ڈھونگ

امید کے مطابق پانامہ لیکس کے اہم ترین مسئلے کو کمیٹیوں کے حوالے کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے


Zaheer Akhter Bedari July 04, 2016
[email protected]

امید کے مطابق پانامہ لیکس کے اہم ترین مسئلے کو کمیٹیوں کے حوالے کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تا کہ یہ مسئلہ بھی کمیٹیوں کے قبرستان میں دفن ہو جائے۔ لیکن مشکل یہ آن پڑی ہے کہ حزب اقتدار اور حزب اختلاف مہینوں کی ''جدوجہد'' کے باوجود ابھی تک کمیٹی کے ٹی او آر پر متفق نہیں ہو سکیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت ٹی او آر میں وزیراعظم کے نام کی شمولیت کے لیے ہرگز تیار نہیں، جب کہ حزب اختلاف کا اتحاد ہر قیمت پر ٹی او آر میں وزیراعظم کا نام نامی اسمِ گرامی شامل کرانا چاہتا ہے۔

اس حوالے سے دونوں فریقوں کی جانب سے دلائل کی بھرمار جاری ہے لیکن مسئلہ حل اس لیے نہیں ہو رہا ہے کہ دونوں فریق اپنے اپنے موقف سے ایک قدم پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس ڈیڈ لاک کے پیچھے کیا محرکات، کیا تحفظات کام کر رہے ہیں؟ فرض کر لیں اگر ٹی او آر میں میاں صاحب کی شمولیت ہو بھی جاتی ہے تو یہ کوئی ایسا فیصلہ کن مرحلہ نہیں کہ اس سے وزیراعظم کی حکمرانی کو کوئی فوری خطرہ لاحق ہو جائے۔

ٹی او آر پر اگر اتفاق ہو جاتا ہے تو ان اصولوں پر ٹرمز آف ریفرنس کے حوالے سے ایک کمیٹی قائم ہو گی، جو پانامہ لیکس کے انکشافات کی روشنی میں ان لوگوں کے خلاف تحقیقات کرے گی جن پر کرپشن، منی لانڈرنگ اور ٹیکس بچانے کے الزامات ہیں، حکمران طبقات فرما رہے ہیں کہ انھوں نے نہ کوئی کرپشن کی، نہ منی لانڈرنگ کی، نہ ٹیکس بچانے کا کوئی جرم کیا۔ جب حکومت اس قدر ایماندار اور پاکباز ہے تو پھر ایک نہیں ایک سو بار ٹی او آر میں وزیراعظم کا نام شامل کر لیا جائے، اس کا کیا بگڑ سکتا ہے؟ پانامہ لیکس کے حوالے سے جو اتحاد قائم ہوا ہے اس میں شامل ساری پارٹیاں بھی ان حوالوں سے تقسیم کا شکار نظر آتی ہیں اور اس مسئلے پر یکجا نہیں ہیں۔

ان کا خیال ہے کہ اگر بات بڑھ جاتی ہے تو ''جمہوریت'' کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں اور یہ سیاست دان جمہوریت کو اپنی جان سے زیادہ عزیز سمجھتے ہیں۔ اس موقف پر رائے عامہ کا ماننا ہے کہ جن لوگوں کی نوابی جمہوریت کی مرہون منت ہے وہ بھلا جمہوریت کو کس طرح خطرے کی زد میں دیکھ سکتے ہیں۔ اس ملک کے 20 کروڑ غریب عوام 69 سال سے جمہوریت کے ثمرات سے محروم ہیں کیوں کہ جمہوریت کے سارے ثمرات جمہوریت کے عاشقان اوپر ہی اوپر اچک لیتے ہیں، انھیں نیچے آنے ہی نہیں دیتے۔ سو صورت حال ایسی ہو تو پھر عاشقان جمہوریت کس طرح صدق دل سے اس اتحاد میں شریک ہو سکتے ہیں جو حکومت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

عاشقان جمہوریت کا خیال ہے کہ فی زمانہ جمہوریت کا مطلب وزارت عظمیٰ ہی ہے، کیوں کہ وزیراعظم ہی جمہوریت کی ٹرین کو انجن کی حیثیت سے کھینچتا رہتا ہے، اگر انجن کو کوئی خطرہ لاحق ہو تو پھر ٹرین کا پٹڑی سے اترنا ممکنات میں آ جاتا ہے اور کوئی جمہوریت پسند اتنا بڑا رسک کس طرح لے سکتا ہے؟ آئی ایس پی آر کی طرف سے یہ یقین دہانی کرائی جا رہی ہے کہ فوج جمہوریت کی حمایت کرتی ہے لیکن دودھ کے جلے چھاچھ سے بھی خوف زدہ رہتے ہیں۔

