خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا
وثوق سے نہیں کہہ سکتے کہ جو کچھ ہم نے دیکھا وہ کیا تھا؟ خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا یا جو سنا افسانہ تھا
GUJRANWALA:
وثوق سے نہیں کہہ سکتے کہ جو کچھ ہم نے دیکھا وہ کیا تھا؟ خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا یا جو سنا افسانہ تھا، لیکن جو بھی کچھ تھا وہ اپنے اندر ''خیریت'' رکھتا ہے اور آپ تو جانتے ہیں کہ ہم نہایت ہی ''دیانت دار صحافی'' ہیں (یہ گمان ہمارے علاوہ بھی بہت سوں کو ہے) اور دیانت دار صحافی کے لیے سب سے زیادہ اہم چیز (تنخواہ سے بھی زیادہ) سچ ہوتا ہے اور سچ صرف سچ بولنا نہیں ہوتا بلکہ سچ کو چھپانا بھی جھوٹ کے برابر (یا اس سے ایک آدھ انچ کم سہی) ہوتا ہے اس لیے ہوا یوں ... ارے ہاں وہ مشہور جھوٹ تو ہم نے ابھی بولا نہیں ہے
کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے
ہر سچ سے پہلے یہ بولنا ضروری ہوتا بلکہ جھوٹ سے پہلے اور بھی ضروری ہو جاتا ہے تو ہوا یوں کہ کچھ روز پہلے گھر والوں کے بے حد اصرار پر، وقت کے سخت تقاضے پر اور کچھ اس منیرؔ نیازی والے شوق کی وجہ سے ہمیں بازار جانا پڑا یا یوں کہیے کہ اپنے آپ کو چھریاں بھونکوانے کے لیے، لیکن پہلے وہ منیر نیازی والے شوق کی تو وضاحت ہو جائے کہ
کجھ شہر دے لوک وی ظالم سن
کجھ اساں مرن دا شوق وی سی
تو اپنے ''مرن دا شوق'' پورا کرنے کے لیے ہمیں ''شہر دے لوکاں'' کے سامنے جانا پڑا حالانکہ مرشد نے فرمایا ہے کہ
دہن شیر میں جا بیٹھئے لیکن اے دل
نہ کھڑے ہو جئے ''روزے میں دکاندار کے پاس''
کیونکہ زندگی میں ہم نے اور کچھ سیکھا ہو یا نہ سیکھا ہو لیکن یہ بہت اچھی طرح سیکھا ہے کہ اگر مہینہ بھی رمضان کا ہو، دکاندار بھی مسلمان ہو اور بمقام مملکت پاکستان بھی ہو اور اوپر سے یہ مقام پشاور کا بھی ہو جو ویسے تو سیٹلڈ ایریا میں واقع ہے لیکن دکاندار لوگ مکمل طور پر علاقہ غیر یا آزاد قبائل علاقے میں ہوتے ہیں، کیونکہ چیک کرنے کے جو حکام ہوتے ہیں وہ روزے سے بھی اپنا چیک اپ کروا چکے ہوتے ہیں۔
ان مواقع پر پشاور میں ایک بہت پاپولر ڈائیلاگ تمام دکاندار کا ساجھا ہے کہ روزہ منہ میں ہے تم سے زیادہ تو نہیں لے رہا ہوں، یا اتنے کی اپنے گھر یہ چیز پڑی ہے اور بالکل سچ بولتے ہیں واقعی روزہ ان کے منہ میں ہوتا نیچے پیٹ میں باقاعدہ عید ہوتی ہے، بلکہ جب سے ٹی وی چینلوں کے اوپر رمضان کے نہایت ہی چمکدار قسم کے پروگرام لانچ ہونے لگے ہیں جن میں ''دکھانے'' کا اہتمام بالی وڈ فلموں سے بھی کچھ بڑھ کر ہوتا ہے تب سے اس جملے کے ساتھ ایک اور جملے کا اضافہ بھی ہونے لگا ہے کہ روزہ منہ میں ہے اور ابھی ابھی نماز پڑھ کر آ رہا ہوں، وضو میں ہو کر جھوٹ تو نہیں