کرا چی بوگس ووٹرز کیس فوج کی مدد لیں کئی معاملات ٹھیک ہوجائینگے سپریم کورٹ

فوج کی شمولیت سے الیکشن پر امن ہوگا، جرائم پیشہ افراد کی نشاندہی ہوسکتی ہے، چیف جسٹس، فیصلہ محفوظ


News Agencies/Numainda Express November 29, 2012
پورے ملک میں مشق دہرائی جائے، متحدہ، 32 ہزارووٹ ٹرانسفر کیے، الیکشن کمیشن، ایک گھر پر653 ووٹ درج ہیں، رشید رضوی، کیا یہ گھرجن کا ہے؟افتخار چوہدری۔ فوٹو: فائل

لاہور: سپریم کورٹ آف پاکستان نے 30 لاکھ ووٹ کراچی سے باہر منتقل کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

جبکہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ کراچی میں فوج کی مدد لی جائے تو کئی معاملات ٹھیک ہو جائیں گے، الیکشن کمیشن کراچی کی حد تک ڈور ٹو ڈور ووٹرز کی تصدیق دوبارہ کرے، عدالت ورکرز پارٹی کیس میں فیصلہ دے چکی ہے، آرمی یا رینجرز کی خدمات حاصل کی جا سکتی ہیں، فوج کی شمولیت سے الیکشن پر امن ہو گا، کراچی پاکستان کا چہرہ ہے، وہاں امن نہ ہو تو معیشت پر اثر پڑے گا، قانون کے مطابق انتخابی فہرستیں اپ ڈیٹ ہونی چاہئیں، ایم کیو ایم نے کراچی میں فوج کی نگرانی میں فہرستوں کی تیاری کی مخالفت کر دی۔

بدھ کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں جسٹس گلزار احمد اور جسٹس شیخ عظمت نے کراچی میں انتخابی فہرستوں کی دوبارہ تصدیق سے متعلق جماعت اسلامی، تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کی درخواستوں کی سماعت کی تو عدالت کے حکم پر الیکشن کمیشن نے کراچی کی ووٹرز لسٹوں سے متعلق رپورٹ جمع کرائی۔ الیکشن کمیشن سندھ نے بتایا کہ 32 ہزار 281 ووٹ مستقل پتوں پر ٹرانسفر کیے گئے۔

جماعت اسلامی کے وکیل رشید اے رضوی نے کہا کہ ایک ایڈریس ایسا ہے جس کے 120 گز کے گھر پر653 لوگوں کے ووٹ رجسٹرڈ ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیا یہ گھر کسی جن کا ہے؟ ایم کیو ایم کے وکیل فروغ نسیم نے تجویز دی کہ عدالت یہ معاملہ چیف الیکشن کمشنرکو بھجوائے وہ سب کو سن کر فیصلہ کریں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کراچی کے حوالے سے بڑی شکایات آئی ہیں، کیا آپ عدالت کو بتا سکتے ہیں کہ ملک کے دیگر حصوں سے بھی ایسی شکایات موصول ہوئی ہیں، ووٹ کا اندراج انفرادی معاملہ ہے، پارٹیوں کو چاہیے ایک طرف بیٹھیں، کیوں نہ ہم الیکشن کمیشن کو کہیں کہ کراچی کی حد تک ڈور ٹو ڈور ووٹرز کی تصدیق دوبارہ کرے، عدالت ورکرز پارٹی کیس میں فیصلہ دے چکی ہے، آرمی، رینجرز کی خدمات حاصل کی جا سکتی ہیں جس سے امن و امان کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا اور جرائم پیشہ عناصر بھی ختم ہو سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں بہت سے عناصر ہیں جن کے وہاں ہونے کا جواز نہیں بنتا، اس عمل میں فوج کی شمولیت سے ان عناصر کا خاتمہ ہو سکتا ہے، یہ مشق قومی مفاد میں ہو گی۔ ایم کیو ایم کے وکیل فروغ نسیم نے تجویز کی مخالف کرتے ہوئے کہا کہ کراچی دو کروڑ آبادی کا شہر ہے، عدالت پہلے مردم شماری پھر پورے ملک میں فوج کے ذریعے ووٹر فہرست بنانے کا حکم دے، اگر ایسا ہے تو یہ مشق پورے پاکستان میں ہونی چاہیے۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم تو آپ سے مثبت جواب کی توقع کر رہے تھے، اگر یہ مشق پورے پاکستان میں ہوئی تو انتخابات 6 سال بعد ہی ہونگے، ہم نے یہ بات حالات دیکھ کر کہی، فوج کی شمولیت سے الیکشن پر امن ہو گا، کراچی پاکستان کا چہرہ ہے وہاں امن نہ ہو تو معیشت پر اثر پڑے گا، اتفاق رائے سے معاملے کا حل چاہتے ہیں، عدالت چاہے تو خود سے بھی حکم جاری کر سکتی ہے، سب ملکر ایسی مشق کریں جس سے تنازعات ختم ہوں، فوج اور ایف سی کے گھر گھر رابطے سے مسئلہ حل ہو سکتا ہے، ایک بار جمہوریت سنبھل جائے سب کچھ ٹھیک ہو جائیگا۔

