اگلے سال کا سوال
خود کش حملہ آورجیکٹ میں لگے ہوئے بموں کو موبائل فون کےذریعے سگنل دے کر الیکٹرانک سرکٹ مکمل کرکے متحرک کردیا جاتا ہے۔
محرم الحرام کا پہلا عشرہ 50 کے قریب افراد کی ہلاکت، سیکڑوں زخمیوں، ملک بھر میں خوف و ہراس اور موبائل، ٹیلی فون اور موٹر سائیکل کے استعمال پر پابندی میں گزرگیا۔
وزیر داخلہ رحمن ملک کے مطابق کراچی، راولپنڈی، شانگلہ ہل، ڈیرہ اسماعیل خان تک دہشت گردی کے واقعات محدود ہوئے ، اسے انھوں نے اپنی حکومت کی حکمت عملی کی کامیابی قرار دیا۔ تاریخ کے طالب علموں کا کہنا ہے کہ گزشتہ صدی کے پہلے 12 برسوں میں ہندو مسلم تضاد اسی طرح ابھرا تھا، جس کا منطقی نتیجہ 40 کی دہائی کے وسط میں برآمد ہوا تھا۔ مذہبی انتہا پسندی کی جڑوں کو ختم کرنے اور ریاست کی عملداری قائم کرنے کے لیے اب تک محض نمائشی اقدامات پر اکتفا کیا گیا۔ اس صورتحال میں یہ سوال اہم ہوگیا ہے کہ مستقبل میں ملک میں کیا ہوگا؟ محرم الحرام کے شروع ہوتے ہی وزیر داخلہ رحمن ملک متحرک ہوگئے تھے۔
انھوں نے پہلے دن کراچی اور کوئٹہ میں موٹر سائیکل استعمال کرنے پر پابندی لگادی، اس کے ساتھ ہی موبائل فون سروس معطل کرنے کا اعلان کیا۔ رحمن ملک نے جیسے ہی موٹر سائیکل پر پابندی کا اعلان کیا، اس وقت کراچی میں سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کا سالانہ عشائیہ ہورہا تھا۔ چیف جسٹس مشیر عالم کے سامنے سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر نے غریبوں کی سواری پر پابندی کا معاملہ اٹھایا۔ چیف جسٹس نے آئین کے انسانی حقوق کے باب کی بالادستی کے تحت اس فیصلے کو معطل کیا مگر کوئٹہ میں پابندی برقرار رہی۔ اگرچہ سندھ ہائی کورٹ نے بعد میں موٹر سائیکل پر پابندی کے بارے میں ایک جامع فیصلہ دیا اور ڈبل سواری پر پابندی عاشورے کے آخری تین دنوں تک محدود ہوئی مگر عاشورے کے آخری تین دنوں میں موبائل فون پر پابندی کے ساتھ وائرلیس سروس بھی پابندی کی زد میں آگئی،یوں 10 محرم تک پاکستان نقل و حمل اور رابطوں میں مشکل پیش آتی رہی ۔
وزیر داخلہ رحمن ملک کی یہ بات درست ہے کہ موبائل اور موٹر سائیکل دہشت گردوں کے موثر ہتھیار بن گئے ہیں۔ ٹیلی کمیونیکیشن کے ایک ماہر اربازخان کا کہنا ہے کہ موبائل فون خودکش حملہ آور اور دھماکا کرنے والے افراد کے درمیان الیکٹرونک سرکٹ بن جاتا ہے اور ریموٹ کنٹرول بم اور خود کش حملہ آور جیکٹ میں لگے ہوئے بموں کو موبائل فون سے مقررہ وقت پر کال ملا کر یا ایس ایم ایس کے ذریعے سگنل دے کر الیکٹرانک سرکٹ مکمل کرکے بموں کو متحرک کردیا جاتا ہے۔ یہ بم موٹر سائیکل میں چھپا دیا جائے تو موٹر سائیکل کو مقررہ ٹارگٹ پر پہنچانے میں آسانی ہوتی ہے، جب بم پھٹتا ہے اور بم کے خول میں موجود بال بیرنگ کے ٹکڑے کانٹے والے چھروں میں تبدیل ہوتے ہیں تو اس کے ساتھ موٹر سائیکل کے ٹکڑے بھی فضا میں پھیل کر یہ کام انجام دینے لگتے ہیں اس طرح موٹر سائیکل سے نقصان کی شرح بڑھ جاتی ہے، مگر کیا موبائل فون سروس اور موٹر سائیکل پر پابندی لگا کر دہشت گردی کا مستقل تدارک کیا جاسکتا ہے؟
نائن الیون کے بعد سے دہشت گردی میں شدت آئی ہے، پہلے انتہا پسندوں کے اڈے افغانستان اور اس کے قبائلی علاقوں میں تھے مگر یہ دہشت گرد پہلے شمالی اور جنوبی وزیرستان پھر بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے قبائلی علاقوں تک پہنچ گئے۔ غیر ملکی ذرایع ابلاغ کی رپورٹوں میں اس بات کو بھی اچھالا جارہا ہے کہ پاکستانی اسٹبلشمنٹ کا ایک حصہ انتہا پسندوں کی مدد کررہا ہے مگر اس حقیقت پر توجہ دینے کے بجائے غیر ملکی ہاتھ کو تلاش کرنے پر زور دیا گیا۔