بول سکتا نا... ہاں تو گھر والوں کے پرزور اصرار پر اور اپنے منیرؔ نیازی والے شوق کی وجہ سے ہم بازار گئے ہاں صرف اتنا ہی یاد ہے کہ گئے... البتہ آئے کیسے یہ بالکل بھی یاد نہیں... کیونکہ بعض اوقات یہ پتہ ہی نہیں چلتا ... کہ ... ؎ اور زمانہ یہ سمجھا کہ ہم پی کے آئے ... یا بقول مرشد ؎ ہم کوچہ رقیب میں بھی سر کے بل گئے اور یہ اسی رات کا واقعہ ہے جو ہم آپ کو سنانے والے ہیں، ہم نے دیکھا کہ ایک نامعلوم مقام پر لوگوں کا ایک بہت بڑا اژدہام ہے پہلے تو ہم سمجھے کہ کہیں دھرنے ورنے کا معاملہ ہو گا کیونکہ کچھ دنوں سے اس کے آثار بھی نظر آنے لگے ہیں یعنی
رات دن گردش میں ہیں سات آسمان
ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا
لیکن بمشکل اندر گھس کر دیکھا تو کچھ اور ہی نظر آیا ایک نہایت ہی مکروہ شکل و صورت والے ایک شخص کو ۔۔۔ جس کی بدصورتی، بدہیتی اور بدنمائی کو دیکھ کر بدصورتی کا بھی جی متلانے لگے ... زنجیروں میں جکڑا ہوا کھڑا ہے اور اس کی شکل سے بے چارگی افسوس اور دکھ کے آثار ٹپک رہے ہیں لیکن قرب و جوار میں ایسا کچھ نہیں نظر آ رہا تھا کہ اس کے پابند سلاسل کرنے والوں کا بھی کچھ پتہ چلے، دور و نزدیک نہ کوئی پولیس والا تھا نہ ہی کوئی اور قانون نافذ کرنے والے خاندان کا کوئی رکن ... جو بھی باقی لوگ تھے وہ صرف تماشہ دیکھنے والے تھے مطلب یہ تماشا بھی تھا تماشائی بھی تھے لیکن تماشا گر کوئی نہ تھا، سوچا کسی سے پوچھ لیں کہ یا اخی یہ ماجرا کیا ہے لیکن کھڑے ہوئے لوگوں کو دیکھا تو سناٹے میں رہ گئے بلکہ منہ کھلے کا کھلا رہ گیا کیونکہ ان سب کے تو ''منہ'' ہی نہ تھے۔
یاد آیا ایک ''عارف'' نے کافی عرصہ پہلے بتایا تھا کہ مملکت پاکستان میں ایک ایسی مخلوق بھی پائی جاتی ہے جو ہو بہو انسانوں جیسی ہوتی ہے لیکن انسان نہیں ہوتی کیونکہ ان کے چہرے باقی سب ہوتا ہے لیکن منہ بالکل نہیں ہوتا، اور اس لیے نہیں ہوتا کہ منہ کا استعمال جن دو کاموں کے لیے کیا جاتا ہے وہ کام یہ کر ہی نہیں سکتے، منہ سے ایک کو کھایا جاتا ہے اور دوسرا بولا جاتا ہے اور یہ دونوں کام ان کے لیے حکمران کر لیتے ہیں، ظاہر ہے کہ جس ''عضو'' سے کام نہیں لیا جاتا ایک دن آخر کار وہ معدوم ہو جاتا ہے ان بے چاروں کے ساتھ بھی یہی ہوا ہے اور اب یہ ''بے مونہے'' ہو چکے ہیں ہم سمجھ گئے کہ اب کس سے پوچھیں
کس سے پوچھیں کہ وصل میں کیا ہے
ہجر میں کیا نہیں کہ تم سے کہیں
ہاں ان کے ہاتھ بڑے کام کے ہوتے ہیں ان ہاتھوں سے یہ حکمرانوں کے لیے کماتے ہیں بوقت ضرورت لہراتے بھی ہیں اٹھاتے بھی ہیں ہلاتے بھی ہیں اور بجاتے بھی ہیں اور یہاں بھی یہ سارے کام کر رہے تھے لیکن بے چارے بے مونہے تھے اس لیے ہمارے کسی کام کے نہیں تھے، سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ حقیقت حال کا پتہ کیسے لگائیں کیوں کہ اردگرد تو ہمارے علاوہ
