شیطانی فلم مصری عدالت نے 7 عیسائیوں اور پادری کو سزائے موت سنادی

فلم بنانیوالے مصری سمیت تمام مجرمان امریکا میں ہیں، فیصلہ ان کی غیر حاضری میں سنایا گیا.


AFP November 29, 2012
فلم بنانیوالے مصری سمیت تمام مجرمان امریکا میں ہیں، فیصلہ ان کی غیر حاضری میں سنایا گیا. فوٹو: رائٹرز

مصر کی ایک عدالت نے گستاخانہ فلم بنانے میں ملوث 7 مصری عیسائیوں اور متنازع امریکی پادری کو سزائے موت کا حکم سنایا ہے ۔

فلم بنانے والے مصری عیسائی سمیت تمام مجرمان امریکا میں روپوش ہیں اور مقدمہ ان کی غیر حاضری میں چلایا گیا، امریکی پادری ٹیری جونز امریکا کی ریاست فلوریڈا میں ایک چھوٹے سے فرقے کا سربراہ بنا ہوا ہے، مقدمے کی سماعت کے دوران گستاخانہ فلم کے علاوہ، فلم کیخلاف لیبیا میں ہونیوالے احتجاجی مظاہروں کے کلپس دکھائے گئے، سرکاری خبر رساں ایجنسی مینا کے مطابق مصر میں توہین اسلام کے مقدمات میں عموماً زیادہ سے زیادہ سزا دی جاتی ہے اور پھر فیصلہ منظوری کیلیے مفتی اعظم کو بھیجا جاتا ہے ۔

جو ہمیشہ منظوری دے دیتے ہیں، اگر مجرمان واپس مصر آجائیں تو ان کا دوبارہ ٹرائل کیا جاتا ہے، امریکا میں بننے والی کم بجٹ کی اس توہیں آمیز فلم سے دنیا بھرکے مسلمانوں میں شدید غم و غصہ پیدا ہو گیا تھا، مشتعل مظاہرین نے لیبیا کے شہر بن غازی میں قونصلیٹ پر حملے کے دوران امریکی سفیر کرس سٹیونز کو ہلاک کر دیا تھا۔