غیرمعیاری ایل پی جی کی درآمدات عروج پرپہنچ گئی

 شعبے کو ریگولیٹ کرنیکی پالیسی نہ آنے اور چیئرمین اوگرا و ممبرآئل کی تقرری میں تاخیروجہ بنی


Ehtisham Mufti July 05, 2016
 شعبے کو ریگولیٹ کرنیکی پالیسی نہ آنے اور چیئرمین اوگرا و ممبرآئل کی تقرری میں تاخیروجہ بنی فوٹو: فائل

ملک میں ایل پی جی سیکٹرکوریگولیٹ کرنے کی پالیسی متعارف نہ کرائے جانے اور چیئرمین اوگرا، ممبرآئل کی تقرری میںتاخیرکے باعث غیرمعیاری ایل پی جی کی درآمدات عروج پرپہنچ گئی ہیں۔

ایل پی جی امپورٹ سیکٹر کے باخبرذرائع کے مطابق ملک میں گزشتہ چند ماہ سے ایل پی جی کی آڑ میں سستی لاگت کی حامل ''پروپین'' کی درآمدات بڑھ گئی ہیں۔ صارفین کے حساس اشاریہ میں شامل ہونے کے باوجود ملک میں مطلوبہ معیارکی ایل پی جی کی درآمدات اورکراس فلنگ کی جانچ پڑتال کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔ ذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ غیرمعیاری ایل پی جی کی90 فیصد درآمدات ایران سے ہورہی ہیں جس میں ایل پی جی کے مرکبات 40 فیصد پروپین اور60 فیصد بیوٹین کے تناسب کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا جارہا ہے جس سے نہ صرف معیاری ایل پی جی کے درآمدکنندگان کی مشکلات بڑھ گئی ہیں بلکہ ایل پی جی میں مطلوبہ حرارتی استعداد نہ ہونے کے سبب لاکھوں صارفین بھی مالی نقصان اٹھارہے ہیں۔ اس ضمن میں ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے سینئروائس چیئرمین محمدعلی حیدر نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ گزشتہ چند ماہ میں غیر معیاری ایل پی جی کی اندھادھند درآمدات کی وجہ سے ملک میں غیرفروخت شدہ ایل پی جی کے ذخائر 13000 ٹن تک پہنچ گئے ہیں۔

انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ ملک میں درآمد ہونے والی90 فیصد ایل پی جی کی بی ٹی یومطلوبہ لیول کی نہیں ہیں جس کے نتیجے میں صارفین رائج قیمتوں کی ادائیگیوں کے باوجود کم حرارتی استعداد کی حامل ایل پی جی خریدنے پر مجبورہوکر بھاری نقصان اٹھارہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وزارت پٹرولیم وقدرتی وسائل کی جانب سے ایل پی جی امپورٹ سیکٹر کوریگولیٹ کرنے کیلیے سال2016 میں ایک پالیسی مرتب کی گئی تھی لیکن اس پالیسی کواوگرا کے سابق چیئرمین نے نامعلوم وجوہ کی بنا پرمسترد کردیا تھا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ گزشتہ دو ماہ سے وزارت نے انتہائی تاخیر سے حال ہی میںاوگرا کی نئی چیئرپرسن کی تقرری کی ہے تاہم نئی چیئرپرسن نے تاحال اپنے عہدے کا چارج نہیں سنبھالا ہے اور اسی طرح ممبرآئل اوگرا کی نشست بھی تاحال خالی ہے جس کے سبب گزشتہ دو ماہ سے ایل پی جی اور سی این جی سیکٹر کے لائسنس کا اجراکا کام منجمد ہوگیا ہے جبکہ درآمدہ ایل پی جی کی جانچ پڑتال کا نظام بھی مفلوج ہونے سے ایل پی جی انڈسٹری کا کلچر تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔

ملک میں توانائی کے جاری سنگین بحران میں اوگرا جیسے قومی ادارے کے نامکمل کورم سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ متعلقہ وزارت اس حساس معاملے کے حل میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی ہے۔

مقبول خبریں