پاکستان کے تشخص پر حملہ
اگر تمام لیڈروں کو بلا لحاظ چھوٹا بڑا پکڑ کر بحیرہ روم میں دھکیل دیا جائے
ایک تو یہ ہمارا محدود اور مانگے تانگے کا علم ہے اوپر سے اپنی سمجھ بھی تنگ ہے اس لیے بعض الفاظ جب سامنے آتے ہیں تو ہمارے دماغ کے ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں' اوپر سے یہ اخباری چیزیں بنانے والے پتہ نہیں کن کن لغات سے کیا کیا الفاظ نکال کر خبریں بناتے ہیں، تب تک تو ہمارا گزارہ چل جاتا تھا جب کالم نگاری ایک عام سی تحریر ہوا کرتی تھی اب کالم نگاری نہیں بلکہ علمی اور معلوماتی مقابلہ ہے کہ دنیا بھر کے علماء و فضلا اس کام میں آ گئے ہیں جو کالم لکھتے ہی اس لیے ہیں کہ لوگوں کی چیخیں نکال لیں اور وہ کالم نگار کے علم سے مرعوب ہو کر عش عش کرتے ہوئے غش کھا جائیں۔
ایسے میں ہمیں بھی کچھ دال دلیا حاضر کرنا ہی پڑتا ہے لیکن جب کسی خبر میں کوئی اتنا بھاری پتھر آ جاتا ہے جیسا کہ اب ہمارے سامنے ایک چھوٹی سی خبر جو ملالہ یوسف زئی سے منسوب ہے جو دیار غیر میں بیٹھ کر ہمارا نام روشن کر رہی ہے تو پھر ہم تو کیا اس پر ایک کالم بھی نہ لکھ ماریں لیکن پرابلم اس نیک بخت خبر نگار یا مترجم نے پیدا کی کہ اتنی چھوٹی سی خبر میں اتنا بڑا پتھر لڑھکا دیا آپ بھی ملاحظہ فرمایئے، امجد صابری کا قتل پاکستان کے تشخص پر حملہ ہے، امجد صابری تو ان لوگوں میں سے تھا جن کا نظریہ یہ ہوتا ہے کہ
ان کا جو کام ہے وہ اہل سیاست جانیں
میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے
ہمیں نہیں معلوم کہ یہ کن لوگوں کا کام ہے لیکن جس ملک یا قوم میں عالم، فاضل، شاعر، ادیب اور فن کار بھی قتل ہونے لگیں اس سے زیادہ بدقسمت قوم اور کوئی نہیں کیوں کہ ایسے لوگ تو معاشرے کے لیے بمنزلہ روشنی کے ہوتے ہیں، بہرحال امجد صابری کے قتل کا المیہ تو اپنی جگہ ... لیکن یہ تشخص کا معاملہ کچھ ہماری سمجھ سے اوپر کی بات ہے اور ایسے الفاظ و تراکیب ہمیں سخت مجمعے میں ڈال دیتی ہیں اس سے پہلے ایک لفظ بلکہ دو لفظوں کی ایک جوڑی ہوا کرتی تھی جس طرح بھارت میں ہوا کرتی ہیں جیسے شنکر جے کش، سلیم جاوید ، لکشمی کانت پیارے لال، حسن لال بھگت رام، وغیرہ ... جنھیں ہم ایک عرصے تک ایک ہی آدمی سمجھ رہے تھے لیکن وہ دو نکلے یا کہیں کہیں تو تین بھی تھے، جس لفظوں کی جوڑی نے ہمیں پریشان کیا ہوا تھا وہ ''یک جہتی و سلامتی'' بہت سے لوگوں سے ہم نے پوچھا بہت سارے لغت کھنگالے لیکن اس جوڑی کا پتہ نہیں لگا پائے۔
اکیلے اکیلے تو دونوں کا مفہوم ہمیں آتا تھا لیکن جب جوڑا بن جاتا تھا اور پھر سیاسی پارٹیوں کے ساتھ اس کا رشتہ پکا ہو گیا تو بات ہمارے ذہن سے اونچے لیول کی ہو گئی، یعنی فلاں نے پاکستان کی یک جہتی و سلامتی کے لیے یہ کیا وہ کیا ... یا پاکستان کی یک جہتی و سلامتی ہمیں جان سے بھی زیادہ عزیز ہے، عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ مذہبی جوش و خروش سے منائی گئی اور اس میں پاکستان کی یک جہتی اور سلامتی کے لیے دعائیں مانگی گئیں، لیکن پھر سوچا کہ خود آفات تو اپنے خلاف دعائیں مانگا نہیں کرتیں، خیر کافی پوچھ اور تحقیق و تفتیش کے بعد کچھ کچھ سمجھ میں آنے لگا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس ملک کو خدا ہر قسم کی آفات و بلیات سے محفوظ رکھے اور یکجہت یعنی متحد رہے، لیکن عملی طور پر جب ہم دیکھتے تھے تو پھر ڈگمگا جاتے کہ جو لوگ یکجہتی اور سلامتی کے لیے خود ہی خطرہ ہیں وہ کیسے اپنے آپ کو ''دور'' کرنے کی دعا مانگ سکتے۔
