مرا ہوا ہاتھی بھی…

آج پسماندہ ملکوں کے عوام کی 50 فیصد سے زیادہ تعداد غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہی ہے


Zaheer Akhter Bedari July 14, 2016
[email protected]

دنیا کی بڑی طاقتیں اگراصولوں اورانصاف کی سیاست کرتیں توآج دنیا امن وآشتی اورخوشحالی کی دنیا ہوتی لیکن بڑی طاقتوں کی مفاداتی سیاست نے دنیا کو جنگوں، نفرتوں، علاقائی تنازعات اور دہشت گردی جیسی بلاؤں کی آماجگاہ بنا کر رکھ دیا ہے۔ دنیا کے لگ بھگ 7 ارب عوام ایک غیر یقینی پرخطر اور معاشی بدحالی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ دنیا کے فیصلے کرنے کا اختیار ان شیطانوں کو حاصل ہے، جنھیں سوائے سامراجی مفادات کے کچھ نظر نہیں آتا اور یہ سب کچھ اس وقت تک ہوتا رہے گا جب تک فیصلے کرنے کا اختیار سیاستدانوں اور اسلحہ بنانے والی کمپنیوں کے مالکان کے ہاتھوں میں ہوگا۔ اسلحے کی صنعت میں مفاد پرست اور منافعے کے لالچیوں کا کھربوں ڈالر کا سرمایہ لگا ہوا ہے اور یہ ننگ انسانیت لوگ اربوں روپے کما رہے ہیں ان کی صنعتوں کی زندگی کا انحصار ہتھیاروں کی فروخت پر ہے اور ہتھیاروں کی فروخت کے لیے جنگوں اورعدم اعتماد کی فضا ضروری ہے۔

آج پسماندہ ملکوں کے عوام کی 50 فیصد سے زیادہ تعداد غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ ہر سال لاکھوں انسان بھوک، بیماری کی وجہ موت کے منہ میں جا رہے ہیں اور لاکھوں فوجی جوان جنگوں کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔ ابھی عراق کی جنگ سے نجات ملی تھی کہ عراق اورشام کو دہشت گردی کے جہنم میں دھکیل دیا گیا جہاں ہر روز سیکڑوں بے گناہ عوام موت کا شکار ہو رہے ہیں۔

عراق اور شام کی ہولناک زندگی سے خوفزدہ لوگ انتہائی پرخطر سفرکرکے یورپی ملکوں کی طرف جا رہے ہیں اور پرہجوم کشتیاں ڈوب رہی ہیں اوران کشتیوں میں بیٹھ کر یورپی ملکوں میں پناہ کی آس میں جانے والے خاندان سمندر میں ڈوب کر جانوں سے جا رہے ہیں جن میں مرد، عورتیں، بچے، بوڑھے سب شامل ہیں، ان تارکین وطن کو پناہ دینے والے ترقی یافتہ ملکوں اور اقوام متحدہ کے کرتا دھرتاؤں کو یہ احساس نہیں کہ اگر عراق اور شام میں خونریزی جاری رہی تو تارکین وطن کی آمد جاری رہے گی۔

ایران عشروں سے سامراجی ملکوں کی امتیازی پالیسیوں کا شکار رہا، سامراجی شیطانوں نے ایران پر اقتصادی پابندیاں لگا کر ایرانی عوام کی زندگی حرام کردی تھی آخرکار جب ایرانی حکمرانوں نے سامراجی ملکوں کی شرائط مان کر اپنے ایٹمی پروگرام سے دست بردار ہونے پر رضامندی ظاہر کی تو اس سے وعدہ کیا گیا کہ اب اس پر عائد اقتصادی پابندیاں ختم کردی جائیں گی لیکن سامراجی ملک ابھی تک اپنے وعدے پورے نہ کرسکے۔