یہی وجہ ہے کہ پرویز مشرف دور میں کوئٹہ اور خیبر پختونخوا کے شہر دہشت گردوں کے حملوں کی زد میں آئے مگر موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سوات پر مولانا فضل اﷲ کی قیادت میں مذہبی انتہا پسندوں نے قبضہ کیا ۔ دہشت گردراولپنڈی میں جی ایچ کیو کی عمار ت ، پریڈ گرائونڈکی مسجد اور میرٹ ہوٹل کو نشانہ بنا چکے ہیں۔ لاہور میں ایف آئی اے اور آئی ایس آئی کی عمارتوں ، پولیس ٹریننگ مرکز، قادیانیوں کی عبادت گاہ کو نشانہ بنایا گیا۔ کوئٹہ میں ہزارہ منگول برادری کو نشانہ بنایا گیا، اس کے ساتھ سیاسی اور لسانی بنیادوں پر ٹارگٹ کلنگ اور سیاسی کارکنو ں کی لاشوں کے ملنے کا سلسلہ شروع ہوا۔
کراچی میں گزشتہ پانچ سال کے دوران سیاسی، لسانی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر قتل، اغوا برائے تاوان، بھتے وصول کرنے کے رجحان اور اسٹریٹ کرائمز میں اتنی تیزی آئی کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اراکین پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کے ارکان اور ان کے اہل خانہ بھی محفوظ نہیں رہے۔ اگر گزشتہ 12سال کے دوران دہشت گردی کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا جائے تو یہ افسوسناک حقیقت سامنے آتی ہے کہ ہرآنے والے محرم الحرام کا مہینہ زیادہ برے حالات کے ساتھ آیا۔
دو سال قبل کراچی میں عاشورہ کے جلوس میں دھماکے میں 50 سے زیادہ افراد جاں بحق ہوئے تھے، اس سال چہلم کے جلوس میں آنے والے افراد کی بس پر حملے میں متعدد افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ پولیس نے 10 محرم کے دھماکے کے الزام میں ایک کالعدم مذہبی تنظیم کے کارکنوں کو گرفتار کیا تھا مگر اس تنظیم کے کمانڈوز نے کراچی سٹی کورٹ میں مقدمے کی پیشی کے لیے آنے والے اپنے ان ساتھیوں کو رہا کرایا تھا۔ پولیس ان ملزمان کو پھر گرفتار نہیں کرپائی اور یہ معاملہ متعلقہ عدالت اور پولیس کی پراسیکیوشن برانچ کی فائلوں میں دب کررہ گیا۔ کراچی کے مضافاتی علاقوںمیں انتہا پسندوں نے اپنی کمین گاہوں کو اتنا مضبوط کیا کہ وہاں ٹی وی کیبل نیٹ ورک بند کردیے گئے۔ سپریم کورٹ کو ایک حکم کے ذریعے انتظامیہ کو ہدایت دینی پڑی کہ کراچی میں طالبان کے خلاف آپریشن کیا جائے۔
بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ پولیس کا انٹیلی جنس نیٹ ورک مفلوج ہوگیا ہے۔ دہشت گردوں نے خفیہ عسکری ایجنسیوں کے دفاتر پر حملے کیے ہیں، ان ایجنسیوں کے بہت سے افسران اور جوان حملوں میں شہید ہوئے ہیں مگر پولیس اور متعلقہ خفیہ ایجنسیوں میں مثالی تعاون نظر نہیں آتا ۔ سندھ کے سابق آئی جی واجد درانی سپریم کورٹ میں یہ بیان دے چکے ہیں کہ سندھ پولیس میں 40 فیصد سے زیادہ تقرریاں سیاسی بنیادوں پر ہوئی ہیں اور انھیں گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے عہدوں کے لیے تبادلوں اور تعیناتی کا اختیار نہیں ہے۔ بلوچستان میں ایک فیچر فلم کی شوٹنگ کے لیے جب این او سی حاصل کرنے کے لیے رجوع کیا گیا تو مخدوش حالات کی بناء پر معذرت کرلی گئی مگر اس فلم کی پروڈیوسر کا کہنا ہے کہ کچھ دے دلا کر این او سی حاصل کیا گیا۔لیاری میں اب بھی گینگ وار لارڈزکی بادشاہی ہے۔
وہاں گن کلچر سے خوفزدہ عوام کے لیے کہا جاتا ہے کہ اب لیاری میں امن ہے ، حالانکہ ریاست کی عملداری قائم کرنے کے لیے میرٹ کی بنیاد پر پالیسی نہیں بنے گی اور اس پالیسی کی راہ میں حائل بااثر افراد کا محاسبہ نہیں ہوگا، اسلحہ اور گولہ بارود بنانے اور مختلف شہروں تک پہنچانے اور قتل ہونے والے افراد کی ایف آئی آر کی انصاف کے اصولوں کے تحت تفتیش نہیں ہوگی، گواہوں کے تحفظ، مقدمات کے جلد فیصلے کے لیے قانون سازی نہیں ہوگی تو ان قوانین پر عملدرآمد کے لیے ہر حوالے سے مکمل لائحہ عمل تیار نہیں ہوگا۔
یہ حقیقت ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت سے پولیس اہلکاروں اور اعلیٰ افسروں نے اپنی جان کا نذرانہ دیا ہے مگر ان کی قربانیوں کے باوجود حالات تاحال خراب ہیں ۔ اب سوال اگلے سال کا ہے۔ کیا اگلے سال ایسے حالات پیدا ہوں گے کہ محرم میں ایمرجنسی نہیں لگے گی؟ غریب لوگ موٹر سائیکل جیسی سستی سواری سے محروم ہوجائیں گے؟مزید انوکھی پابندیاں لگیں گی؟