میرا لالہ آگیا اب ذرا باہر تو نکل

اور کسی کو بھی موضوع یا ٹاپک یا اسٹوری تلاش کرنے کے لیے زیادہ محنت کھوج اور دربدر ہونے کی ضرورت نہیں پڑے گی


Saad Ulllah Jaan Baraq July 06, 2016
[email protected]

لاہور: سب سے پہلے تو ہم اپنے کالم نگار بھائیوں، خبر نگار چچا زادوں، تجزیہ نگار استادوں اور اینکر نگار غم زادوں کو مبارک باد دینا چاہیں گے کہ علامہ ڈاکٹر پروفیسر حضرت طاہر القادری صاحب تشریف لا رہے ہیں، لے آئے ہیں

تو ہوا جلوہ گر مبارک ہو

ریزش سجدہ جبین نیاز

اور کسی کو بھی موضوع یا ٹاپک یا اسٹوری تلاش کرنے کے لیے زیادہ محنت کھوج اور دربدر ہونے کی ضرورت نہیں پڑے گی کیوں کہ صاحب موصوف جب چلتے ہیں، بیٹھتے ہیں، اٹھتے ہیں، بولتے ہیں تو موضوعات ان لہروں کی طرح خودبخود پھیلتے چلے جاتے ہیں جس طرح کسی جھیل میں پتھر پھینکنے سے پھیلتی ہیں،

تم شہر میں ہوتے ہو تو کیا غم جب اٹھیں گے

لے آئیں گے بازار سے جا کر دل و جاں اور

ویسے تو ہم پر غالب پسندی بھی کچھ زیادہ سوار رہتی ہے لیکن نہ جانے کیا بات ہے کہ علامہ صاحب کا ذکر آتے ہی غالب کچھ زیادہ سوار رہتی ہے لیکن نہ جانے کیا بات ہے کہ علامہ صاحب کا ذکر آتے ہی غالب کچھ زیادہ ہی ہم پر غالب آجاتے ہیں، ویسا ہی جیسا کہ خود انھوں نے خود ہی ''پیمانہ صبا'' کے بارے میں بتایا ہے کہ پھر دیکھیے انداز گل افشانی گفتار ۔ چنانچہ علامہ صاحب کے نزول اجلال کے ساتھ ہی ہم پر غالب طاری ہو گیا لیکن ایک غزل دیکھ کر ہی تو ہم انگشت بدندان اور ناطقہ سربگریباں ہو کر رہ گئے اور غالب پر یہ عقیدہ اور پختہ ہو گیا کہ ان کو مستقبل شناسی کے علم میں یدطولیٰ حاصل تھا مثلاً اس غزل کی ابتداء ہی اس سے کرتے ہیں کہ

نے، گل، نغمہ ہوں نہ پردہ ساز

میں ہوں اپنی شکست کی آواز

کیا بات ہے اس سے زیادہ مستقبل بینی اور علامہ شناسی اور کیا ہو سکتی ہے ، کچھ ایسا لگتا ہے کہ ہم خود بھی علامہ کے دل ہی دل میں فین ہوں بلکہ دل سے باہر بھی ان کے علم و مرتبہ کے قائل ہیں لیکن جب وہ سیاست میں آجاتے ہیں تو نہ جانے کیوں ، دل میں کچھ کچھ بلکہ بہت کچھ ہونے لگتا ہے، ویسے ان کی یادداشت بھی غضب کی ہے ۔ ایک برس کا طویل عرصہ گزرنے کے بعد ان کو یاد ہے کہ یہاں ماڈل ٹاؤن میں کوئی سانحہ ہوا تھا بلکہ یہ بھی یاد ہے کہ اس کا حکم شہباز شریف نے دیا تھا حالانکہ شہباز شریف کو بھی شاید یاد نہ ہو کہ انھوں نے ایسا کوئی حکم دیا تھا یا نہیں، ویسے ہمیں لگتا ہے کہ حضرت علامہ صرف ماڈل ٹاؤن کی ہی نہیں بلکہ دھرنا بمقام اسلام آباد کی سالگرہ منانے بھی آئے ہیں، ماڈل ٹاؤن کے شہداء اور اسلام آباد کے دھرنے پر اس سے بہتر تبصرہ اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا کہ

