قول و عمل میں تضاد کا وقت نہیں
نامساعد حالات میں اشرافیہ خاندانی حکومتوں کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے انتخابات اور جمہوریت کا ناٹک کرنے جا رہی ہے۔
دنیا کی تاریخ خاص طور پر ماضی قریب کی تاریخ میں بنیادی تبدیلیوں یا انقلابات کے لیے دو طریقوں سے جدوجہد کی گئی، ایک ہتھیاروں کے ذریعے مسلح جدوجہد، دوسرا رائے عامہ یعنی جمہوریت کے ذریعے۔
بنیادی تبدیلیوں کا انقلابات کا بنیادی مقصد پرانے ازکار رفتہ معاشرتی، معاشی اور سیاسی ڈھانچوں کی تبدیلی ہی رہا ہے۔ پاکستان میں جو معاشرتی معاشی اور سیاسی ڈھانچہ پچھلے 65 سالوں سے موجود ہے اور اپنی افادیت کھو چکا ہے اب اسے مکمل طور پر بدلے بغیر ہماری اجتماعی زندگی میں کوئی پیش رفت ممکن نہیں۔ روایت کے مطابق 2013 میں ممکنہ طور پر ہونے والے انتخابات کی تیاریاں منصوبہ بندیاں، اتحاد، پارٹی تبدیل کرنا جیسی پُر فریب سیاست کا عمل جاری ہے اور یہ بات سو فیصد یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ کسی اتحاد، کسی شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے ہمارے 65 سالہ لوٹ مار کے اشرافیائی نظام میں کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی۔
مسلح جدوجہد کے ذریعے جن ملکوں میں انقلابات برپا کیے گئے ان ملکوں کے حالات مسلح جدوجہد کے لیے سازگار تھے۔ لیکن اب صورتحال مختلف ہے۔ عیار اشرافیہ نے سادہ لوح عوام کو کئی ٹکڑوں میں بانٹ دیا ہے، قوم و ملک کی سلامتی کے نام پر ریاستی مشینری کا ایک ایسا ڈھانچہ کھڑا کر دیا گیا ہے جو عوامی طاقت کے ذریعے لائی جانے والی ہر تبدیلی کے راستے میں دیوار بن کر کھڑا ہوا ہے۔ ایسے نامساعد حالات میں اشرافیہ خاندانی حکومتوں کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے انتخابات اور جمہوریت کا ناٹک کرنے جا رہی ہے اور ملک کی تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں اس ناٹک کا حصہ بننے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ جس کا بنیادی مقصد ذاتی اور جماعتی مفادات کے علاوہ کچھ نہیں، ملک کی وہ جماعتیں جو اس ناٹک پر یقین نہیں رکھتیں وہ بھی اس ناٹک میں اپنا کردار ادا کرنے پر مجبور ہیں۔
ایسے موقعے پر دہشت گردی کی شکل میں جو طوفان سارے ملک میں کھڑا ہے اس کے خالق نہ انتخابات کو تسلیم کرتے ہیں نہ جمہوریت کو نہ عوام کی اجتماعی طاقت کو وہ ان سارے اداروں کو اسلام کے خلاف اور کفر کے نظام کے نام دیتے ہیں۔ ہماری مذہبی جماعتیں پچھلے 65 سالوں سے اسی جمہوریت کے ساتھ چل رہی ہیں، ساتھ ہی دہشت گردی اور خون خرابے کے کلچر کی یہ جماعتیں بالواسطہ یا بلاواسطہ حمایت کرتی رہی ہیں لیکن ملالہ پر قاتلانہ حملے نے پورے ملک میں دہشت گردی کے خلاف جو ایک فضاء قائم کر دی ہے اس نے ان رہنماؤں اور جماعتوں کو بھی مجبور کر دیا ہے کہ وہ دہشت گردوں سے امیدیںوابستہ کرنے سے باز آجائیں، سو اس حوالے سے مذہبی جماعتوں کے رویوں میں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔
اسلام آباد میں ''اتحاد امت'' کانفرنس کے شرکاء جن میں جماعت اسلامی، جمیعت علماء اسلام (ف) سمیت کئی جماعتیں شامل ہیں، یہ اعلان کیا ہے کہ ''دہشت گردی اور قتل و غارت اسلام کے خلاف ہے۔'' مسلم لیگ (ن) پر یہ الزام عائد ہوتا رہا ہے کہ وہ درپردہ مذہبی انتہا پسندوں سے روابطہ رکھتی ہے، لیکن ایسا لگ رہا ہے کہ اب ان نیم دروں نیم بروں جماعتوں کو بھی یہ احساس ہو رہا ہے کہ دہشت گردی کا راستہ نہ روکا گیا تو وہ انھیں بھی لے ڈوبے گی، سو نواز شریف کہہ رہے ہیں کہ ہم دہشت گردی کے خلاف اور ملالہ کے ساتھ ہیں۔
