دنیا کی تاریخ کا گرم ترین سال

گلوبل وارمنگ کی ذمےداری ان ترقی یافتہ صنعتی ممالک پرعاید ہوتی ہےجن کےکارخانے اور ملیں زہریلی گیسیں خارج کرتی ہیں


Editorial July 23, 2016
گلوبل وارمنگ کے خطرہ کو وقتی طور پر ٹالا جا سکتا ہے مگر شاید اس میں بھی وہ امیر ترین ممالک اپنا خسارہ سمجھتے ہیں۔ فوٹو فائل

FAISALABAD: سوئس دارالحکومت جنیوا میں قائم اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ میٹرولوجل آرگنائزیشن (ڈبلیو ایم او) کی طرف سے ایک انتہائی تشویشناک حقیقت کی نشاندہی کی گئی ہے کہ فضا میں کاربن ڈائی اکسائیڈ کی سطح حد سے بہت زیادہ بڑھ گئی ہے جس کے نتیجے میں کرئہ ارض کی حدت (گلوبل وارمنگ) میں غیر معمولی حد تک اضافہ ہو رہا ہے اور آئندہ سال ممکن ہے کہ دنیا کی تاریخ کا گرم ترین سال ثابت ہو۔

اس ادارے نے اعداد و شمار کی روشنی میں جو رپورٹ شایع کی ہے اس کے مطابق حالیہ گزرنے والا جون کا مہینہ مسلسل 14 واں مہینہ تھا جو زمین اور سمندروں کے لیے گرم ترین رہا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ دسمبر میں اہم عالمی ممالک کا اجلاس ہوا تھا جس میں گلوبل وارمنگ میں کمی کے اقدامات کا فیصلہ کیا گیا تھا لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ان اقدامات کو سنجیدگی کے ساتھ نافذ العمل کرنے کی کوشش کی جائے بصورت دیگر دنیا ایسے خطرناک سیلابوں اور طوفانوں کا شکار ہو سکتی ہے جس سے بہت کچھ تلپٹ ہو جائے گا اور اس کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کی تلافی بھی ممکن نہ رہے گی۔

یہ بات تو سب جانتے ہیں کہ گلوبل وارمنگ کی ذمے داری ان ترقی یافتہ صنعتی ممالک پر عاید ہوتی ہے جن کے کار خانے، ملیں اور فیکٹریاں دن رات زہریلی گیسیں خارج کرتی رہتی ہیں جب کہ زہریلا مواد پانی میں بھی بہا دیا جاتا ہے جس سے آبی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا رہتا ہے جو آبی حیات کے لیے ہلاکت خیز ہوتا ہے۔ عالمی سطح کے اجلاسوں میں یہ فیصلے بھی کیے جاتے ہیں کہ گلوبل وارمنگ کا باعث بننے والی صنعتی سرگرمیاں مکمل طور پر بند تو نہیں کی جا سکتیں البتہ یہ ضرور کیا جا سکتا ہے کہ زہریلا مواد پانی میں گرانے سے پہلے اس کی ٹریٹمنٹ کر لی جائے تا کہ اس کے زہریلے پن میں تھوڑی کمی واقع ہو جائے اسی طرح فضا میں چھوڑے جانے والے زہریلے دھوئیں کی بھی ٹریٹمنٹ کر لی جائے اس طرح بھی گلوبل وارمنگ کے خطرہ کو وقتی طور پر ٹالا جا سکتا ہے مگر شاید اس میں بھی وہ امیر ترین ممالک اپنا خسارہ سمجھتے ہیں۔

ڈبلیو ایم او کے موسمیاتی تبدیلی کے تحقیقاتی پروگرام کے ڈائریکٹر ڈیوڈ کارلسن نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ 2016کے ابتدائی چھ ماہ میں جو اعداد و شمار اس حوالے سے اکٹھے کیے ہیں وہ رونگٹے کھڑے کرنے والے ہیں۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ کرۂ ارض پر ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیوں کا سنجیدگی سے جائزہ لیا ہے کیونکہ ماحولیاتی تبدیلیاں کسی ایک ملک نہیں بلکہ پورے کرۂ ارض اور اس پر بسنے والے انسانوں اور دیگر جانداروں کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