جمہوریت کا فروغ
1977 کی تحریک پاکستان کی سیاسی تحریکوں میں سب سے بڑی تحریک کہلاتی ہے
ہمارے ملک کے سیاستدانوں کو یہ شکایت رہتی ہے کہ پاکستان میں جمہوریت جڑیں اس لیے نہیں پکڑ سکی کہ یہاں بار بار فوجی مداخلت کرکے جمہوریت کو پروان چڑھنے نہیں دیا گیا۔ بلاشبہ پاکستان میں بار بار فوجی مداخلت ہوتی رہی، لیکن المیہ یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان کھلے عام فوج سے کہتے رہے کہ وہ اقتدار پر قبضہ کرلے۔ اس حوالے سے اصغر خان اور ولی خان فوجی مداخلت کی حمایت میں جمہوری قدروں کو کھلے عام روندتے رہے۔
غالباً یہ 1978 کی بات ہے ہمارے مرحوم دوست عابد زبیری کی رہائش گاہ واقع ڈیفنس میں ولی خان کو ایک استقبالیہ دیا گیا تھا اس وقت بھٹو زیر حراست تھے اور ان پر مقدمہ چل رہا تھا۔ بھٹو کے خلاف اعانت قتل کے الزام میں مقدمہ چل رہا تھا۔ ضیا الحق بھٹو سے بہت خائف تھا وہ ہر حال میں بھٹو کو پھانسی گھاٹ پہنچانا چاہتا تھا۔ عابد زبیری کے استقبالیے میں جب ولی خان نے تقریر شروع کی تو بھٹو ان کا ہدف تھا ایک موقعے پر ولی خان نے کہا ''اللہ نے بھٹو کو اب گردن سے پکڑ لیا ہے اب بھٹو بچ نہیں سکتا۔'' بھٹو میں کمزوریاں تھیں لیکن وہ اس ملک کے سب سے مقبول سیاستدان تھے، ایک سیاستدان کو دوسرے سیاستدان سے اختلافات ہوسکتے ہیں لیکن اختلافات کی حدود ہوتی ہیں ،اختلاف کے نام پر انتقام کی حدیں عبور نہیں کی جاتیں ۔
اصغر خان ہالا کے پل پر بھٹو کو پھانسی دینے کی باتیں کرتے تھے اور بعض ایسے سیاستدان جو جمہوریت کے روح رواں کہلاتے ہیں، سیاسی مخالفت میں اس حد تک آگے چلے جاتے تھے کہ فوجی مداخلت پر مٹھائیاں بانٹتے تھے۔ کیا اس پس منظر میں اس الزام کو درست مانا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت اس لیے پروان نہیں چڑھ سکی کہ یہاں بار بار فوجی مداخلت ہوتی رہی؟اگر کوئی آمر جمہوری حکومت کو ختم کرکے برسر اقتدار آتا ہے تو سیاستدانوں کا فرض ہوتا ہے کہ وہاس کے خلاف تحریکیں چلائیں اور ایسا ہوتا بھی رہا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ایوب خان کی حکومت سے لے کر پرویز مشرف کی حکومت تک سیاستدان ان آمر حکومتوں میں شامل رہے۔
1977 کی تحریک پاکستان کی سیاسی تحریکوں میں سب سے بڑی تحریک کہلاتی ہے یہ تحریک اس الزام پر چلائی گئی تھی کہ 1977 کے الیکشن میں پیپلز پارٹی نے بعض حلقوں میں دھاندلی کی تھی، ہمارے سیاستدانوں کو بھٹو حکومت کی دھاندلی منظور نہ تھی سو انھوں نے بھٹو کے خلاف تحریک چلا کر اسے اقتدار سے الگ کرا دیا۔ المیہ یہ ہے کہ جمہوریت کے یہ عاشقان ضیا الحق کی حکومت میں شامل ہوگئے، کیا سیاستدانوں کا یہ عمل جمہوریت کو پروان چڑھانے میں مددگار ثابت ہوا؟
