ویلیوایشن قوانینریئل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری منجمد

یورپی وخلیجی ممالک نے موقع سے فائدہ اٹھانے کیلیے سرمایہ کاروں کولبھانا شروع کردیا


Ehtisham Mufti July 21, 2016
یورپی وخلیجی ممالک نے موقع سے فائدہ اٹھانے کیلیے سرمایہ کاروں کولبھانا شروع کردیا۔ فوٹو : فائل

حکومت کی جانب سے جائیدادوں کی فیئرمارکیٹ ویلیو اسیسمنٹ نافذہونے کے بعد زمینوں کی خریدوفروخت کا عمل اورتعمیراتی شعبے میں نئی سرمایہ کاری منجمد ہوگئی۔

تعمیراتی انڈسٹری کے باخبرذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ منظم تعمیراتی شعبے میں اضطراب کی اس لہرکومدنظر رکھتے ہوئے پاکستان میں قائم یورپی اور خلیجی قونصلیٹس نے پاکستانی بلڈرزاینڈڈیولپرزاور ریئل اسٹیٹ سیکٹرکے سرمایہ کاروں کو اپنے ممالک کی ریئل اسٹیٹ میں ٹیکس ودیگرترغیبات پرمبنی سرمایہ کاری بشمول شہریت دینے کے پیشکشیں دینا شروع کردی ہیں جس کے نتیجے میں وسیع سرمایہ بیرونی ممالک میں منتقل ہونے کے خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔

تعمیراتی شعبے نے فنانس ایکٹ 68(4) میں ترمیم کے ذریعے جائیدادوں کی فیئرمارکیٹ ویلیوایسسمنٹ جیسے نئے اقدام کوسال 1999 کے فارن کرنسی اکاؤنٹ منجمد کرنے کے اقدام سے مشابہ قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ غیردانشمندانہ اقدام ملک سے کھربوں روپے کاسرمایہ کے منتقلی اورریئل اسٹیٹ سیکٹرمیں اضطراب بڑھانے کا باعث بنے گا، ایف بی آر میں ہونے والے حالیہ اجلاس میں ایک13 رکنی کمیٹی کے قیام کے بعد اجلاسوں کا سلسلہ اگرچہ شروع ہوگیا ہے لیکن تعمیراتی انڈسٹری میں یہ تاثر عام ہے کہ معاملہ جوں کا توں ہی رہے گا اور اجلاسوں میں صرف وقت کا ضیاع ہی ہوگا کیونکہ حکومت کا اس ضمن میں رویہ سنجیدہ نہیں ہے۔ واضح رہے کہ تعمیراتی انڈسٹری پہلے ہی فنانس ایکٹ میں مذکورہ ترمیم کومسترد کرچکی ہے کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ اس اقدام سے کرپشن کا نیادروازہ کھلے گاتاہم اس غیراعلانیہ ایمنسٹی اسکیم سے کالے دھن کاحامل مخصوص طبقہ ضرور مستفید ہوسکے گا۔

اس ضمن میں ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کے چیئرمین سدرن زون آصف سم سم نے ''ایکسپریس'' کے استفسار پر کہا کہ فنانس ایکٹ میں کی جانے والی ترمیم درحقیقت معیشت کی شہ رگ کاٹنے کے مترادف ہے جس سے تعمیراتی انڈسٹری سے منسلک 100 سے زائد صنعت وتجارت کے شعبے تباہ ہوجائیں گے۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس اقدام کے بعد اراضیوں کی خریدوفروخت اورتعمیراتی شعبے میں نئی سرمایہ کاری رک گئی ہے جبکہ وہ اوورسیز پاکستانیز جو اپنی بچتوں سے مقامی ریئل اسٹیٹ سیکٹر میںسرمایہ کاری کرتے تھے، نے ہاتھ کھینج لیا ہے۔ آصف سم سم نے کہا کہ آباد ملک بھرکی تعمیراتی انڈسٹری کا واحد نمائندہ پلیٹ فارم ہے جبکہ حکومت نے یہ اقدام آباد کو اعتماد میں لیے بغیریکطرفہ بنیادوں پر اٹھایا ہے جوتشویشناک امر ہے۔

انہوں نے حکومت کو تجویز دی کہ وہ حقیقی اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے ساتھ ایسی پالیسیاں ترتیب دے جواس شعبے کے فروغ اور ریونیو میں اضافے کا باعث بننے کے ساتھ عوام کو بھی ریلیف پہنچائیں، حکومت اگر اس مسلے کا حل چاہتی ہے تو وہ فنانس ایکٹ میں کی جانے والی حالیہ ترامیم کوواپس لیتے ہوئے سالانہ بنیادوں پراراضیوں کی ڈی سی ویلیومیں بتدریج اضافے کی پالیسی متعارف کرائے تاکہ اس شعبے میں سرمایہ کاری کوفروغ اورمحصولات کے حجم میں بھی اضافہ ممکن ہوسکے، بصورت دیگرمعیشت کا پہیہ سست اورکرپشن کے نئے دروازے کھل جائیں گے اورمنظم تعمیراتی شعبے کی ترقی وفروغ کے لیے آباد کی جانب سے کی جانے والی کاوشیں مطلوبہ نتائج کے حامل نہیں ہوسکیں گی۔

مقبول خبریں