سی این جی اسٹیشنز کی جزوی ہڑتال کراچی میں جگہ جگہ بد ترین ٹریفک جام

شدیدہنگامہ آرائی اور پتھرائو،کمشنرکراچی کے حکم پرانتظامیہ نے بعض بنداسٹیشنز زبردستی کھلوادیے


کراچی میں سی این جی اسٹیشنزکی بندش کے باعث شارع فیصل پر گاڑیوں کی طویل قطاریں نظرآرہی ہیں۔ فوٹو : ایکسپریس

من مانی قیمت مقررکروانے کے لیے سی این جی اسٹیشن مالکان کی کی جانب سے غیر اعلانیہ ہڑتال منگل کوبھی جارہی جس کے باعث کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ کم رہی۔

ہڑتال کے ساتھ سوئی گیس کمپنی کی جانب سے اسٹیشنزکو48 گھنٹے کے لیے گیس کی بندش کے اعلان نے صورتحال کومزید گھمبیربنادیااورفلنگ اسٹیشنزپرگیس کے حصول میں گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں جس سے شہرمیں ٹریفک کانظام درہم برہم ہوگیااور سڑکوں پربدترین ٹریفک جام ہوگیا ،رکشا ڈرائیوروں کی جانب سے نمائش چورنگی پراحتجاج بھی کیا گیا، رکشاٹیکسی چلاکریومیہ اجرت پرچلنے والے ہزاروں گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہوگئے،صارفین کاکہناہے کہ سوئی گیس کمپنی اسٹیشنزکے کنکشن منقطع کرنے کے بجائے ہفتے میں 72 گھنٹے گیس بندکر کے صارفین کی مشکلات میں اضافہ اور سی این جی اسٹیشن مالکان کے ہتھکنڈوں کوکامیاب بنانے میں معاونت کررہی ہے،ادھرکمشنرکراچی کے احکامات پرشہربھر میں بندسی این اجی اسٹیشنزکیخلاف کریک ڈائون شروع ہو چکا ہے۔

کراچی میں سی این جی اسٹیشن مالکان کی جانب سے ہڑتال کے باعث سبب منگل کوبھی سیکڑوں فلنگ اسٹیشن بند رہے،متواتر2روزسے جاری غیراعلانیہ ہڑتال کے باعث شہرمیں بسوں،منی بسوں،نجی وکمرشل گاڑیاںسڑکوں سے غائب ہوگئیں جس سے صنعتی و کاروباری سرگرمیاں بھی ماند پڑگئیں۔آئل اینڈگیس ریگولیٹری اتھارٹی اورسی این جی انڈسٹری کے مابین قیمت کے فارمولے پراختلاف نے عوام کی زندگی اجیرن بنادی،صارفین سی این جی کے حصول میں کئی کئی گھنٹے طویل اورصبرآزماانتظارکرنے پرمجبورہیں،گیس بھروانے کے لیے سی این جی اسٹیشن پرگاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں جس کے باعث شہربھرمیں اہم شاہراہوں اورسڑکوں پرٹریفک کانظام درہم برہم ہوگیااورگاڑیوںکی تاحدنگاہ قطاریں دکھائی دیتی رہیں۔منگل کو سیکڑوں رکشا ڈرائیوروں نے نمائش پراحتجاج کر تے ہوئے شدیدہنگامہ آرائی اورٹریفک پر پتھراؤ کیا جس کے باعث ایم اے جناح روڈ،نمائش چورنگی ،گرومندراورملحقہ علاقوں میں بدترین ٹریفک جام ہوگیا،شہریوں نے پبلک ٹرانسپورٹ کی چھتوں پربیٹھ کرسفر کیا۔

شہریوں نے پبلک ٹرانسپورٹ کی کمی کے باعث پیدل چل کر سفر طے کیا۔ایل پی جی نصب رکشاو ٹیکسی مالکان نے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور مسافروں سے منہ مانگی قیمت وصول کی۔ادھرڈپٹی کمشنرجنوبی جمال مصطفیٰ قاضی کی ہدایت پرسی این جی اسٹیشنزمالکان کے خلاف کارروائی کاآغازکردیاگیاہے جبکہ بندسی این جی اسٹیشنزکوپولیس کے ذریعے کھولنے کاحکم بھی جاری کردیاہے اور متنبہ کیاہے کہ اگرکسی نے سی این جی اسٹیشن بندرکھاتومالکان کوگرفتارکرکے سی این جی اسٹیشن کالائسنس منسوخ کرنے کی سفارش کی جائے گی۔ڈی سی جنوبی جمال مصطفیٰ قاضی نے ایکسپریس کوبتایاکہ کمشنرکراچی ہاشم زیدی کی ہدایت پرتمام اسسٹنٹ کمشنرزنے کارروائی کاآغاز کردیاہے اور بعض سی این جی اسٹیشنزسے عملے کوحراست میں بھی لیا گیاہے جنہیں وارننگ دے کر بندسی این جی اسٹیشنز کھلوادیے گئے ہیں ۔کمشنرکراچی کے حکم پرڈپٹی کمشنر ایسٹ،سینٹرل اورسائوتھ نے اسسٹنٹ کمشنرزکے ہمراہ ایم اے جناح روڈ،گرومندر،سبزی منڈی، گلشن اقبال،جمشیدکواٹرز،ناظم آباد،لیاقت آباد،گلبرگ،نارتھ ناظم آباد،صدر،کھارادرسمیت مختلف علاقوں میں بندسی این جی اسٹیشنزپرپولیس کے ہمراہ چھاپے مارے اوران بند سی این جی اسٹیشنزکودوبارہ کھلوادیا اس کریک ڈائون میں پولیس نے 50 سے زائدافرادکوحراست میں بھی لے لیا۔