سب سمجھتے ہیں اور سب چپ ہیں
کوئی کہتا نہیں کہ تم سے کہیں
اچانک جیسے ذہن میں جھماکا سا ہوا یا بہ زنجیر اور پابند سلاسل ہستی کو ہم پہچان گئے کیوں کہ بہت ساری انگریزی فلموں اور اخبارات و رسائل میں اس کی شبیہ دیکھی تھی یہ وہی تھا ہاں بالکل وہی تھا تصویر سے ذرا مختلف تھا لیکن تصویر تو اس کی اپنی کسی بھی تصویر سے نہیں ملتی کیوں کہ اس کی شکلیں اور شبیں ہزار ہیں، کتنے ہی انسانوں میں اس کی شباہت پائی جاتی ہے بلکہ ہم نے ایسے ایسے نورانی نما بزرگوں میں اس کی شابہت دیکھی ہے کہ جن کے چہرے اور وضع قطع دیکھ کر فرشتے بھی احساس کمتری میں مبتلا ہو جاتے ہیں یعنی ... دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں ... مطلب یہ کہ ''شکنتلا پہچان لی گئی'' ہم نے بھی اس ''ذات شریر'' کو پہچان لیا اور پھر سارا معاملہ بھی سمجھ میں آ گیا، رمضان کے مہینے میں اور روایت کے مطابق اسے اس مہینے میں پابند سلاسل رکھا جاتا ہے یہ الگ بات ہے کہ رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے۔
جی خوش ہوا کہ اس مردود کو ایک مہینے ہی کے لیے سہی بے چارے مسلمان روزہ داروں پر اتیاچار کرنے سے روک لیا جاتا ہے سنا یہ بھی تھا کہ رمضان کا مہینہ جب آنے کو ہوتا ہے تو اس کے ہاتھوں پیروں سے جان نکلنے لگتی ہے، رنگ پیلا پڑ جاتا ہے، ہونٹوں پر پپڑیاں جم جاتی ہیں یوں کہئے کہ جان نکلنے لگتی ہے اور اس کم بخت اتیاچاری کو ہم اس ابتر حالت میں دیکھنا چاہتے تھے کیوں کہ اس نے ہمارے جد امجد کو بہت ستایا تھا بہکایا تھا اور رلایا تھا، لیکن یہ کیا؟ ہم جو کچھ دیکھنا چاہتے تھے نظر اٹھائی تو اس کم بخت کو نیم مردہ حالت میں دیکھنے کے بجائے مسکراتا ہوا پایا ، منحوس چہرہ کسی منحوس پھول کی طرح کھلا ہوا تھا اور باقاعدہ مسکرا رہا تھا نہ صرف مسکرا رہا تھا بلکہ ایک طرف دیکھ دیکھ کر انتہائی مسرت اور شادمانی سے ہاتھ بھی ہلا رہا تھا جیسے کوئی نہایت ہی مشہور اور پاپولر لیڈر سر خوشی کے عالم میں اپنے شیدائیوں کو ہاتھ ہلا رہا ہوتا ہے۔
ادھر دیکھا جس طرف یہ کم بخت ہاتھ ہلا رہا تھا تو کچھ لوگ کھڑے اسے ہاتھ ہلا ہلا کر تسلی دے رہے تھے ایک ہاتھ کھڑا کر کے اسے دو تین دفعہ جنبش دیتے اور پھر اپنے سینے پر لے جاتے جیسے کہہ رہے ہوں کہ تسلی رکھو ہم ہیں نا... غور سے دیکھا تو بہت سارے چہرے کو ہم نے پہچان لیا، یہ شہر کے معزز تاجر اور دکاندار تھے یہ بھی ہاتھ ہلاتے رہے اور وہ بھی جوش سے ہاتھ ہلاتا رہا اور ہماری سمجھ میں کچھ بھی نہیں آ رہا تھا، کہاں یہ نورانی لوگ اور کہاں وہ شیطانی ہستی اس سوچ میں ہم ایسے گم ہو گئے کہ منظر کا آخری حصہ دیکھ ہی نہیں پائے۔