جماعت خود بڑی سر پرائز ہے
تمام جماعتیں آپ کے سامنے ہیں اور کیا آپ کے خیال میں کوئی جماعت سیاسی جماعتی اصولوں پر پوری اترتی ہے .
جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن نے کہا ہے کہ اگلے الیکشن میں جماعت اسلامی قوم کو سرپرائز دے گی۔ یعنی اسے اچانک حیران کر دے گی۔ یہ تو دیکھا جائے گا کہ الیکشن میں جماعت کیا کرے گی کیونکہ الیکشن ہوں گے تو کوئی جماعت قوم کے ساتھ کوئی اچھا برا سلوک کرے گی مثلاً حکومت نے محرم میں اپنی طاقت سے بڑھ کر امن قائم رکھنے کی کوشش کی مگر اس کے باوجود جلوسوں کے آس پاس بم پھٹتے رہے اور اب بھی پھٹ رہے ہیں ان حالات میں جب دو چار آدمی بھی جمع نہ ہو سکیں تو کیا الیکشن ہوں گے۔ یہ پاکستان کے خلاف ایک سازش ہے اورجس خفیہ ہاتھ کی یہ سازش ہے اس سے ہمارے وزیر داخلہ رحمن ملک باخبر ہیں اس لیے امید ہے کہ وہ الیکشن سے پہلے پہلے اس ہاتھ کو توڑ دیں گے۔ بہر کیف اس وقت بات جناب منور حسن کی طرف سے کسی سرپرائز کی ہو رہی تھی۔ میرے خیال میں تو جماعت کو کوئی سرپرائز دینے کی ضرورت نہیں کیونکہ جماعت بذات خود ایک سرپرائز ہے۔ سیاست کے اس بے اصول اور قطعاً غیر سیاسی ماحول میں جماعت جیسی کسی سیاسی تنظیم کا وجود کیا کم سرپرائز ہے جو منور صاحب کی یہ جماعت قوم کو مزید کوئی سر پرائز دے گی۔
ذرا غور فرمائیے تمام جماعتیں آپ کے سامنے ہیں اور کیا آپ کے خیال میں کوئی جماعت سیاسی جماعتی اصولوں پر پوری اترتی ہے۔ پہلی بات جو ان دنوں عام ہے یعنی قیادت میں وراثت، یہ سیاسی جماعت کی مکمل نفی ہے۔ ایسی وراثتیں بادشاہی حکومتوں میں ہوتی ہیں جب ولی عہد بیٹا دوسرا بادشاہ سمجھا جاتا ہے خواہ وہ کس قدر نالائق اور گھامڑ ہی کیوں نہ ہو۔ کسی اصول پر چلنے والی کسی جماعت یا حکومت میں وراثت کا یہ تصور اب پرانے زمانے کی متروک بات ہو چکی ہے۔ مسلمانوں میں وراثت کا یہ تصور نہیں رہا۔ حضرت عمرؓ کے بیٹے عبداللہ کے بارے میں قوم متفق تھی کہ وہ اپنے عظیم المرتبت باپ کے صحیح جانشین ہو سکتے ہیں۔
حضرت عمرؓ کو بھی اس کا علم تھا لیکن انھوں نے اپنی جگہ خلافت کے لیے جو کمیٹی قائم کی اس میں اپنے اس لائق بیٹے کو ایک رکن تو نامزد کر دیا مگر ساتھ ہی یہ ہدایت بھی کر دی کہ یہ ان کی جگہ امیر المومنین نہیں ہو گا۔ یہ فیصلہ وراثت کے نظام کو ختم کرنے کے سوا اور کچھ نہ تھا پھر ہمارے آپ کے زمانے میں بھی جب ایوب خان کے دور میں سیاست بحال ہوئی اور ایوب خان نے سیاسی جماعت قائم کرنے کے لیے کنونشن بلائی تو اس کے جواب میں میاں ممتاز دولتانہ نے مسلم لیگیوں کی کونسل کا اجلاس طلب کر لیا لیکن دونوں نے دو جماعتیں تو بنا لیں مگر اولاد ہونے کے باوجود کسی کو وارث نامزد نہیں کیا۔ کیونکہ اس دور تک سیاسی جماعت بندی کی اچھی روایات بھی قائم تھیں۔