یہ تو وہی بات ہو گئی کہ ایک ہماری مسجد میں کسی کی گھڑی گم ہو گئی تھی اس کے لیے مسجد کے خادم جو ویسے ہی ایک اجڈ آدمی تھا لیکن زبردستی کا خادم بن بیٹھا اس سے اعلان کرنے کو کہا گیا اس نے لاؤڈ اسپیکر کھول کر اعلان کر دیا کہ فلاں صاحب کی گھڑی گم ہو گئی ہے یہ یہ نشانی ہے جس کو ملی ہو واپس کر کے ثواب دارین حاصل کریں، گھڑی تو خیر نہیں ملی لیکن کافی زمانہ گزر گیا تو وہ شخص جس نے اعلان کیا تھا اور اس مسجد وغیرہ سے بھی لاتعلق ہو گیا اس نے ہمیں اپنی تمام شیطانیوں کے بارے میں بتائے ہوئے کہا کہ جس وقت میں گھڑی کی گمشدگی کا اعلان کر رہا تھا گھڑی میری جیب میں تھی، جو لوگ دن رات پاکستان کی یک جہتی اور سلامتی کے پرخچے اڑاتے رہتے ہیں وہ اگر یک جہتی و سلامتی کی بات کریں یا دعا مانگیں تو عجیب تو لگے گا نا بھائی جان ... آپ کا کیا خیال ہے۔
اگر تمام لیڈروں کو بلا لحاظ چھوٹا بڑا پکڑ کر بحیرہ روم میں دھکیل دیا جائے تو پھر پاکستان مکمل طور پر ''یک جہت'' و سلامت نہیں ہو جائے گا؟ ہمیں پتہ تھا کہ اس موقع پر کوئی نہ کوئی لطیفہ دم ہلانے سے باز نہیں آئے گا اور وہی ہوا ایک پرانی کہانی جس کا کام ہی دم ہلانا ہے پھر دم ہلا رہی ہے سنتے ہیں کیا کہتی ہے، یہ وہی پرانی ہمارے گاؤں کے ٹھیکیدار کی کہانی ہے جو کھڑی فصلوں اور باغوں کی سوداگری کرتا تھا ایک دن ایک شخص نے اس سے کہا کہ تمہارا فلاں باغ جو ہے وہ چونکہ علاقے بھر میں اکیلا ہے اس لیے لوگ اس سے پھل چوری کر رہے ہیں ایسا کرو اس کے لیے کوئی رکھوالا رکھو اور اگر رکھوالا نہیں ملتا ہو تو میرا گھر اس کے پاس ہے مجھے ایک سو روپے دے دو میں رکھوالی کروں گا۔
ٹھیکیدار نے جیب میں ہاتھ ڈال کر اس کے ہاتھ پر رکھ دیا اور ساتھ ہی اس کا ہاتھ پکڑ کر بولا... دیکھو یہ پیسے رکھوالی کے نہیں ہیں تم بالکل بھی باغ کی رکھوالی مت کرو صرف اتنا کرو کہ خود ہی باز آ جاؤ اس باغ سے یہی بہت ہے، لیکن ہمارا پرابلم یہ ہے کہ یہاں معاملہ سو روپے کا نہیں ہے بلکہ کرسی کا ہے اگر ہمارے بس میں ہوتا تو ہم ان لوگوں کی خدمت میں جو ملک کی سلامتی اور یک جہتی کے لیے فکر مند ہیں کی خدمت میں وہ کرسی پیش کر کے گزارش کرتے کہ یہ لو کرسی اور ملک کی یک جہتی اور سلامتی کے لیے دعائیں مانگنے اور دبلا ہونے کی بھی ضرورت نہیں ہے صرف تم ہی اس کا پیچھا چھوڑ دو یہ بہت ہے۔
مجال ہے جو کوئی باہر کا خطرہ پاکستان کی یک جہتی و سلامتی کو آنکھ اٹھا کر بھی دیکھے البتہ یہ اندر جو خطرے بیٹھے ہوئے ہیں ان کا علاج لقمان حکیم کے پاس بھی نہیں تھا البتہ ایک حکیم ہے کہ وہ اگر چاہے تو اس کی دی ہوئی ایک گولی سے مکمل شفا یابی ہو سکتی ہے یہ ایک روسی حکیم ہے اور اس کا نام کلاشن کوف بتایا جاتاہے۔ ویسے ہم ملالہ سے بھی کہنا چاہتے ہیں کہ بیان دینا تو اب تمہارا روز کا کام ہو گیا ہے اس لیے الفاظ کا چناؤ ذرا یہ سوچ کر کریں کہ سارے پاکستانی تو اتنے اونچے درجے کا ذہن نہیں رکھتے الفاظ کو ذرا کم گاڑھا کر کے استعمال کریں۔