مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم

بھارتی حکومت کا موقف ہے کہ مذاکرات میں مسئلہ کشمیر کو شامل نہ کیا جائے بلکہ دہشت گردی کے موضوع کو ترجیح دی جائے


Editorial July 11, 2016
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم کب تک جاری رہتے اور کشمیریوں کو کب آزادی ملتی ہے اس کے بارے میں اب تک کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ فوٹو: فائل

مقبوضہ کشمیر میں جمعہ کو تحریک آزادی کے اہم رہنما اور عسکریت پسند تنظیم حزب المجاہدین کے سربراہ برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد وادی میں مظاہرے پھوٹ پڑے جب کہ اس دوران قابض بھارتی فوج نے مظاہرین پر فائرنگ کردی جس سے17کشمیری شہید اور سیکیورٹی اہلکاروں سمیت سیکڑوں افراد زخمی ہوگئے۔ علاقے میں کرفیو نافذ کرنے کے علاوہ موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز بھی بند کردی گئی ہیں، لوگوں نے اس موقع پر آزادی اور برہان مظفر وانی کے حق میں فلک شگاف نعرے لگائے جب کہ پاکستانی جھنڈے بھی لہرائے گئے، وادی میں پرتشدد مظاہروں پر مقبوضہ کشمیر میں جاری ہندوؤں کی امرناتھ یاترا بھی روک دی گئی۔ پاکستانی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے بھارتی فوج کے مظالم کی شدید مذمت کی ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں پر بھارتی فوج کے مظالم اور نوجوانوں کی ہلاکتیں نئی بات نہیں، ظلم و ستم کا یہ سلسلہ گزشتہ کئی عشروں سے جاری ہے۔ کشمیریوں نے قابض بھارتی حکومت کے خلاف تحریک آزادی شروع کر رکھی ہے، جسے دبانے کے لیے بھارتی حکومت ظلم و ستم کا ہر حربہ استعمال کر رہی ہے مگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکی، بھارتی مظالم میں جتنی شدت آتی چلی جاتی ہے، کشمیریوں کے جذبہ حریت کو اتنی ہی مہمیز ملتی اور تحریک آزادی تیز سے تیز تر ہوتی چلی جا رہی ہے۔ بھارتی فوج آئے دن بے گناہ کشمیری نوجوانوں کو گھروں سے اٹھا کر لے جاتی اور انھیں تشدد کا نشانہ بناتی ہے، بعدازاں ان نوجوانوں کی لاشیں ملتی ہیں، مقبوضہ وادی میں جا بجا وجود میں آنے والے قبرستان بھارتی فوج کے مظالم کی گواہی دیتے نظر آتے ہیں۔

کشمیری خواتین کی بے حرمتی بھی روز مرہ کا معمول بن چکی ہے، ظلم تو یہ ہے کہ بھارتی حکومت نے فوج کو مکمل اختیارات دے رکھے ہیں اور کسی بھی ظالمانہ ایکشن پر اس کے خلاف قانونی کارروائی نہیں ہو سکتی۔ کشمیریوں کی پاکستان سے دلی وابستگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، جب بھی 14اگست کا دن آتا ہے مقبوضہ وادی میں کشمیری پاکستانی پرچم لہرا کر یہ واضح اعلان کرتے ہیں کہ ان کا جینا مرنا پاکستان کے ساتھ ہے، جب بھارتی جمہوریہ کا دن آتا ہے تو پوری وادی میں سیاہ پرچم لہرا کر بھارت سے نفرت کا اظہار کیا جاتا ہے۔

اب بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید ہونے والے 25سالہ برہان مظفر وانی کے جسد خاکی کو پاکستانی پرچم میں لپیٹا گیا، جنازے کے شرکاء نے بھارت سے آزادی کے حق میں نعرے لگائے اور پوری وادی میں حکومت مخالف ریلیاں نکالیں، اس موقع پر مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی انتظامیہ نے حریت رہنماؤں سید علی گیلانی، یاسین ملک، شبیر شاہ اور میر واعظ عمر فاروق کو گھروں میں نظر بند کر دیا۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم کب تک جاری رہتے اور کشمیریوں کو کب آزادی ملتی ہے اس کے بارے میں اب تک کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ پاکستانی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بھارتی حکومت کو بارہا مذاکرات کی دعوت دیتی چلی آ رہی مگر وہ کوئی نہ کوئی بہانہ گھڑ کر مذاکرات سے گریز کر رہی ہے۔

بھارتی حکومت کا موقف ہے کہ مذاکرات میں مسئلہ کشمیر کو شامل نہ کیا جائے بلکہ دہشت گردی کے موضوع کو ترجیح دی جائے۔ پاکستانی حکومت متعدد بار یہ اعلان کرچکی ہے کہ بھارت کے ساتھ جامع مذاکرات ہوں گے جن میں مسئلہ کشمیر، سرکریک اور دیگر تنازعات کو بھی شامل کیا جائے گا۔ ماضی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان باہمی تنازعات کو حل کرنے کے لیے اعلیٰ سطح پر مذاکرات کے کئی ادوار ہو چکے ہیں مگر ان کا کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہو سکا اور معاملات جوں کے توں چلے آ رہے ہیں۔ موجودہ انتہا پسند بھارتی حکومت کے رویے کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر پر بات چیت کرنے کے لیے کسی بھی طور آمادہ نہیں ہوگی۔

مودی سرکار نے مقبوضہ وادی میں ہونے والے عام انتخابات کے دوران زیادہ سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ اس طرح وہ آئینی طور پر مقبوضہ کشمیر کو مستقلاً بھارت کا حصہ بنا سکے مگر مطلوبہ نشستیں حاصل نہ ہونے پر وہ اپنے منصوبے میں کامیاب نہ ہو سکی۔ مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ اور عالمی قوتوں کی خاموشی بھی معنی خیز ہے۔

پاکستان اقوام متحدہ سے بارہا مطالبہ کر چکا ہے کہ وہ اس مسئلے کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرے مگر اس کا کردار رسمی بیانات سے آگے نہیں بڑھ سکا۔ مسئلہ کشمیر ایک سلگتا ہوا لاوا ہے جو کسی بھی وقت پھٹ کر پورے خطے کو جنگ کی لپیٹ میں لے سکتا ہے، اس مسئلے پر پہلے بھی جنگیں ہو چکی ہیں۔ مقبوضہ وادی بھارتی حکومت کے لیے درد سر بن چکی ہے وہاں اس کی چھ لاکھ سے زائد فوج تعینات ہے جسے ہر روز مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ خطے کی سلامتی کے لیے دونوں ممالک اس مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات کا سلسلہ شروع کریں۔