص بات ہے کہ اس کا تعلق خود ہماری اپنی ذات سے بھی ہے، یا یوں کہیے کہ اس نے ہمیں اپنی ایک محرومی کی طرف متوجہ کیا اور یہ تو ایک عرصے سے ہمیں معلوم ہو چکا ہے کہ
ہر خوشی میں کوئی غم یاد دلا دیتا ہے
دل کا یہ رخ مری نظروں سے نہاں تھا پہلے
اگرچہ یہ کتاب سرے سے ہمیں بھیجی ہی نہیں گئی ہے بلکہ شاید کوئی جانتا بھی نہ ہو کہ ایک ایسا شخص بھی اس دنیا میں سانس لے رہا ہے کہ اس کتاب کے پڑھنے سے اتنا ویاکل بھی ہو سکتا ہے کچھ ایسا ہی ہے کہ ''دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا'' تو نہیں کہہ سکتے لیکن یہ کہہ سکتے ہیں کہ
ہم نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسد
سنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا
اور اپنا سر اس لیے یاد آیا کہ اس کتاب کو مرتب کرنے والی اس شخص کی بیٹی ہے جس کے بارے میں یہ کتاب لکھی گئی ہے کتاب کا نام ہے ''جن روزوں درویش ہوئے ہم ۔۔۔'' اور یہ ملک محمد جعفر کی زندگی، حالات شخصیت اور نظریات و عقائد کے بارے میں ہے، جو لوگ ملک محمد جعفر کو جانتے تھے یا جانتے ہیں وہ جانتے ہیں لیکن جو نہیں جانتے ان کے لیے اتنا کہہ دینا ہی کافی ہو گا کہ ایسے لوگ اس خطے میں پیدا ہونا تو یا مکمل طور پر بند ہو گئے ہیں یا بہت کم پیدا ہو رہے ہیں، اور یہ بات اس لیے دل کو لگتی ہے کہ دنیا نام کا یہ پیڑ اب بہت پرانا ہو چکا ہے اور پیڑ جب جوان ہوتا ہے تو اس میں بڑے خوب صورت بڑے موٹے اور ہر لحاظ سے مکمل ''پھل'' لگتے ہیں لیکن جتنا جتنا پیڑ پرانا ہوتا جاتا ہے۔
اس کا سائز تو بہت بڑھ جاتا ہے ۔بوڑھا انسان بھی سو عوارض کا شکار ہو جاتا ہے، ہڈیاں کمزور، کان کمزور، آنکھیں کمزور اور ہاتھ پیر بے جان ہو جاتے ہیں اور ذرا بھی جھونکا آئے تو ٹوٹنے لگتا ہے، دنیا کا درخت بھی شاید اب بہت زیادہ پرانا ہو چکا ہے اس لیے اسے اچھا اور صحت مند پھل لگنا بند ہو گئے ہیں تعداد میں بہت زیادہ اور خوبیوں میں بہت کم پھل لگنے لگے ہیں بلکہ بہت سارے تو اب زہریلے اور امراض کا مجموعہ ہوتے ہیں، اس لیے بڑے لوگ اب تو زیادہ پیدا بھی نہیں ہوتے اگر ہو جاتے ہیں اور آفات کا شکار ہو جاتے ہیں اور پھر اپنے ماحول اور اردگرد میں تو بالکل نہیں پنپتے، کیونکہ گھر کی مرغی دال برابر ہوتی ہے بقول مرشد
ہے وطن سے باہر اہل دل کی قدر و منزلت
عزلت آباد صدف میں قیمت گوہر نہیں
ملک محمد جعفر بڑے خوش قسمت تھے کہ ان کو ایک ایسی بیٹی ملی جس نے اسے گم نام اور عدم پتہ ہونے سے بچا لیا اور یہی وہ مقام ہے جس پر ہم محرومی کا شکار ہو گئے کیوں کہ ہمیں نہیں لگتا کہ ہمارے بعد بھی کوئی ہمارا ایسا نام لیوا رہے گا یا پیدا ہو جائے گا کم از کم موجودہ وقت میں تو ہمیں مطلع صاف نظر آ رہا ہے
غم سے مرتا ہوں کہ اپنا نہیں دنیا میں کوئی
جو کرے تعزیت مہر و وفا میرے بعد
دنیا میں وہ لوگ بڑے خوش نصیب ہوتے ہیں کہ وہ خود تو اپنے آپ میں مگن اور اپنے سفر میں گم خود سے بیگانہ ہو جاتے ہیں لیکن کوئی نہ کوئی وارث اور نام لیوا ان کو ایسا مل جاتا ہے جو اسے اپنی روشنی ڈال کر روشن کر دیتے ہیں اگر سقراط کو افلاطون، افلاطون کو ارسطو اور ارسطو کو سکندر نہ ملا ہوتا اور سکندر کو بطلیموس (یوٹالمی) نہ ملتا جس نے سکندر میں یونان کو زندہ کر دیا تھا اگر کارل مارکس کو اینگلر یا لینن نہ ملتا ، اگر شمس تبریز کو مولانائے روم نہ ملتا اگر ابراہیم ؑ کو اسماعیل ؑ اور اسحاق ؑ نہ ملتے، اگر یعقوب ؑ کو یوسف ؑ نہ ملتا، اگر پیر بابا کو اخون درویزہ نہ ملتا، اگر نظام الدین اولیاء ؒ کو امیر خسرو نہ ملتا، ایسے ہزاروں لاکھوں ہیں جن کو ان کے جانشینوں نے دنیا کو دکھایا ہے ورنہ خود تو وہ اپنے کام میں اتنے ڈوبے رہے کہ نام کو توجہ ہی نہیں دے پائے، ملک محمد جعفر پیپلز پارٹی میں تھے۔
