احتساب کا آغاز

ملک میں لوٹ مار کا جو کلچر جڑیں پکڑ چکا ہے، اسے نیم دلانہ، مصلحانہ اور امتیازی احتساب سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔


Zaheer Akhter Bedari July 23, 2016
[email protected]

ISLAMABAD: ملک میں لوٹ مار کا جو کلچر جڑیں پکڑ چکا ہے، اسے نیم دلانہ، مصلحانہ اور امتیازی احتساب سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ پانامہ لیکس کے حوالے سے ملک کے محترم لوگوں کی کرپشن کے حوالے سے جو انکشافات سامنے آئے ہیں، وہ ہماری اشرافیہ کی کرپشن کی محض ایک جھلک ہیں۔ چند آف شور کمپنیوں میں لگا ہوا سرمایہ اصل کھربوں کی کرپشن کا ایک معمولی حصہ ہی ہو سکتا ہے لیکن اگر ملک میں ''کوئی ایسی مخلص اور بااختیارطاقت'' موجود ہے جو صدق دل سے ملک سے اس لعنت کو ختم کرنا چاہتی ہے تو پانامہ لیکس کو نکتہ آغاز بنا سکتی ہے لیکن محسوس یہ ہو رہا ہے کہ ہمارے ملک میں ایسی کوئی طاقت موجود نہیں جو جرأت کے ساتھ ملکی جسم میں پھیلے ہوئے اس کینسر کی بے رحمانہ سرجری کرے۔

اس حوالے سے اس حقیقت سے باخبر ہونا ضروری ہے کہ کرپشن کا مطلب ایک مخصوص طبقے کے ہاتھوں میں ملکی دولت کا 80 فیصد جمع ہو جانا ہی نہیں ہے بلکہ اس ملک کے 20 کروڑ عوام کو غربت کی بھٹی میں جھونک دینا ہے۔ آج ہمارے ملک میں 50 فیصد سے زیادہ لوگ غربت کی لکیر کے نیچے جو المناک زندگی گزار رہے ہیں اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ ان کی رات دن کی محنت کی کمائی پر سیاسی قذاقوں نے قبضہ جما لیا ہے اگر عوام کی اس چوری کی ہوئی دولت کو بازیاب کرا لیا جائے تو اس ملک کے غریب عوام بھی خوشحال زندگی گزار سکتے ہیں۔

پانامہ لیکس کی تحقیق کے حوالے سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جو 'کھڑاک' چل رہا ہے، اس کے مثبت نتائج کی امید اس لیے نظر نہیں آتی کہ حکمران طبقات نے طاقت کے مراکز کو غیر جانبدار بنا دیا ہے۔ اس ملک میں 69 سال سے جو کرپشن ہو رہی ہے وہ حکومتوں کے زیرسایہ ہو رہی ہے جب حکمران طبقات کرپشن کی سرپرستی کرتے ہیں تو پھرکرپشن کی گیرائی گہرائی اور پھیلاؤ کا اندازہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

پانامہ لیکس کے حوالے سے حکومت کے خلاف جو اتحاد نظر آ رہا ہے، اس میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے سارے اتحادی جمہوریت کے عاشق نظر آ رہے ہیں اور بار بار اس اصطلاح کو دہرا رہے ہیں کہ احتساب ایسا ہو کہ عاشقان کی قسمت جمہوریت کے ساتھ وابستہ ہے جمہوریت ہی وہ برگد ہے جس کے سائے میں کرپشن پھل پھول رہی ہے، اگر خدانخواستہ جمہوریت کوکوئی خطرہ لاحق ہوا تو یہ خطرہ دراصل لوٹ مارکی آزادی کے لیے خطرہ بن جائے گا اور سرمایہ دارانہ مکروہ اور عوام دشمن اس نظام کے جسم میں کرپشن کی حیثیت سانس کی سی ہوتی ہے۔ چونکہ اس نظام میں اشرافیہ ہر حوالے سے اس قدر بااختیار ہوتی ہے کہ ریاستی طاقت، ریاستی وسائل اور ریاستی سرمائے کو جس طرح چاہے استعمال کر سکتے ہیں ، اس حقیقت کی روشنی میں کسی پھٹ پھٹی تحریک کا کامیاب ہونا ممکن نظر نہیں آتا۔

2014ء میں بھی یہی ڈراما رچایا گیا تھا لیکن یہ ڈراما اس لیے ناکام ہوا کہ اس میں عوام کو شامل نہیں کیا گیا۔ اس ڈرامے کو عوامی مسائل سے الگ کر کے محض ''گو نواز شریف گو'' تک محدود کر دیا گیا۔ پانامہ لیکس کے حوالے سے بھی 2014ء کے فارمولے کو ہی اپنایا جا رہا ہے پانامہ لیکس کو بھی ایک فرد یا ایک خاندان تک محدود کر دیا گیا ہے جب کہ ساری اشرافیائی کلاس اس گند میں گلے گلے تک دھنسی ہوئی ہے۔ حکومت کا یہ موقف خواہ وقتی مصالحت کا تقاضا ہی سہی درست ہے کہ احتساب ان تمام افراد کا ہونا چاہیے جنھوں نے عوام کی دولت کو باپ کی جاگیر سمجھ کر لوٹا ہے۔

پانامہ لیکس نے مٹھی بھر افراد کی آف شور کمپنیوں کو بے نقاب کیا ہے حالانکہ اشرافیہ کا ہر فرد کسی نہ کسی حوالے سے آف شور جیسی بے شمار کمپنیوں کا مالک ہے۔ آف شور کمپنیوں کا اسکینڈل دراصل لٹیری کلاس کی طرف سے عوام کی توجہ بٹانے کا باعث بن رہا ہے۔ ہماری اشرافیہ نے لوٹ مارکے اتنے بڑے بڑے ذرایع پیدا کر لیے ہیں کہ آف شور کمپنیاں ان کے سامنے کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتیں ، کرپشن کا اندازہ کرنا ہو تو ایک سابق وزیر پر لگائے جانے والے اس الزام سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس محترم سابق وزیر نے 462 ارب کی کرپشن کا ارتکاب کیا ہے یہ کوئی ہذیان نہیں بلکہ ایک ٹھوس حقیقت ہے اور اس حوالے سے عدالت میں کسی زیر سماعت ہے لیکن عوام یہ سمجھنے میں حق بجانب ہیں کہ جن ملزموں کو اہل سیاست بے گناہ قرار دے دیں کوئی قانون کوئی انصاف ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔

اس کے باوجودہم حکومت کے اس موقف کی حمایت کرتے ہیں کہ احتساب ہمہ گیر ہو ۔ موجودہ اور سابق حکمرانوں، ان کے خاندانوں کا بے رحمانہ احتساب ہو اور اس حوالے سے محض آف شور کمپنیوں کو محور نہ بنایا جائے بلکہ اشرافیہ کے ملک کے اندر اور ملک کے باہر اثاثوں کی غیر جانبدارانہ اور بلاامتیاز چھان بین کی جائے یہ کام نہ کوئی کمیٹی کر سکتی ہے نہ کمیشن۔ یہ کام ایک آزاد اور بااختیار عدالتی فورم ہی کر سکتا ہے جس کے کام میں کسی طرح کی دخل اندازی کو عوام اور ریاست کے خلاف جرم ڈکلیئر کیا جائے چونکہ وزیر اعظم ملک کا سربراہ اور ملک کی آن ہوتا ہے جب اس کے خاندان پر الزام لگ جائیں تو یقینا احتساب کی ابتدا اس خاندان سے ہی ہونی چاہیے۔

مقبول خبریں