کوئی ڈیم یا بجلی گھر بنانے کی ضرورت نہیں
کئی لوگ بیرون ملک جا کر وطن کا نام روشن کر چکے ہیں اور اب بھی کر رہے ہیں اور آیندہ بھی کرتے رہیں گے۔
دنیا میں آج تک جتنی بھی ایجادیں اور دریافتیں ہوئی ہیں، ان کی ''ماں'' اگر ضرورت تھی تو ''باپ'' اتفاق تھا یعنی اچانک کوئی اتفاق ،کوئی حادثہ ہوا اور اس سے کسی ذہین آدمی نے کوئی چیز اخذ کر لی جیسے سیب کا درخت سے آئزک نیوٹن پر گرنا، اونٹوں کا آپس میں رسیاں الجھانا وغیرہ وغیرہ، چنانچہ ہم بھی مطمئن ہیں کہ جو ایجاد یا دریافت ہم کرنے جا رہے ہیں۔
وہ بھی ایک دن اسی زمرے میں شامل ہو گی، یوں کہیے کہ یہ سعادت ہمیں ملنا تھی ورنہ ہم کوئی انجینئر نہیں، سائنس دان نہیں حتیٰ کہ ریاضی دان بھی نہیں ہیں بلکہ ہمارے خاندانی شجرے میں بھی کسی کا کسی بھی ''دان'' سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہم یونہی بیٹھے تھے ،کالم آدھا لکھا تھا اور اب آدھے کے لیے بجلی آنے کا انتظار کر رہے تھے کہ اچانک ایک جھماکا ہوا، دراصل کالم کے لیے ہم نے اس پاکستانی عفیفہ کا موضوع چنا تھا جو پڑوسی ملک میں ان دنوں اس ''عظیم جہدوجہد'' کی سرخیل ہے جو وہاں کی خواتین نے شروع کر رکھی ہے۔ راکھی ساونت، ملکہ شراوت اور بپاشا باسو کی سربراہی میں شروع ہونے والی اس جدوجہد کا مقصد و مرام یہ ہے کہ بنی نوع انسان کو مکمل آزاد کر دیا جائے۔ابھی لفظ روشن لکھا تھا کہ ہماری آنکھیں چکا چوند ہو گئیں اور پھر جب بجلی چلی گئی اور اچانک وہ عظیم الشان آئیڈیا ہمارے ذہن میں آ گیا جس کا ہم نہایت فخریہ اعلان کر رہے ہیں، موضوع کا اصل زور لفظ روشن پر ہے اور چونکہ روشنی ہی بجلی ہوتی ہے بلکہ یوں کہیے کہ پرانے زمانے میں ہوتی تھی۔
ذرا سوچئے کہ کئی لوگ بیرون ملک جا کر وطن کا نام روشن کر چکے ہیں اور اب بھی کر رہے ہیں اور آیندہ بھی کرتے رہیں گے، دوسروں کو چھوڑیئے صرف اگر کرکٹ اور شوبز میں وطن کا نام روشن کرنے والوں کا حساب لگایا جائے تو کم نہیں ہے، ضرورت صرف اتنی ہے کہ حکومت اس تمام روشنی کو اکٹھا کر کے کام میں لائے، بات جب چل پڑتی ہے تو پھیلتی چلی جاتی ہے۔ ہم نے ان گزشتہ 66 یا 67 سالوں کا حساب لگایا کتنے ہی ہمارے سپوت اور سپوتیاں باہر جا کر وطن کا نام روشن کر چکے ہیں۔