جس سے ہمارا قارورہ کچھ زیادہ نہیں ملتا لیکن بھٹو صاحب ایک بڑے جادوگر تھے ایسے نہ جانے کتنے سادہ دلوں کو انھوں نے استعمال کیا، لیکن اس کی وجہ بھٹو صاحب کا کمال نہیں ہے بلکہ ایسے نہ جانے کتنے لبرل اور ترقی پسند لوگ تھے جو انھوں نے بانسری بجا کر اپنے پیچھے لگایا اور دریا برد کر دیا لیکن ان میں خال خال لوگ ایسے بھی تھے جو جادو کی بانسری کے اسیر تو ہوئے لیکن دریا میں گرے نہیں ایسے ہی لوگوں میں ایک ملک محمد جعفر بھی تھے جنہوں نے بہت مواقع پر غلط کو غلط کہا اور جرأت اظہار کا مظاہرہ کیا یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر صبح کا بھولا شام کو گھر آئے تو اسے بھولا ہوا نہیں کہتے، پہلے ہمیں علم نہ تھا اب اس کتاب سے جانکای ملی تو رشک اور بھی بڑھ گیا، وہ رشک تو اپنی جگہ کہ ان کی بیٹی نے بیٹا ہونے کا فرض ادا کرتے ہوئے انھیں گم نامی کے اندھیروں میں غروب ہونے سے بچا لیا لیکن رشک کی ایک اور بات جو ہمیں اس کتاب سے معلوم ہوئی کہ وہ ہمارے پیر بھائی بھی تھے لیکن ہم سے زیادہ خوش نصیب یہاں بھی نکلے کیوں کہ وہ ڈاکٹر غلام جیلانی برق کے صحبت یافتہ، ہم نشین اور ہمدم دیرینہ تھے۔
حالانکہ ہم نے کبھی ڈاکٹر غلام جیلانی برق کو نہیں دیکھا تھا ملاقات تو ملاقات کہ نصف ملاقات بھی کبھی نہیں ہو پائی صرف ان کی تحریریں پڑھ کر ہم ان کے گرویدہ ہو گئے اور اتنے گرویدہ ہوئے کہ جب ہمیں تخلص کی تلاش ہوئی تو قرعہ فال ڈاکٹر غلام جیلانی برق کے نام پڑا، عقیدت کی کوئی وجہ نہیں ہوتی ہمارے صوبے کے معروف اور سرکردہ اردو شاعر و ادیب خاطر غزنوی سے ہم نے ایک مرتبہ غزنی کے بارے میں پوچھا کیوں کہ غزنی میں ہمارے نسلی رشتہ دار بہت ہیں اور کئی دفعہ آنا جانا بھی ہوا ہے۔
خاطر صاحب کے نام کے ساتھ غزنوی دیکھ کر ایک دن ان سے پوچھ ہی لیا کہ اپ کا غزنی سے کیا تعلق ہے؟ بولے نہیں میں نے تو غزنی دیکھا بھی نہیں اور نہ ہی غزنی سے میرا کوئی رشتہ ہے بلکہ میرے ایک استاد غزنوی صاحب تھے اور ان سے عقیدت کی بناء پر میں نے غزنوی کو اپنے نام کا حصہ بنا لیا، اس کتاب کو پڑھنے کے بعد جہاں معلومات میں بے پناہ اضافہ ہوا اور ایک خاص دور کے بارے میں بہت ساری جانکاریاں ملیں وہاں یہ دیکھ کر اور بھی خوشی ہوئی کہ دنیا میں نظریاتی اور بااصول لوگوں کی پیدائش ابھی مکمل طور پر بند نہیں ہوئی ہے۔
ایک کمی البتہ کتاب میں یہ محسوس ہوئی کہ اگر ملک صاحب کی تحریروں کو بھی شامل کیا جاتا ۔۔۔ انگریزی میں ان کی ایک تحریر ہے تو ضرور ۔۔۔ لیکن پھر بھی اگر کچھ اور بھی ہوتا تو اچھا ہوتا، بہرحال یہ کتاب اگرچہ ایک شخصیت کے بارے میں ہے لیکن اس میں ایک پورے دور کا مدوجزر بھی دکھائی دیتا ہے اور ماضی قریب کے بارے میں بہت ساری جانکاریاں مل جاتی ہیں وہ دور جو اچھا خاصا پرآشوب اور سانحات سے بھرپور ہے۔