سینیٹر جان مکین کے اعترافات

ضرورت اس بات کی ہے کہ امریکا پاکستان کی دہشتگردی کے خلاف قربانیوں کے اعترافات کے عملی اظہار کی طرف توجہ دے


Editorial July 05, 2016
سینیٹر جان مکین کی سربراہی میں امریکی سینیٹ کے وفد نے وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ سرتاج عزیز کے ساتھ ملاقات کی۔ فوٹو: ٹوئٹر

امریکی سینیٹ کی آرمڈ فورسز کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر جان مکین کی سربراہی میں تین رکنی وفد نے شمالی وزیرستان کا دورہ کیا اور آپریشن ضرب عضب کے حوالے سے پاک فوج کی کامیابیوں کے بارے میں آگہی حاصل کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف کامیاب آپریشن پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا ہے اور اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ مثبت پیغام لے کر جارہے ہیں اور کانگریس کو انسداد دہشتگردی اور معاشی ترقی کے لیے پاکستان کی امداد جاری رکھنے کا کہیں گے۔ سینیٹر جان مکین کے ہمراہ وفد کی آمد پاک امریکا تعلقات کے حالیہ تناظر میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر ایف سولہ کا معاملہ سینیٹ میں ہوتا تو 100 میں سے 80 سینیٹر حمایت کرتے ۔ بلاشبہ اس وقت امریکی انتظامیہ پر بھارت نوازی کا خمار چڑھا ہوا ہے ، کانگریس میں ماضی جیسی گرمجوشی قدرے کم ہوگئی ہے تاہم جان مکین کی یہ یقین دہانی کہ انھوں نے فاٹا میں ضرب عضب آپریشن کی کامیابی کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ۔

کاش کانگریس کے دیگر ارکان بھی شمالی وزیرستان جاتے اور کامیاب فوجی آپریشن کے نتائج اپنی آنکھوں سے دیکھتے، اب تو جان مکین کی معروضات ان لاعلم امریکیوں کے لیے ایک عینی شاہد کے ناقابل تردید اعترافات اور مشاہدات ہیں جو اٹھتے بیٹھتے پاکستان پر الزام عائد کرتے ہیں اور دہشتگردی اور افغان امن عمل کی آڑ میں ڈو مور کی گردان کرتے ہوئے نہیں تھکتے، اتوار کو آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق امریکی وفد نے آپریشن ضرب عضب کے نتیجہ میں دہشت گردوں سے پاک کرائے گئے علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں، کمیونیکیشن اور انفرااسٹرکچر کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے بعد پاک افغان سرحد کے قریب شمالی وزیرستان کے پورے علاقہ کو دہشتگردوں سے مکمل طور پر پاک کرنے پر پاک فوج کی بھرپور تعریف کی۔ سینیٹر جان مکین کی سربراہی میں امریکی سینیٹ کے وفد نے وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ سرتاج عزیز کے ساتھ ملاقات کی۔ وفد کے دیگر ارکان میں سینیٹر لنڈسے گراہم، سینیٹر جوزف ڈونیلی اور سینیٹر بنجمن ساسی شامل تھے۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے خارجہ امور طارق فاطمی اور سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری بھی اس موقع پر موجود تھے۔ مشیر خارجہ نے دونوں ملکوں کے مابین باقاعدگی سے اعلیٰ سطح پر رابطوں کی اہمیت کا اعادہ کیا اور کہا کہ باہمی دلچسپی کے امور اور دیگر معاملات سے آگاہی کے لیے بالخصوص پارلیمانی تبادلے انتہائی مفید ہیں۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ امریکا پاکستان کی دہشتگردی کے خلاف قربانیوں کے اعترافات کے عملی اظہار کی طرف توجہ دے اور پاکستان پر دباؤ کی حکمت عملی کے بجائے اس کی جائز دفاعی ضروریات کا ادراک کرے۔