بنگلہ دیش شاید اب پاکستانی دکھ سمجھ پائے

افسوس کی بات ہے کہ مشکل وقت میں کوئی ایشیائی ملک پاکستان کی مدد کیلیے سامنے نہ آیا.


Saleem Khaliq July 05, 2016
افسوس کی بات ہے کہ مشکل وقت میں کوئی ایشیائی ملک پاکستان کی مدد کیلیے سامنے نہ آیا:فوٹو:فائل

HONG KONG: ''پاکستان نہیں جائیں گے، وہاں کھلاڑیوں کی سیکیورٹی کو خدشہ ہے''

''عدالت نے ٹیم کو بھیجنے سے روک دیا ہے''

زیادہ پرانی بات نہیں بنگلہ دیشی کرکٹ آفیشلزنے ایسے کئی بیانات میڈیا پردیے تھے، ایک سے زائد بار وعدہ کر کے دورے سے انکار نے پی سی بی کیا شائقین کو بھی خاصا برہم کر دیا تھا، سب کی یہ رائے تھی کہ جس بچے کو انھوں نے انگلی پکڑکرچلنا سکھایا اب وہ بڑا ہو کر ہاتھ چھڑا کر بھاگ رہا ہے، ٹیسٹ اسٹیٹس دلانے کیلیے پاکستان نے اتنی مدد کی جس کاکوئی اور سوچ بھی نہیں سکتا تھا، اس وقت اونچی اڑان اڑنے والے بی سی بی کو کسی بات کی پروا نہ تھی مگر شاید اب وہ پاکستانی دکھ کو سمجھ سکے، ہمارے ملک میں کروڑوں لوگ کرکٹ سے محبت کرتے ہیں مگر بدقسمتی سے سیکیورٹی صورتحال نے اسے انٹرنیشنل مقابلوں کیلیے نو گو ایریا بنا دیا، زمبابوے کی غیراہم ٹیم سے ہی لاہور میں چند میچز کے سوا برسوں بیت گئے یہاں کوئی ٹیسٹ ، ون ڈے یا ٹی ٹوئنٹی نہیں ہوا، ہمیں اپنی کرکٹ یو اے ای میں کھیلنا پڑ رہی ہے ۔

اس سے ملک میں کرکٹ کا شوق کم ہوا ساتھ ہی نیا ٹیلنٹ آنا بھی محدود ہو چکا ہے، افسوس کی بات ہے کہ مشکل وقت میں کوئی ایشیائی ملک پاکستان کی مدد کیلیے سامنے نہ آیا، بھارت تو خیر خوش بیٹھا ہو گا کہ یہاں کرکٹ نہیں ہو رہی،سری لنکا کی تشویش جائز ہے کیونکہ پلیئرز یہاں سے گولیاں کھا کر گئے تھے، ان کو دوبارہ اعتماد دلانے کیلیے ضروری تھا کہ چند دیگر ٹیمیں آ کر کھیلیں، ایسے میں بنگلہ دیش کے پاس سنہری موقع تھا کہ وہ احسان اتارتے ہوئے ٹیم پاکستان بھیجے لیکن ایسا نہ ہوا، افسوس اب وہاں بھی حالات ایسے ہو چکے کہ وہ پاکستان کی طرح کرکٹ و دیگر ٹیموں کیلیے نوگوایریا بنتا جا رہا ہے، گذشتہ برس آسٹریلیا نے ٹور سے انکار کیا اور انڈر 19 ورلڈکپ میں بھی ٹیم کو نہ بھیجا، اب انگلینڈ نے دورے سے تقریباً معذرت کر لی اور کینگروز بھی دوبارہ نہ آنے کا ذہن بنا چکے، اسی طرح دیگر بڑی ٹیمیں بھی وہاں نہیں جائیں گی۔

پھر بنگلہ دیش کو بھی نیوٹرل وینیو تلاش کرنا ہوگا، سری لنکا میں اب حالات بہتر مگر طویل عرصے وہاں بھی بڑے بڑے واقعات ہوتے رہے اور ٹیمیں نہیں جاتی تھیں صرف پاکستان نے اس مشکل وقت میں ان کا ساتھ دیا تھا، بھارت اپنی دولت کے بل بوتے پر بچا ہوا ہے ورنہ گورے ڈرتے ڈرتے ہی جاتے ہیں،اس کی وجہ بھاری رقم کی کشش بنتی ہے، ممبئی حملوں کے بعد انگلش ٹیم واپس چلی گئی تھی مگر پھر مستقبل میں نہ کھیلنے کی دھمکی دے کر اسے واپس بلایا گیا،اگر ہم حقیقت کا جائزہ لیں تو اس وقت دنیا کے کسی بھی ملک کو محفوظ قرار نہیں دیا جا سکتا، کہیں بھی کبھی کچھ بھی ہو سکتا ہے، اگر ایسے میں سب ڈر کر گھر بیٹھ جائیں تو یہ ممکن نہیں، اب اس حقیقت کے ساتھ جیتے ہوئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے، اس وقت ایشیا میں مسئلہ زیادہ ہے تو سب سے پہلے یہاں کے کرکٹ بورڈز کو مل بیٹھ کر کوئی حکمت عملی بنانا ہوگی، پاکستان کے بعد اب بنگلہ دیش کل کو کوئی اور ملک نو گو ایریا بنے گا تو کیا سب ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں گے۔

