کراچی بدامنی کیس میں چشم کشا ریمارکس

ایک جمہوری نظام میں عدلیہ ریاستی ہئیت ترکیبی میں ایک اہم ستون کا درجہ رکھتی ہے


Editorial July 05, 2016
اعلیٰ حکام ان کلیدی ریمارکس پرغور کریں، اسی میں صوبہ کی بھلائی ہے۔ فوٹو: فائل

KARACHI: سپریم کورٹ نے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ سجاد علی شاہ کے بیٹے کے اغوا اور کراچی میں دہشتگردی، زمینوں پر قبضے، اسٹریٹ کرائم میں اضافے سمیت دیگر جرائم کے خاتمے کے لیے پولیس اور دیگر اداروں کے اقدامات کے متعلق دو ہفتے میں رپورٹ طلب کرلی۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی، جسٹس امیر مسلم ہانی اور جسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل لارجر بنچ نے پیر کو بدامنی کیس کے وسیع تر تناظر میں سندھ میں طرز حکمرانی کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ، عدالت عظمیٰ نے قراردیا کہ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے بیٹے اویس شاہ کے اغوا میں ایس ایس پی جنوبی نے سہولت کار کا کردار ادا کیا۔

اس کے ساتھ ساتھ سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کچھ ملزمان ناقص تفتیش کی وجہ سے اور کچھ کو پیرول پر چھوڑ دیا جاتا ہے ، حکومت سندھ نے متوازی عدالتی نظام قائم کررکھا ہے ۔ واضح رہے ایک دوسرے مقدمے میں اس پہلے بھی عدلیہ انتباہ کرچکی ہے کہ عدالتی فیصلوں کی تحقیر کی جارہی ہے ۔ صوبہ میں لاقانونیت، پولیس کے محکمہ میں بے دریغ سیاسی مداخلت کے رجحان کی حوصلہ شکنی ناگزیر ہے جب کہ عدلیہ ریمارکس حاکمانہ مائنڈ سیٹ کو ترک کرنے کے لیے دے رہی ہے بنا بریں ایسے انتباہ گہرے مضمرات اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں، سندھ حکومت کے لیے صائب انداز عمل یہی ہے کہ وہ عدالتی احکامات کی مکمل پیروی کرے اسی میں جمہوری عمل کی کامیابی ، قیام امن اور دہشتگردی و مجرمانہ عناصر کی پھیلائی ہوئی طوائف الملوکی کا تدارک ممکن ہے۔

دنیا کا کوئی جمہوری نظام فعال اور آزاد عدلیہ سے مڈبھیڑ یا دانستہ تصادم مولتے ہوئے قانون کی حکمرانی کے قیام میں اپنا کردارادا نہیں کرسکتا، اس سے معاشرے میں افراتفری فروغ پا سکتی ہے جس کا صوبہ سندھ متحمل نہیں ہوسکتا۔ پولیس کو بہر حال اپنی کارکردگی بہتر بنانی چاہیے تاکہ محکمہ جاتی شفافیت کی کوئی مناسب اور مثبت دلیل بھی عدلیہ کے روبرو پیش کی جاسکے۔ اس لیے امید کی جانی چاہیے کہ سندھ انتظامیہ اور پولیس حکام عدالتی فیصلوں کا احترام کریں گے جب کہ روش بدلتے ہوئے کراچی کی مخدوش صورتحال کی فوری اصلاح کے لیے اپنی جملہ توانائیاں صرف کریں گے۔ ارباب اختیار عدلیہ کے تقدس اور اس کے احترام کا خیال رکھیں، ایک جمہوری نظام میں عدلیہ ریاستی ہئیت ترکیبی میں ایک اہم ستون کا درجہ رکھتی ہے، کراچی ملک کا اقتصادی ہب ہے اسے قانون شکن عناصر کے پیدا کردہ بحران کا سامنا ہے۔

جس کے لیے عدالتی فیصلوں اور فاضل ججز کے چشم کشا ریمارکس اور بروقت احکامات پر ان کی روح کے ساتھ عمل کرنے کی ضرورت ہے، چنانچہ اس تناظر میں اغوا برائے تاوان کے مجرموں کو سزا کے 6ماہ بعد ہی اچھے کردار کا حامل قرار دے کر پے رول پر رہا کر دیا جانا کہاں کی دانشمندی ہے، عدلیہ نے قراردیا کہ حالت یہ ہے کہ جیل کے اندر قرآن حفظ کرنے والے کو سزا میں رعایت دی جاتی ہے تو سب ہی کاغذوں میں حافظ ہو جاتے ہیں، سب ملکر سسٹم کو برباد کر نے پر لگے ہوئے ہیں، عدالتیں سزائیں سناتی ہیں اور ان جیسے حکام انھیں پے رول پر رہا کر دیتے ہیں۔ اعلیٰ حکام ان کلیدی ریمارکس پرغور کریں، اسی میں صوبہ کی بھلائی ہے۔