فروغ نسیم نے عدالت کو بتایا کہ کراچی میں اتنی بڑی تعداد میں ووٹ منتقل نہیں کیے گئے جتنا واویلا کیا جارہا ہے، ٹوٹل 23 ہزار ووٹوں کا معاملہ ہے۔ مسلم لیگ (ن)کے وکیل رانا شمیم نے عدالت کو بتایا کہ انھوں نے ووٹ منتقل کرنے کی درخواست بھی نہیں دی تھی تاہم ان کا ووٹ منتقل کر دیا گیا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن کراچی کی حد تک ووٹر فہرستوں کا ازسر نو جائزہ لے۔ خصوصی خبر نگار کے مطابق دوران سماعت جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیے ہماری انتخابی تاریخ غلطیوں اور دھاندلیوں سے بھری پڑی ہے۔

آئندہ عام انتخابات میں یہ سایہ نہیں ہو نا چاہیے جبکہ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے جمہوریت اور شفاف الیکشن اس ملک کے مسائل کا واحد حل ہے، ہمیں خدشہ ہے چھوٹی چھوٹی شکایات کی آڑ میں کوئی اور کام نہ ہو جائے، ملک اس طرح کی صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا، اگر کراچی کی حد تک گھر گھر جا کر ووٹوں کی تصدیق کا عمل دوباہ کیا جائے تو اس سے شفافیت آ جائے گی، فہرستوں کو درست کرنا ایک مسلسل عمل ہے اور جب تک الیکشن نہ ہوں یہ عمل جاری رہے گا۔ چیف جسٹس نے کہا گزشتہ عام انتخابات سے پہلے انتخابی فہرستوں سے دو کروڑ ستر لاکھ ووٹ نکالے گئے تھے۔

اس موقع پر ایم کیو ایم کے وکیل نے کہا کہ انھیں پیر تک مہلت دی جائے تاہم عدالت نے ان کی استدعا مسترد کرتے ہوئے مقدمے کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔ سماعت کے دوران الیکشن کمیشن نے ایڈووکیٹ رانا شمیم کی شکایت پر ووٹ کے انتقال کے لیے جمع کی گئی درخواست پیش کی۔ کمیشن کے وکیل منیر پراچہ نے کہا ووٹ کراچی سے اوکاڑہ منتقل کرنے کی درخواست شکایت گزار نے خود دی تھی جبکہ رانا شمیم نے درخواست دینے کی تردید کی اور کہا درخواست پر دستخط جعلی ہیں۔ چیف جسٹس نے درخواست دیکھنے کے بعد کہا واقعی یہ دستخط اصلی نہیں۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا اس انکشاف نے فہرستوں کی تیاری کے سارے عمل کو مشکوک کر دیا۔ رانا شمیم نے بتایا کراچی میں جو فارم تقسیم ہوئے اسے کچی پنسل سے پر کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