جماعتی سیاست میں تباہی تو ایوب خان کے بعد بھٹو دور میں آئی جب وراثت کا باقاعدہ سلسلہ چل پڑا اور چل رہا ہے اب بلاول زرداری صاحب کا وارث سمجھا جا رہا ہے۔ اس طرح جماعتوں کے اندر ہر عہدہ کے لیے الیکشن لازم سمجھا جاتا تھا لیکن پیپلز پارٹی میں آج تک کسی بھی عہدے کا الیکشن نہیں ہوا کیونکہ اس سے وراثت خطرے میں پڑ سکتی تھی۔ جماعتی تشکیل کے مروجہ اصولوں کی خلاف ورزی کا نمونہ ہماری یہ بڑی پارٹی ہے۔ دوسری پارٹیاں بھی خاندانی بن گئی ہیں۔ ن لیگ ایک خاندان کی پارٹی ہے، ق لیگ بھی ایک خاندان کی، مولویوں کی جمعیت علماء اسلام بھی ایک خاندان کی، اسی طرح تمام پارٹیاں خاندانی ہیں، عمران خان کی پارٹی بنے گی تو دیکھیں گے، اگر کوئی پارٹی وراثت کی قائل نہیں ہے تو وہ ہے جس میں کوئی وارث اس قابل نہیں کہ سیاست کر سکے۔
یوں تو ہر پارٹی کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں مگر ''بہشتی دروازہ'' صرف اپنے خاندان کے لیے ہے ایسے سیاسی ماحول میں جب سیاسی اصولوں کی مٹی پلید ہو رہی ہو اگر جماعت اسلامی بھی اس مٹی کو مزید پلید کرنے میں شامل ہو جاتی تو کوئی انگلی نہ اٹھاتا مگر مجھے یاد ہے کہ سید مودودی نے اپنی موجودگی میں جب ایک کارکن میاں طفیل محمد کو اپنی جگہ امارت دینی چاہی تو ارکان جماعت سے بس اتنا کہا کہ میاں صاحب ہمارے بہت اچھے کارکن ہیں۔
اپنے کسی بیٹے کو اپنی جگہ نامزد نہیں کیا تب سے اب تک جو اچھا کارکن ہے وہ جماعت کا امیر ہے کسی خاندان اور خون کے رشتہ کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جب کہ مولانا کے بیٹے بھی تھے۔ اسی طرح جماعت کے ہر عہدہ کے لیے الیکشن ہوتا ہے اس ضمن میں جماعت کے آئین کی پابندی کی جاتی ہے۔ اس طرح دیکھیں تو جماعت اسلامی بذات خود اس قوم کے لیے سب سے بڑی سیاسی اور انتخابی سرپرائز ہے مگر میرے ذاتی خیال میں یہ قوم اس سو فی صد بے لوث اور ہر حال میں اصولوں کی ماری ہوئی جماعت کی سرپرائز کو قبول نہیں کرے گی اور کسی دوسری پیپلز پارٹی میں پھنس جائے گی۔ اس وقت آئیڈیل تو یہ ہے کہ جماعت اسلامی کسی موزوں اور نسبتاً کم بے اصولی جماعت کی حمایت کرے اور دونوں مل کر الیکشن لڑیں شاید اس ملک کو بدعنوانی کے سیلاب سے کسی حد تک نجات مل سکے۔
یہ باتیں مجھے جناب سید منور حسن کی اس بات سے یاد آئیں کہ ان کی جماعت الیکشن میں قوم کو سرپرائز دے گی ویسے یہی جماعت بذات خود ایک سرپرائز ہے جس میں قوم کی نجات ہے۔