یوں تو ہر کھیل میں ہر میدان میں ہمارا جواب نہیں ہے لیکن جیسا کہ ہم نے کہا اگر صرف کرکٹ اور شوبز کو لیا جائے تو ہمارے پاس اتنی روشنی جمع ہو سکتی ہے کہ ایک زبردست قسم کے میگا بجلی گھر سے زیادہ توانائی فراہم کر سکے گا، اس موقع پر کچھ منفی قسم کے لوگ منفی تنقید کر کے ہماری حکومتوں پر انگلی اٹھا سکتے ہیں کہ ہماری حکومتیں اگر نا اہل نہ ہوتیں تو ملک کا نام روشن کرنے والوں کی اس روشنی سے فائدہ اٹھا سکتی تھیں لیکن اس معاملے میں ہم ''حکومتوں'' کے طرف دار ہیں کیوں کہ ان کو دوسرے ضروری کاموں سے فرصت ہی کہاں ملتی ہے کہ ڈیم وغیرہ کا سوچیں، ملک کا نام روشن کرنے والوں کی اس توانائی سے پہلے یہاں اور بھی بہت کچھ ایسا تھا جس سے توانائی حاصل ہو سکتی تھی جیسے پانی، سورج، ہوا اور کوئلہ وغیرہ، یہ بات کسی حد تک صحیح ہے لیکن مجبوری بھی تو کوئی چیز ہوتی ہے، حکومت کے اراکین اس سے بھی زیادہ ضروری کاموں میں مصروف تھے بلکہ اب بھی ہیں اور وہ ''ضروری کام'' بھی ملک کا نام روشن کرنے کا ہے،۔
فرق صرف یہ ہے کہ شوبز اور کرکٹ والوں کے بجائے ان کا میدان مختلف ہے، یہ لوگ غیر ملکی بینکوں اور دوسرے ملکوں میں وطن کا نام روشن کرنا چاہتے تھے، یہ ان کی مساعی جمیلہ کی برکت ہے کہ آج غیر ملکی بینکوں میں پاکستان کا نام سب سے زیادہ روشن ہے، گویا ان کا بھی اصل مقصود و مدعا وہی ہے جو دوسرے نام روشن کرنے والوں کا ہے۔ پانی، سورج، ہوا اور کوئلے کا کیا ہے وہ کہیں بھاگے تو نہیں جا رہے ہیں ،آج نہیں تو کل، کل نہیں تو پرسوں، پرسوں نہیں برسوں بعد اور برسوں نہیں تو صدیوں بعد کبھی نہ کبھی تو ان سے فائدہ اٹھا ہی لیا جائے گا جو کچھ گھر میں ہے وہ تو گھر میں ہے باہر سے کچھ لانا ضروری ہے، لیکن اب وقت آ گیا ہے ان مختلف لوگوں نے وطن کا نام ہر طرف سے اتنا روشن کر لیا ہے کہ کہیں پر کوئی گرڈ اسٹیشن یا جنریٹر لگا کر اس روشنی کو توانائی میں بدلا جا سکتا ہے بلکہ اس میں سب سے زیادہ دل خوش کن بات یہ ہے کہ اس توانائی کو گھر گھر تک پہنچانے کے لیے کسی ٹرانسمیشن لائن کی بھی ضرورت نہیں۔
بڑے بڑے شہروں سے لے کر چھوٹے دیہات اور محلوں تک ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو وطن کا نام روشن کر رہے ہیں چنانچہ کہیں بھی کسی بھی ساکٹ میں سوئچ ڈال توانائی حاصل کی جا سکتی ہے، ہم انجینئر نہیں ہیں لیکن اتنا جانتے ہیں کہ روشنی ایک توانائی ہے اور توانائی کو کسی بھی شکل میں کسی بھی کام کے لیے کنورٹ کیا جا سکتا ہے اور اگر ایسا نہ بھی ہو تو صرف ''روشنی'' بھی ہمارے لیے کافی ہے جب سارا وطن ہی روشن ہو تو سوچئے کتنا بڑا کام ہو جائے گا، نہ بلب نہ ٹیوب ویل نہ کچھ اور انتہائی آسانی سے روشنی ہی روشنی ۔۔۔ اب دن کو دیکھیے سورج کتنی دور ہے لیکن پھر بھی دن کے وقت روشنی کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، چاند جس کی روشنی مستعار ہے وہ بھی دنیا کو روشن کر دیتا ہے اسی طرح اگر ہمارا اپنا سارا کچھ ہی روشن ہو تو اپنے ہاں تو روشنی ہی روشنی ہو گی، آڑوس پڑوس کے ممالک بھی روشن ہو جائیں گے۔