ایک اور تحریک ''تحریک بیداریٔ امّت مصطفیٰ'' کے رہنما نے فرمایا ہے کہ ملک میں بعض شیطانی قوتیں دہشت گردی کے ذریعے ملک میں فرقہ واریت کی آگ بھڑکا رہی ہیں۔'' سنی تحریک کے سربراہ نے بھی فرمایا ہے کہ ''فرقہ وارانہ فساد کی سازش کو نہ روکا گیا تو حالات بہت خراب ہو سکتے ہیں۔'' عالمی سطح پر دہشت گردی میں بدنام القاعدہ کے ایک رہنما ایمن الظویری کے بھائی محمد الظویری نے فرمایا ہے کہ ''اسلامی جہاد اسلحے کے بجائے، وعظ، کانفرنسوں اور کتابوں کے ذریعے کیا جائے گا۔''
ان تمام اکابرین کے فرمودات سے یہ اندازہ بہر حال ہو رہا ہے کہ یہ طاقتیں اب دہشت گردی کے نقصانات کا احساس کر رہی ہیں، بلاشبہ یہ ایک اچھی علامت ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ دہشت گردی نے جتنے پیر پھیلائے ہیں اور پورے پاکستان کو جس طرح اپنی گرفت میں لے لیا ہے اسے نہ اخباری بیانات سے روکا اور ختم کیا جا سکتا ہے نہ نیک خواہشات ہی سے یہ طوفان ختم ہو سکتا ہے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ نظام اسلام کے داعی بدقسمتی سے بے شمار ٹکڑوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ جب سب کا مقصد ایک ہی ہے تو پھر پچاس ٹکڑوں میں بٹ کر اس نیک مقصد کے حصول کے دعوے کرنا کسی حوالے سے بھی نہ مذہب دوستی ہے نہ عوام دوستی۔ فرقہ وارانہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فرقہ وارانہ جماعتوں کی نیک خواہشیں کس طرح جائز اور سود مند ثابت ہو سکتی ہیں؟
ریاست کے تین اہم ادارے، حکومت، فوج اور عدلیہ خود دہشت گردی کی زد میں ہیں۔ خیبر سے لے کر کراچی تک ہر روز بے شمار بے گناہ لوگ، فوج، پولیس، رینجرز، ایف سی کے اہلکار اور افسران، دفاعی ادارے سب دہشت گردی کے خون میں نہائے کھڑے ہیں۔ ہر جماعت ہر ادارہ دہشت گردی کے خلاف آواز بلند کر رہا ہے، اس تناظر میں ہماری نظر ایک اور مذہبی تنظیم وحدت المسلمین کے رہنما مختار امامی کے اس دلچسپ بیان کی طرف چلی گئی جو ایکسپریس میں چھپا ہے۔ امامی صاحب نے سوال کیا ہے ''کالعدم تنظیمیں کس قانون کے تحت آزادی سے سیاست کر رہی ہیں؟'' میں امامی صاحب کو یا ان کی جماعت کو اس لیے نہیں جانتا کہ جماعتوں کی اس بھیڑ بھاڑ میں کسی جماعت یا رہنما کو انفرادی طور پر پہچاننا مشکل ہے، لیکن امامی صاحب نے جو سوال اٹھایا ہے وہ اتنا اہم اور جرأت انگیز ہے کہ اس بیان پر ہر صاحبِ بصیرت کا چونکنا لازمی ہے۔
یہ اس ملک کی اجتماعی بدقسمتی ہے کہ یہاں ملک کے اہم ترین اداروں نے وقتی مصلحتوں یا حماقتوں کے تحت ابتداء سے مذہبی انتہا پسندوں کی سرپرستی کی، ضیاء الحق اور ان کے معاون نے امریکی مفادات کی خاطر اپنے ملک کو دہشت گردی کی جس آگ میں جھونکا تھا وہی آگ اب جہنم کی آگ بن گئی ہے۔ آج کی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ اگر دہشت گردی کو اس ملک اور اس ملک کے مستقبل کے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھتے ہیں تو پھر امامی صاحب کے سوال کا ہمارے پاس کیا جواب ہے کہ ''کالعدم تنظیمیں اور ان کے کارکنان و رہنما آزادی کے ساتھ ملک سیاست میں کیوں سرگرم عمل ہیں اور ان جماعتوں کو کالعدم یا غیر قانونی کیوں قرار دیا گیا تھا؟
اب ہم جس مقام پر کھڑے ہیں وہاں قول اور عمل میں تضاد کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اگر دہشت گردی ملک و قوم کے لیے خطرہ ہے تو پھر اس خطرے سے نجات حاصل کرنے کے لیے دوغلی پالیسیوں سے نکل کر ایک اجتماعی محاذ کی صورت میں مزاحمت کرنا ہو گی، زبانی کلامی تھپکیوں کا وقت گزر گیا، عوام کو اس بلا سے نجات دلانا ہو تو کھل کر سامنے آنا ہوگا۔