حکومت اورسی این جی ایسوسی ایشن میں قیمتوں پرتنازع کی سزاصارفین بھگتنے پرمجبور ہوگئے ہیں،ملک کے مختلف شہروں میں منگل کو دوسرے روزبھی سی این جی اسٹیشنز بند ہونے سے صارفین خوارہوتے رہے جواسٹیشن کھلے ان پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں جبکہ چیئرمین اوگرا نے کہاہے کہ آج عوامی سماعت میں نرخ کامسئلہ حل کرلیں گے۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب کے اضلاع سرگودھااور بہاولپور کے بیشترسی این جی اسٹیشنزدوسرے روز بھی بندرہے جواسٹیشن کھلے ان پر بھی پریشر نہ ہونے کے برابر رہا۔فیصل آباد ریجن کے80فیصد سی این جی اسٹیشنزبندرہے جس کی وجہ سے شہریوںکومشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔حیدر آباد، جامشورو، سکھر، نوابشاہ، لاڑکانہ اور میر پور خاص سمیت مختلف علاقوں میں سی این جی بند ہونے سے صارفین کو مشکلات کا سامنا رہا۔خیبرپختونخوا کے علاقوں نوشہرہ،ایبٹ آباد اور ہری پور میں بھی سی این جی اسٹیشنزدوسرے روز بھی نہ کھل سکے۔ پشاور میں137 سی این جی اسٹیشنز میں سے سو سے زائد اسٹیشنز نے سی این جی کی فراہمی بندکردی ہے۔شہر میں اکا دکا کھلے اسٹیشنزپرگاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی گئیں۔این این آئی کے مطابق کوئٹہ اور اندرون بلوچستان میں بھی کئی سی این جی اسٹیشن بندرہے۔

چیئر مین سی این جی ایسوسی ایشن غیاث پراچہ نے دعویٰ کیاکہ سی این جی مالکان معاشی بحران کاشکار ہیں جبکہ مالکان کو بھیجے گئے بلوں کیلیے 19 نومبر تک کی تاریخ دی گئی جس پر مالکان محرم کی چھٹیوں کی وجہ سے بل جمع نہ کرا سکے اس لیے اکثر پمپوں کے کنکشن کاٹ دیے گئے ہیں۔ ثناء نیوزکے مطابق آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کے صدرنے کہا ہے کہ گیس کمپنیوں نے مختلف بہانے بناکرملک میں 400 سی این جی اسٹیشنز کے گیس کنکشنز کاٹ دیے ہیں۔ غیاث پراچہ کے مطابق سی این جی اسٹیشنزمالکان گیس فروخت کرنا چاہتے ہیں مگر بجلی کے بھاری بلوں کے باعث موجودہ قیمت پر سی این جی فروخت نہیں ہوسکتی،یہ بڑی ناانصافی ہے کہ ریٹ انتہائی کم رکھا ہے اور نقصان کی وجہ سے جب ہم بل جمع نہیں کراسکے تو حکومت نے ایکشن لے لیاہے،ہم چاہتے ہیں کہ حکومت گیس کاریٹ باقی سیکٹرکے برابر کرے۔

ہم چاہتے ہیں کہ سی این جی اسٹیشن بند نہ ہوں،ہمیں منافع نہ بھی ہو۔نمائندہ ایکسپریس کے مطابق محکمہ سوئی گیس نے غیاث پراچہ کے سوات میں قائم سی این جی اسٹیشن کاکنکشن کاٹ دیاہے۔ اوگرا کے تحت سی این جی فارمولے پر عوامی سماعت آج سہ پہرساڑھے 3بجے منعقد کی جارہی ہے جس میں اسٹیک ہولڈرز اور صارفین اپنی رائے کااظہار کریں گے۔نجی ٹی وی سے گفتگوکرتے ہوئے چیئرمین اوگراسعیداحمد نے کہا ہے کہ کراچی میںآج عوامی سماعت کرکے سی این جی کے نرخ کاحل نکال لیں گے، رواں ہفتہ صورتحال پر قابو پا لیا جائے گا،سی این جی مالکان سے اپیل ہے کہ وہ سی این جی اسٹیشنز کھول دیں۔ انھوں نے کہاکہ سی این جی ایسوسی ایشن کی تجاویز وزارت پٹرولیم کو ارسال کر دی ہیں،نئے نرخ اس ہفتے طے ہو جائیں گے،سی این جی پرٹیکس اوگرا ختم نہیں کرسکتی یہ حکومت کا فیصلہ ہوگا،سی این جی کی موجودہ قیمت پرفلنگ اسٹیشنزمالکان کونقصان نہیں ہورہا،صرف منافع میں کمی ہوئی ہے۔