اس حقیقت سے ملک کا بچہ بچہ واقف ہے کہ امریکا ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے بھٹو سے سخت ناراض تھا۔ امریکی وزیر خارجہ کے مطالبے پر جب بھٹو نے ایٹم بم بنانے کی تیاری روکنے سے انکار کیا تو کسنجر نے بھٹو کو دھمکی دی کہ اس حکم عدولی کا انجام بہت عبرتناک ہوگا اور بھٹو کو عبرت ناک انجام تک پہنچانے کے لیے 9 ستاروں پر مشتمل وہ سیاسی تحریک چلائی گئی جو آخر کار بھٹو کے عبرتناک انجام تک پہنچی۔ کیا 9 ستارے بھٹو کو دی جانے والی امریکی دھمکی سے واقف نہیں تھے؟ کیا جمہوریت کے پرستار 9 ستاروں کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ بھٹو کے خلاف تحریک میں امریکا ڈالروں کی یلغار کر رہا تھا؟ کیا غریب عوام کو دہاڑی دے کر انھیں بھٹو کے خلاف سڑکوں پر نہیں لایا جا رہا تھا۔
ہزاروں خواتین کو بسوں میں بٹھا کر صدر اور بندر روڈ نہیں پہنچایا جا رہا تھا؟جمہوریت کو فوجی مداخلت سے ضرور نقصان پہنچا ہے لیکن جمہوریت کو سب سے زیادہ نقصان خاندانی حکمرانیوں سے پہنچا ہے اور پہنچ رہا ہے۔ 1947 سے آج تک سیاست اور اقتدار پر وہی گنے چنے خاندان قابض ہیں جن کا عوام سے کوئی تعلق نہیں، جس ملک میں باری باری کا کھیل جاری ہو اور سیاست جمہوریت اور اقتدار پر چند گنے چنے خاندان قابض ہوں کیا اس ملک میں جمہوریت پروان چڑھ سکتی ہے؟
انتخابات جمہوری نظاموں کی اساس ہوتے ہیں اور ہمارے انتخابی نظام کا حال یہ ہے کہ غریب آدمی خواہ وہ کتنا ہی باصلاحیت ایماندار اور محب عوام ہو سرے سے انتخابات میں امیدوار بننے کا سوچ بھی نہیں سکتا کیونکہ ہمارے ملک میں وہی شخص انتخابات میں حصہ لے سکتا ہے جس کے پاس کروڑوں کی دولت ہو، ہمارے ملک کی آبادی کا 50 فیصد حصہ غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہا ہے اور باقی لوگ دو وقت کی روٹی کے حصول میں دن رات مصروف ہیں، کیا یہ 90 فیصد غریب لوگ جمہوریت کا حصہ یعنی اقتدار کا حصہ بن سکتے ہیں؟
جمہوریت کے پروان نہ چڑھنے کی ایک بڑی وجہ سیاسی پارٹیوں میں شفاف انتخابات کا نہ ہونا ہے۔ سیاسی پارٹیوں میں چند خاندانوں کی اجارہ داری ہے، سیاسی جماعتوں کی قیادت انتخابی نہیں خاندانی ہے آپ ملک کی معروف سیاسی جماعتوں پر نظر ڈالیں آپ کو ایک ہی خاندان کے چشم و چراغ سیاسی پارٹیوں کے سربراہ نظر آئیں گے، کیا سیاسی پارٹیوں میں اہل لوگ موجود نہیں ہیں لیکن سیاسی پارٹیوں پر قابض خاندان پارٹیوں میں شفاف انتخابات ہونے ہی نہیں دیتے۔ یہ خاندان اس حد تک جمہوریت دشمن ہیں کہ انھوں نے ولی عہدی نظام قائم کر رکھا ہے کیا اس نظام سے جمہوریت پروان چڑھے گی؟