اس صورتحال کی وجہ ایران کا حکمران طبقہ ناراض ہو رہا ہے۔ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹر علی لاریجانی نے دھمکی دی ہے کہ مغربی ملک اگر اپنے وعدے کے مطابق ایران پر عائد پابندیاں ختم نہ کیں تو ایران ایٹمی معاہدہ ختم کردے گا۔ علی لاریجانی نے کہا ہے کہ سامراجی ملک ایٹمی معاملے کوکسی اور طرح اٹھانے کی کوشش کررہے ہیں۔ علی لاریجانی نے کہا ہے کہ سامراجی ملک دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بہانے ایران پر نئی پابندیاں لگانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں اورعلاقے کی دہشت گردی کی مخالف تنظیم حزب اللہ کو دہشت گردوں کی فہرست میں غیر منصفانہ طور پر محض ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے شامل کردیا گیا ہے۔

روس کے صدر پوتن نے کہا ہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کو خطرہ بناکر پیش کرنے کا ڈراما اب نہیں چلے گا۔ اصل بات یہ ہے کہ امریکا ایران کے ایٹمی پروگرام کو بہانہ بناکر مشرقی یورپ میں میزائل سسٹم کی تنصیب کو حق بجانب ثابت کرنا چاہتا ہے لیکن روس ان سازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دے گا اوراس کا مناسب جواب دے گا۔ روسی صدر اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر علی لاریجانی کے بیانات سے اندازہ ہو رہا ہے کہ امریکا علاقے میں ایک نیا کھیل کھیلنے کی تیاری کر رہا ہے۔امریکا اپنی شش جہت سازشوں کے ذریعے روس کو توڑنے کے بعد دنیا پر بلاشرکت غیرے حکمرانی کو اپنا حق سمجھتا ہے اور اپنی اس پوزیشن کو مستحکم کرنے کے لیے وہ دنیا بھر میں سازشوں کا جال بچھا رہا ہے۔

روس کے بعد چین ایک ایسا ملک ہے جسے امریکا کے منصوبہ ساز مغرب کے مستقبل کا خطرہ سمجھتے ہیں۔ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے امریکا بھارت کو اپنا اتحادی بنانا چاہتا ہے۔ بھارتی حکمران طبقے میں دور اندیشی کے فقدان کی وجہ سے امریکا بھارت کو ایشیا میں اپنا اسٹریٹجک پارٹنر بنانے میں یوں کامیاب ہوگیا کہ بھارتی حکمران طبقہ خطے کی سپر پاور بننے کی شدید خواہش میں مبتلا ہے۔ امریکا کا حکمران طبقہ بھارت کی اس کمزوری سے اچھی طرح واقف ہے اوراسی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکا نے اسے علاقے کا چوہدری بنانے کا منصوبہ تیار کرلیا ہے۔ پاکستان روز اول سے امریکا کا باجگزار بنا ہوا تھا لیکن پاکستان کی چین سے بڑھتی ہوئی دوستی خاص طور پر چین کے ساتھ اقتصادی راہداری کے منصوبے پر دستخط کے بعد امریکا نے نہ صرف پاکستان کی ''خدمات'' کو بھلا دیا ہے بلکہ تادیبی کارروائیوں کا آغاز بھی کردیا ہے۔

امریکا مشرق وسطیٰ میں ہمیشہ اسرائیل کو علاقے کی بالادست قوت دیکھنا چاہتا ہے اسے اندازہ ہے کہ اس کے غلام عرب حکمران کبھی اس کے لیے خطرہ نہیں بن سکتے، لہٰذا اس کی ساری توجہ ایران پر لگی ہوئی ہے وہ ایران پر ایٹمی حوالے سے دباؤ برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ اسی مقصد کے لیے وہ عشروں کی کوششوں کے نتیجے میں ایران سے ہونے والے ایٹمی معاہدے کو بھی ناکافی قرار دے کر ایران کے خلاف ایک بار پھر اقتصادی پابندیاں سخت کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن امریکا کے تھنک ٹینک غالباً یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ''مرا ہوا ہاتھی بھی سوا لاکھ کا ہوتا ہے'' روس سے پنگے بازی ہتھیاروں کے تاجروں کے حق میں توجاتی ہے لیکن امریکا کو مہنگی پڑسکتی ہے۔

مقبول خبریں