پاک افغان بارڈر مینجمنٹ سب کے مفاد میں ہے

پاک افغان سرحدی تنازعہ کھڑا ہونے کے بعد امریکی حکام پاکستان کی سول اور عسکری قیادت سے ملاقاتیں کر رہے ہیں


Editorial July 03, 2016
جہاں تک افغان مہاجرین کی واپسی کا مسئلہ ہے تو اسے جلد از جلد حل ہو جانا چاہیے

آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے ہفتے کو اسلام آباد میں امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر جان مکین کی سربراہی میں امریکی کانگریس کے وفد نے ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات، باہمی دلچسپی کے امور، خطے کی سیکیورٹی خاص طور پر افغانستان سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات کے موقع پر جنرل راحیل شریف نے امریکی حکام پر واضح کر دیا کہ پاک افغان بارڈر پر غیرقانونی نقل و حرکت روکی جانی چاہیے، مستحکم افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے، دونوں ممالک کے تعلقات علاقائی امن اور سلامتی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے پاکستان کو درپیش چیلنجز، علاقائی استحکام اور عالمی امن میں پاکستان کے کردار کو اجاگر کیا۔ سینیٹر جان مکین نے آپریشن ضرب عضب میں پاکستان کی کامیابیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی فوج کی انسداد دہشت گردی کے آپریشن میں کامیابیاں غیر معمولی ہیں اور ان سے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے پاکستانی عزم کی عکاسی ہوتی ہے۔

پاک افغان سرحدی تنازعہ کھڑا ہونے کے بعد امریکی حکام پاکستان کی سول اور عسکری قیادت سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ ہفتے کو جہاں جان مکین کی قیادت میں امریکی کانگریسی وفد نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے ملاقات کی وہیں پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکی نمایندہ خصوصی رچرڈ اولسن نے بھی ان سے ملاقات کی، رچرڈ اولسن وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور پاکستانی سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری سے بھی ملے۔

رچرڈ اولسن نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے ملاقات کے موقع پر افغان مہاجرین کے مسئلے، پاک افغان سرحد پر اشیا اور افراد کی آمدورفت کے لیے پاکستان کے انتظامات پر بات چیت کی، انھوں نے افغان مہاجرین کی میزبانی میں پاکستان کے کردار کو تسلیم کرتے ہوئے اس کی تعریف کی۔ افغانستان کے لوگ ایک عرصے سے بلاروک ٹوک پاکستان آ جا رہے ہیں اب دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات کو قابو کرنے کے لیے یہ لازم ہو گیا ہے کہ اس بلاروک ٹوک آمدورفت کو کسی قاعدے اور قانون کے تحت لایا جائے، اس مقصد کے لیے پاکستان نے پاک افغان سرحد پر بارڈر مینجمنٹ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے یہ واضح کر دیا کہ اب کوئی افغان بغیر سفری دستاویز کے پاکستان میں داخل نہیں ہو گا۔

بارڈر مینجمنٹ کے حوالے سے افغانستان کی حکومت کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا اور سرحد پر فائرنگ جیسے ناخوشگوار واقعات رونما ہوئے جس میں ایک پاکستانی میجر بھی شہید ہو گیا۔ پاکستان نے اس دباؤ کی صورت حال کا کامیابی سے مقابلہ کرتے ہوئے واضح کر دیا کہ پاک افغان بارڈر مینجمنٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا کیونکہ یہ علاقائی سلامتی اور سیکیورٹی کے لیے انتہائی ضروری ہو چکا ہے۔

افغانستان کے دیگر ہمسایہ ممالک ازبکستان، تاجکستان، ترکمانستان اور ایران میں آنے جانے کے لیے سفری دستاویزات کا ہونا لازمی ہے، دوسری جانب بھارت جو افغانستان پر انتہائی مہربان ہو رہا ہے وہاں بھی جانے کے لیے افغانوں کے لیے سفری دستاویزات ناگزیر ہیں۔ جب افغان اپنے ان دوسرے ہمسایہ ممالک میں آنے جانے کے لیے سفری دستاویزات کی پابندی کو تسلیم کرتے ہیں تو پھر پاکستان میں آمدورفت کے لیے سفری دستاویزات کی پابندی اور بارڈر مینجمنٹ پر واویلہ کیوں مچایا جا رہا ہے۔