سب سے پہلے ضروری ہے کہ سب ایک دوسرے کا دکھ سمجھیں، یورپ کی مثال سامنے ہے، انگلینڈ میں بم دھماکوں کے باوجود آسٹریلوی ٹیم واپس نہیں گئی، پیرس میں فٹبال میچ کے دوران دھماکے ہوئے مگر فرانس میںان دنوں یورو کپ کے میچز جاری ہیں، کسی ٹیم نے ٹور سے انکار نہیں کیا، بس اسی اسپرٹ کی ضرورت ہے،جب تک اتحاد نہیں ہو گا کوئی فائدہ نہیں، سب سے پہلے اپنی ملکی سیکیورٹی پر بھروسہ ہونا چاہیے، بدقسمتی سے پی سی بی کے ساتھ ایسا نہیں ہے، لاہور میں زمبابوے سے سیریز کے دوران شاید کوئی ایسا تلخ تجربہ ہوا جس کی وجہ سے اب کرکٹ حکام کسی ٹیم کو بلانے میں سنجیدہ نہیں ہیں، افسوس تو اس بات کا ہے کہ افغانی کرکٹرز بھی یہاں آنے سے گریز کر رہے ہیں، پاکستان کرکٹ بورڈ پہلے کسی ٹیم کو ٹور پر قائل کرنے کی کوشش کرے،ضروری نہیں کہ اسی سال میچز ہو جائیں ، ایک منصوبہ بنایا جائے پھر اس پر عمل کریں، کرائوڈ کیسے آئے گا ۔

کتنے لوگوں کو آنے کی اجازت ہو گی، ٹیموں کا سیکیورٹی پلان کیا ہو گا، یہ سب طے کرنے کے بعد دوسروں کو قائل کرنے کی کوشش کریں آج نہیں تو کل کوئی نہ کوئی تو مان ہی جائے گا، ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنے سے کچھ نہیں ہونے والا، نجم سیٹھی آئندہ برس پی ایس ایل ٹو کا فائنل لاہور میں کرانے کی کوشش کر رہے ہیں اگر ایسا ہو گیا تو یہ بہت بڑی کامیابی ہو گی، اسی طرح بنگلہ دیش کو بھی سمجھ لینا چاہیے کہ گورے نہیں آ رہے تو کم از کم آپس میں تو کھیلیں، کامیاب انعقاد سے دیگر کو بھی حوصلہ ملے گا اور وہ مستقبل میں سیریز کیلیے تیار ہو جائیں گے، اب ماضی جیسے حالات واپس آنا ممکن نہیں ہے، اب تو ومبلڈن جیسے ایونٹ میں بھی مسلح گارڈز تعینات ہوتے ہیں، امریکا میں بھی آئے دن کچھ نہ کچھ ہوتا رہتا ہے، یہ دنیا محفوظ نہیں رہی مگر جینا تو یہیں ہے، اس لیے بہترین حفاظتی اقدامات کر کے مقابلوں کا انعقاد کریں۔

اس سے عوام کو تفریح کا کوئی موقع تو ملے گا، چونکہ اس وقت بنگلہ دیش پر مشکل وقت آیا ہے اور انگلینڈ و آسٹریلیا اسے سرخ جھنڈی دکھا رہے ہیں تو پہلے اسے صورتحال سے سبق لینا چاہیے،پی سی بی کو بھی اپنی بات سمجھانے کا اچھا موقع ملا ہے،بنگلہ دیشی بورڈ کو اب قائل کرنا چاہیے کہ سب ایک ہی کشتی کے سوار ہیں کم از کم آپس میں تو اتحاد رکھیں، ایک زمانے میں کرکٹ میں ایشین بلاک مضبوط تھا مگر پھر وہ غیرمحسوس طور پر ٹوٹ گیا، اب وقت آیا ہے کہ اسے دوبارہ زندہ کیا جائے، یورپیئن فٹبال کی مثال سامنے لیتے ہوئے ایشین کرکٹ کو ایسا مضبوط بنائیں کہ کوئی ٹیم سیکیورٹی صورتحال کو جواز بنا کر دوسرے کا بائیکاٹ نہ کرے،اگر ایسا نہ ہوا تو شاید یو اے ای کو جلد ہی ملک میں مزید کئی کرکٹ گرائونڈز بنانا پڑیںگے۔