تنازعہ کشمیر اور او آئی سی
بھارتی حکومت کو اب احساس ہو جانا چاہیے کہ اس نے مقبوضہ کشمیر کو اپنا حصہ بنانے کے لیے جو کچھ بھی کیا ہے
مقبوضہ کشمیر میں حالات بدستور کشیدہ ہیں، احتجاج کا سلسلہ بدھ کو بھی جاری رہا، شہداء کی تعداد 36 ہو گئی، کنٹرول لائن کے دونوں جانب گزشتہ روز یوم شہدائے کشمیر عقیدت و احترام سے منایا گیا جب کہ سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے یورپی یونین اور ان کے تمام ارکان سے مطالبہ کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی طرف سے مسلسل انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لیں۔
انھوں نے اسلام آباد میں یورپی یونین کے سفیروں کو بریفنگ دی۔ سیکریٹری خارجہ نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) رابطہ گروپ کے رکن ملکوں کے سفیروں کو بھی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور سخت کشیدہ صورتحال کے حوالے سے بریفنگ دی اور پاکستان کی تشویش سے آگاہ کیا۔ آذر بائیجان، سعودی عرب، ترکی اور نائیجریاکے سفیروں کوبریفنگ دیتے ہوئے سیکریٹری خارجہ نے کہا یکجہتی کے جذبے اور مسلم بھائی چارے کے تحت او آئی سی کے تمام رکن ملکوں کو بھارتی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے۔
بھارت کے مسلمان مشکل اور چیلنجوں کے اس وقت میں اپنے مسلمان بھائیوں کی جانب دیکھ رہے ہیں۔ چھیاسیواں یوم شہدائے کشمیر اس عزم کی تجدید کے ساتھ منایا گیا کہ مقبوضہ کشمیر کی بھارتی تسلط سے مکمل آزادی تک جدوجہد آزادی کو جاری رکھا جائے گا۔ یہ دن ان کشمیری شہداء کی یاد میں منایا گیا جنہوں نے ڈوگرا راج سے آزادی کے نصب العین کے لیے 13جولائی1931کو سینٹرل جیل سری نگر کے سامنے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پولیس نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق کو اس وقت گرفتار کر لیا جب انھوں نے سرینگر میں یوم شہدائے کشمیر کے موقع پر کرفیو توڑتے ہوئے گھر سے نکل کر نقشبند صاحب کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی۔ دونوں رہنماؤں کو تھانوں میں نظر بند کر دیا گیا۔
بھارتی حکومت کو اب احساس ہو جانا چاہیے کہ اس نے مقبوضہ کشمیر کو اپنا حصہ بنانے کے لیے جو کچھ بھی کیا ہے' وہ سب بیکار ہے اور کشمیری عوام آج بھی بھارت سے آزادی چاہتے ہیں' بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں ریاستی اسمبلی کے الیکشن کرا کے دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ کشمیری عوام نے اس طرح اپنے حق خود ارادیت کا مظاہرہ کیا ہے' بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں اربوں روپے کے ترقیاتی کام بھی کرائے لیکن اس کا نتیجہ کیا نکلا؟ کچھ بھی نہیں' کشمیری آج بھی بھارت کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔
اصل مسئلہ وہی ہے کہ بھارت اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق کشمیریوں کو حق استصواب رائے کا موقع دے تاکہ کشمیری عوام اپنی مرضی کے مطابق فیصلہ کریں کہ وہ بھارت کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان کے ساتھ لیکن بھارت ایسا نہیں کر رہا جس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ ادھر یورپی یونین کو بھی چاہیے کہ وہ کشمیر کی صورت حال پر توجہ دے۔ یورپی یونین امیر ممالک کا اتحاد ہے۔ یہ وہ ممالک ہیں جن پر دنیا کی پالیسی سازی پر بڑا اثر ہے' ان ممالک کو حقائق کا بھی بخوبی علم ہے' انھیں پتہ ہے کہ کشمیر کے حوالے سے بھارت کا موقف کمزور ہے' اگر یورپی یونین سنجیدگی سے بھارت پر دباؤ ڈالے اور تنازعہ کشمیر کو حل کرنے کی کوشش کرے تو اس معاملے میں معنی خیز پیشرفت ممکن ہو سکتی ہے' جہاں تک اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کا تعلق ہے تو یہ ایک غیر فعال قسم کی تنظیم ہے' اس تنظیم کا آئینی ڈھانچہ کمزور ہے جس کی وجہ سے یہ تنظیم کسی بھی ایشو پر کوئی فیصلہ کن کردار ادا نہیں کر سکی۔
او آئی سی جب سے قائم ہوئی ہے اس کے صرف اجلاس ہی ہوئے ہیں' یا زیادہ سے زیادہ کسی اجلاس میں کوئی قرار داد منظور ہوئی اور ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا۔ مسلم ممالک کو کئی بحران کا سامنا کرنا پڑا' افغانستان' عراق' شام' لیبیا اور صومالیہ کے معاملات بھی یہ تنظیم کوئی کردار ادا نہیں کر سکی۔ یمن کے بحران میں بھی یہ تنظیم غیر متعلق رہی' چلیں یہ تو آزاد اور خود مختار ممالک کا بحران تھا لیکن او آئی سی ان معاملات میں بھی کوئی کردار ادا نہیں کر سکی جن میں مسلمان غیر مسلم اکثریتی حکومتوں کے جبر کا شکار ہیں۔
برما کے مسلمانوں کے ساتھ کیا کچھ نہیں ہوا' اس معاملے میں او آئی سی یا کسی اور مسلمان ملک نے کیا کردار ادا کیا۔ اسی طرح کشمیر کے تنازعہ پر بھی او آئی سی کا کردار خاموش تماشائی کا ہے۔ پاکستان کے سیکریٹری خارجہ نے او آئی سی کے ارکان سے بات کی ہے اور ان سے کشمیر کے حوالے سے کردار ادا کرنے کی بھی بات کی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا او آئی سی اس معاملے میں کچھ کر سکتی ہے۔ مسلم ممالک کا تو حال یہ ہے کہ یہ شام اور عراق کے پناہ گزینوں کو پناہ دینے کے لیے تیار نہیں ہیں' انھیں بھی غیر مسلم ممالک ہی پناہ دے رہے ہیں۔ ایسی صورت میں او آئی سی جیسی کاغذی تنظیم سے کسی قسم کی توقع رکھنا جاگتے میں خواب دیکھنے کے برابر ہے۔