پھول تو دو دن بہار جانفزا دکھلا گئے

حسرت ان ''دھرنوں'' پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے

خیر کہنے کا مطلب یہ ہے کہ حالات بڑے اچھے جارہے ہیں خاص طور پر جناب کپتان خان بہت اکیلے پڑ رہے تھے، شاید اس مرتبہ کچھ ہو ہی جائے، یعنی وہ ہو جائے جو نہیں ہوا یا جس کی توقع تھی لیکن ایک بات ہمیں بری طرح ستا رہی ہے وہ مشہور و معروف کہانی تو آپ نے سنی ہی ہو گی جس میں ایک گھوڑی پانی میں لیٹ گئی تھی اور لڑکی نے بتایا تھا کہ یہ عادت اس کی خاندانی ہے، مطلب یہ کہ ''عادت'' جس کے بارے میں رحمن بابا نے کہا ہے کہ ''لت'' جا سکتی ہے لیکن عادت نہیں ۔ خدا نہ کرے خدا نہ کرے جو ہمارا ''پائے سخن'' کسی ''روسیاہ'' کی طرف ہو یہ تو ویسے ہی بات میں بات آگئی ورنہ ہم جانتے ہیں کہ اب والی قسط میں کوئی تکنیکی یا گھوڑی والی خرابی پیدا نہیں ہو گی اور آخری قسط مکمل طور پر ٹیلی کاسٹ ہو جائے گی، اب یہاں پہنچ کر ہماری ترکی تمام ہوئی لیکن موضوع کو آگے بڑھانے کے لیے مواد ختم ہو گیا ہے تو چلیں پہلے یہ ''ترکی تمام'' والا لطیفہ ہو جائے۔

یہ دو آدمیوں کا قصہ ہے جو ترکستان گئے تھے لیکن ترکی زبان سے ناواقف تھے مگر اپنا بھرم رکھنے کے لیے ایک دوسرے کو باور کرا چکے تھے کہ مجھے ترکی آتی ہے، ترکستان میں پہلے ترک سے سابقہ پڑا تو ایک نے ترکی میں کہا کہ شہر کو کون سا راستہ جاتا ہے ۔ ترک نے پوچھا کون سا شہر ۔؟ اب بے چارے کو صرف یہی ایک جملہ ترکی کا آتا تھا چنانچہ اس نے خود پیچھے ہٹ کر دوسرے والے کو اگے کرتے ہوئے کہا کہ میری ترکی تو تمام ہو گئی، اب تو ہی اپنی ترکی نکال، اس لطیفے کا تعلق موضوع سے مت جوڑیئے، یہ تو ہم نے یونہی کالم کا پیٹ بھرنے کے لیے سنایا ہے، چلیے جب غیر متعلق باتوں کا سلسلہ شروع ہو ہی چکا ہے تو غالب کا ایک غیر متعلقہ شعر بھی ہو جائے گا کہ

حضرت ناصح گر آویں دیدہ و دل فرش راہ

کوئی مجھ کو یہ تو سمجھا دو کہ سمجھائیں گے کیا؟

اب غیر متعلق باتوں کا سلسلہ چل ہی نکلا ہے تو ایک حقیقہ بھی ہو جائے جو پرانا ہے اور ہم اکثر سناتے رہتے ہیں لیکن ''نیا'' تو کسی کے پاس بھی کچھ نہیں ہوتا، دیکھیے دیکھیے بات کو موضوع سے مت جوڑیئے، ہمارا اشارہ جناب کپتان اور علامہ جی کی طرف بالکل بھی نہیں ہے ان کے پاس تو پرانا کچھ بھی نہیں سب کچھ نیا ہی نیا ہے۔