جس طرح آج کل پڑوسی ملک کے شوبز کی روشنی سے ہمارا گھر گھر منور ہو رہا ہے، اب مسئلہ باقی یہ رہ گیا ہے کہ روشن کرنے والوں نے تو ملک کا نام روشن کر دیا ہے لیکن ہر توانائی کسی نہ کسی دن ختم تو ہوتی ہے، اس غرض کے لیے ہمیں تھوڑی سی تدبیر کرنا ہو گی، اس معاملے پر جب ہم نے سوچا تو بڑا ہی کافی اور شافی حل نکل آیا، دیکھیے اب تک مختلف لوگ مختلف کام کر کے ملک کا نام روشن تو کر چکے ہیں لیکن ہر کام ہر وقت تو ہوتا نہیں کرکٹ ہے تو ہمیشہ نہیں کھیلی جا سکتی، لیڈروں نے بیرونی بینکوں میں یہ جو وطن کا نام روشن کیا ہوا ہے اس کی ماں بھی کسی نہ کسی دن مر سکتی ہے۔ آخر عوام کب تک زندہ رہے گے اور کب تک ان کی کھال سلامت رہے گی ، کسی نہ کسی دن تو آخر عوام زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ دیں گے۔
انسان کوئی ہاتھی تو نہیں جو مرنے پر سوا لاکھ کا ہو جائے چنانچہ حکومت چلانے والوں میں جو ملک کو روشن کر رہے ہیں، وہ کب تک غیر ملکی بینکوں میں وطن کا نام روشن کرنے کا سلسلہ جاری رکھ پائیں گے، مطلب یہ کہ وطن کا نام روشن کرنے کے باقی سارے ذریعے اور طریقے عارضی ہیں سوائے ایک کے ۔۔۔ اور وہ ذریعہ اور طریقہ ہے شوبز کا ۔۔۔ جس کی نہ کوئی حد ہے نہ قید، اور پھر اس میں کسی مہارت کسی ہنر اور کسی محنت کی بھی ضرورت نہیں ہوتی، حوصلہ افزاء بات یہ ہے کہ ان دنوں ہمارے نوجوانوں بلکہ زیادہ تر ''نوجوانیوں'' کا رجحان بھی اس طرف بہت زیادہ ہے خصوصاً طبقہ خواص کے سپوتوں اور سپوتنیوں کا تو یہی واحد مرام و مقصد ہے کہ موم بائی جا کر جیسے بھی کر کے ملک کا نام روشن کریں،۔
اب تک وہاں ہمارے جو ستارے وطن کا نام روشن کر رہے ہیں ، ان کی روشنی سے لاکھ ڈیڑھ لاکھ میگا واٹ کا بجلی گھر چل سکتا ہے لیکن اس کے علاوہ بھی موم بائی کی گلیوں میں، کوچوں میں، ہوٹلوں میں، کونے کھدروں میں، سڑکوں پر تاریک گلیوں میں بے شمار سپوت و سپوتنیاں وطن کا نام روشن کرنے میں لگے ہوئے ہیں، دراصل یہ رجحان کی بات ہے اگلے وقتوں میں ایک مرتبہ ''دبئی چلو'' کا رجحان زور پکڑ گیا تھا اور اتنا پھیل گیا تھا کہ ہالیوں نے ہل ڈھک لیے اور دبئی کے لیے چل پڑے، تقریباً وہی سلسلہ آج کل ''ممبئی چلو'' کا بھی ہے۔