پاک افغان بارڈر مینجمنٹ کے حوالے سے پاکستان نے سخت موقف اپنایا ہے اس سلسلے میں سول اور عسکری قیادت میں اتفاق پایا جاتا ہے کہ پاکستان کی سلامتی اور دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے کہ پاک افغان بارڈر مینجمنٹ پر ہر صورت توجہ دی جائے۔ پاکستان کے اس موقف کو امریکی حکام نے بھی تسلیم کیا ہے اور اب ان کے پاکستان کے دورے کا مقصد بھی اس حوالے سے پیدا ہونے والے مسائل کو حل کرنے کے علاوہ پاکستان امریکا کے درمیان بہتر کوآرڈینیشن کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔

سینیٹر جان مکین نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے ملاقات کے موقع پر آپریشن ضرب عضب میں پاکستان کی کامیابیوں کا اعتراف کیا، امریکی حکام کی جانب سے پاکستان کی کوششوں کا اعتراف کوئی پہلی بار نہیں کیا گیا مگر حیرت انگیز امر ہے کہ اس کے باوجود امریکی حکام کی جانب سے ڈومور کی آوازیں آنا بند نہیں ہوتیں اور وہ اکثر و بیشتر یہ شوشہ چھوڑتے رہتے ہیں کہ دہشت گردوں نے پاکستان کے اندر محفوظ پناہ گاہیں بنا رکھی ہیں۔ امریکا کی یہ دوغلی پالیسی ایک خاص منصوبے کا حصہ ہے جس سے پاکستانی حکام بھی بخوبی آگاہ ہیں یہی وجہ ہے کہ انھوں نے امریکا پر واضح کر دیا ہے کہ پاکستان نے جتنی بڑی سطح پر دہشت گردوں کے خلاف جنگ لڑی ہے کسی اور ملک نے اتنی بڑی جنگ نہیں لڑی اس لیے ڈومور کا مطالبہ درست نہیں ہے۔

پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے امریکی حکام پاکستان اور امریکا کے درمیان تمام شعبوں میں تعلقات کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں مگر دوسری جانب وہ عسکری اور تجارتی معاہدے بھارت کے ساتھ کر کے پاکستان کے لیے بہت سی مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ اب جب امریکی وفد نے بارڈر مینجمنٹ پر پاکستان کے موقف کی تائید کر دی ہے تو اسے افغان حکومت پر یہ دباؤ ڈالنا چاہیے کہ وہ بارڈر مینجمنٹ کے حوالے سے پاکستان کے لیے مسائل پیدا کرنے کے بجائے اس سے ہر ممکن تعاون کرے۔

جہاں تک افغان مہاجرین کی واپسی کا مسئلہ ہے تو اسے جلد از جلد حل ہو جانا چاہیے۔ اب جب افغان حکمران خود یہ کہہ رہے ہیں کہ افغانستان میں حالات بہتر ہو چکے ہیں اور وہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے تو انھیں پاکستان میں موجود افغان مہاجرین کی واپسی کے فوری انتظامات کرنا چاہئیں۔ افغانستان کی حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ بارڈر مینجمنٹ پر پاکستان کے ساتھ تعاون کرے کیونکہ یہ سرحد جتنی محفوظ ہو گی دہشت گرد اتنے ہی کمزور ہوں گے، پھر پاکستان اور افغانستان میں ہی نہیں بلکہ پورے خطے میں امن کے دروازے کھل جائیں گے لہٰذا پاک افغان بارڈر مینجمنٹ اس خطے کے سب ممالک کے مفاد میں ہے۔