اب ذرا ہماری حزب اختلاف پر نظر ڈالیں جو ٹی او آرز میں وزیراعظم کے نام کی شمولیت سے ایک قدم پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ پانامہ لیکس میں ہمارے وزیراعظم کے دو صاحبزادوں اور ایک دختر نیک اختر کا نام شامل ہے اور ان اکابرین نے غلطی سے اس بات کو تسلیم کر لیا ہے کہ وہ آف شور کمپنیوں کے مالک ہیں۔ ان سیاسی اور معاشی ماہرین آف شور کمپنیوں کو بدعنوانیوں کے گٹر کا نام دے رہے ہیں کہ سرمایہ دارانہ نظام اگر ایلیٹ کو بھاری کرپشن کو محفوظ بنانے کے لیے کہیں آف شور کمپنیاں تخلیق کرتا ہے تو کہیں سوئس بینکوں کی شکل میں لوٹا ہوا مال جمع کرنے کی سہولت بھی فراہم کرتا ہے۔ سچ اس مسئلے کے یہ مشکل آن پڑی ہے کہ دو صاحبزادوں، ایک صاحبزادی بھی اس میں ملوث نکلے ہیں۔

اور حکومت کے ترجمان بجا طور پر یہ کہہ رہے ہیں کہ اس سارے کھٹراگ میں وزیراعظم براہ راست ملوث نہیں، اگر ان کی اولاد ملوث ہے تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے، بیچ میں وزیراعظم کو کیوں گھسیٹا جا رہا ہے۔ لیکن ہماری مشرقی اخلاقیات میں اولاد کی غلطیوں کو ماں باپ کے ساتھ نتھی کیا جاتا ہے، اس حوالے سے وزیراعظم کی اولاد کی غلطیوں کو وزیراعظم کے کھاتے میں ڈالا جا رہا ہے۔

حکومت کے ترجمان اسے اپوزیشن کی دھاندلی بتارہے ہیں۔اس حوالے سے سب سے خطرناک بات یہ ہورہی ہے کہ پی پی پی اس اتحاد کی روح ادارہ بن گئی ہے اور کل تک پیپلزپارٹی کو ملاحیاں سنانے والا اور ولی عہدی نظام کو کوسنے والا کپتان کہہ رہا ہے کہ میں اور بلاول ایک ہی کنٹینر پر کھڑے ہو سکتے ہیں۔ یہ ہے جمہوریت کا حسن، جس سے غریب عوام کی آنکھیں چندھیائی جا رہی ہیں۔

2013ء کے الیکشن کے نتائج نے پی پی کو بہت پیچھے دھکیل دیا ہے، اسے اس پوزیشن سے نکال کر فرنٹ لائن میں لانا ایک پرانی قیادت کے بس کا روگ نہیں، اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے پی پی کے اہل لوگوں نے تازہ دم نوجوان کو آگے بڑھایا ہے اور یہ تازہ دم قیادت عوامی نفسیات کو سمجھتے ہوئے وہی کر رہی ہے جو اسے کرنا چاہیے۔ بے شک عمران خان کا یہ کہنا کہ میں اور بلاول ایک کنٹینر پر کھڑے ہو سکتے ہیں، عین جمہوریت کی قدروں کے مطابق ہے لیکن اگر خدانخواستہ تحریک کامیاب ہو جاتی ہے اور وزارت عظمیٰ سامنے آ جاتی ہے تو کیا دونوں رہنما ایک کنٹینر پر کھڑے نظر آئیں گے۔

پانامہ لیکس کے انکشافات کوئی نئی بات نہیں، عوام ان سے بھی بہت بڑی حقیقتوں سے واقف ہیں اور ان کے دلوں میں اس حوالے سے لاوا بھی پک رہا ہے، لیکن اس حقیقت سے قطع نظر ایک سوال ذہن میں یہ آتا ہے کہ فرض کریں نواز شریف وزارت عظمیٰ سے الگ ہو جاتے ہیں تو پھر کیا ہو گا؟ آئین اور قانون کے مطابق کسی بھی مسلم لیگ ن کے محترم کو نواز شریف کی جگہ آگے لایا جا سکتا ہے اور وہ شہباز شریف بھی ہو سکتے ہیں، پھر؟ اس پھر کا جواب ہماری بٹی ہوئی اپوزیشن کے پاس ہے؟ اس پس منظر میں اس ملک کے کچلے ہوئے دو وقت کی روٹی کے محور پر گردش کرنے والے عوام اگر یہ سمجھتے ہیں کہ پانامہ لیکس اور آف شور کمپنیوں کے خلاف چیخ و پکار ایک سیاسی ڈھونگ کے علاوہ کچھ نہیں تو کیا وہ غلط سمجھتے ہیں؟

مقبول خبریں