کرپشن ختم نیلامی شروع
اس درجے کو ’’عین الیقین‘‘ کہا جاتا ہے، یقین کا تیسرا اور آخری درجہ حق الیقین ہوتا ہے
لاہور:
اب تک ہم اکثر سنی سنائی باتوں کو لے کر کالم لکھا کرتے تھے لیکن آج کا کالم مکمل طور پر ہماری اپنی ذاتی معلومات بلکہ حق الیقین پر مبنی ہے۔ علماء کے نزدیک یقین کے تین درجے ہیں۔ ایک یہ کہ آپ کہیں سے دھواں اٹھتا ہوا دیکھیں اور سمجھ لیں کہ وہاں آگ جل رہی ہے کیونکہ دھواں آگ ہی سے اٹھتا ہے اسے ''علم الیقین'' کا درجہ کہتے ہیں، دوسرا درجہ وہ ہے جب آپ اس آگ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔
اس درجے کو ''عین الیقین'' کہا جاتا ہے، یقین کا تیسرا اور آخری درجہ حق الیقین ہوتا ہے جب اس آگ میں ہاتھ ڈالیں یا اس پر کچھ پکائیں یا تپش محسوس کریں چنانچہ کرپشن کے خاتمے کے سلسلے میں ہمیں اب تک علم الیقین اور عین الیقین کے درجات حاصل تھے جب کہ اب حق الیقین حاصل ہو گیا ہے کہ واقعی کرپشن کا بالکل ہی خاتمہ ہو چکا ہے' اب کوئی اس کا نام تک نہیں لیتا۔ ہوا یوں کہ ہمارے چار بیٹے ہیں' تین تو برے بھلے کسی نہ کسی کام سے لگے ہوئے ہیں لیکن آخری چوتھے کو ہم نے انوائرمیٹنل سائنس میں ایم اے کرایا ہوا ہے اور چاہتے ہیں کہ کسی ملازمت پر لگوا دیں، بات ذاتی ہے لیکن موضوع بھی تو حق الیقین ہے یعنی
سنی سنائی بات نہیں یہ اپنے اوپر بیتی ہے
پھول نکلتے ہیں شعلوں سے ''چاہت'' آگ لگائے تو
اب پرابلم یہ ہے کہ خدا نے ہمیں ایسا مزاج دیا ہے کہ اہل حکم سے دوستی تو کیا اکثر ٹھنی رہتی ہے اس لیے نہ کسی بڑی توپ کے پاس جا سکتے ہیں نہ درخواست کر سکتے ہیں وہ بے چارہ خود ہی یہاں وہاں دوڑ پھر کر ملازمت ڈھونڈ رہا ہے جو ظاہر ہے کہ اسے نہ ملنی ہے اور نہ ملے گی، یہاں پر ایک اور چھوٹی سی شاخ بھی اس کہانی میں پھوٹتی ہے سول سروس میں ہمارا ایک ... یعنی اکلوتا دوست ہے حماد آغا اور شاید اسی لیے ابھی تک دوست ہے کہ وہ بھی اس مٹی کا بنا ہوا ہے جس سے ہمارا خمیر اٹھایا گیا ہے۔ ہم دونوں کے بارے میں صرف اتنا جان لینا کافی ہے کہ ہم نہایت ہی غلط وقت غلط سرزمین اور غلط لوگوں میں پیدا ہوئے ہیں، استاد عبداللہ جو پشتو کے بسید سرحد کہلاتے تھے اور بڑے شاعر تھے' ان کا ایک شعر جو انھوں نے اپنے لیے کہا ہے لیکن ہم دونوں بھی اسے استعمال کر سکتے ہیں، شعر یہ ہے کہ
شاہانو بہ د نوم د پارہ زان سرہ ساتلو
پیدا کہ عبداللہ پہ قدیمہ زمانہ کے
یعنی اگر عبداللہ کسی قدیم زمانے میں پیدا ہوتا تو بادشاہ لوگ اسے صرف نام ہی کی خاطر اپنے ساتھ رکھتے اور بڑی حد تک ٹھیک ہے عبداللہ استاد کو تو وہ اپنے ساتھ رکھ لیتے ہیں لیکن ہم دونوں کے دو امکانی بلکہ منطقی انجام ہو سکتے تھے یا تو وہ وہی عبداللہ استاد والا سلوک ہمارے ساتھ بھی کرتے اور قلم غلط چلانے کی پاداش میں ہمارا سر ہی قلم کر کے ہاتھ میں دے دیتے کہ اب لکھ، وہ کچھ عرصے پہلے صوبے کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری تھے چنانچہ انھوں نے ہمارے اس بیٹے کو کنٹریکٹ جاب پر انٹرن شپ کے لیے رکھ لیا تھا اور غالباً ان کا ارادہ تھا کہ کہیں پکی ملازمت میں بھی رکھ لیں گے اور یہی ارادہ ہی ساری مصیبت کی جڑ بن گیا بے چارے نے ہم کو ہاتھ دینا چاہا تھا اور خود پھسل گئے ان کو تو ہم نے بتایا نہیں ہے لیکن ہمیں پکا یقین ہے کہ یہ سارا کیا کرایہ ہماری جنم جنماتر کی ساتھی بدنصیبی کا ہے، ویسے ہمارا خیال ہے کہ اتنا عرصہ انھوں نے کسی کرسی پر نہیں گزارا جتنا او ایس ڈی کے طور پر گزارا ہے اور آج کل تو خیبر پختون خوا کی حکومت میں جو نیا پاکستان بنانے اور کرپشن ختم کرنے کے لیے ریس چل رہی ہے اس میں حماد آغا کا زندہ بچ جانا ہی معجزہ ہے اب وہ اپنے نئے ماحول یا یار دوستوں میں کہہ سکتے ہیں کہ
تم شہر سمجھتے ہو جس کو پوچھو نہ وہاں کیا حالت ہے
ہم بھی تو وہاں سے لوٹے ہیں بس شکر کرو لوٹ آئے ہیں
جہاں تک ہمیں علم ہے یہ ساجھے کی ہانڈی جو صوبے میں ''حکومت'' کی تہمت اپنے اوپر لگاتی ہے تقریباً ہر ہر سرکاری چوراہے پر پھوٹ چکی ہے اس کی دال جوتوں میں بانٹی جا چکی ہے لیکن کچھ ایسی ڈھیٹ مٹی کی بنی ہوئی ہے کہ مجال ہے جو خراش تک آئی ہو، جہاں تک اس میں پکنے والی کھچڑی کا تعلق بقول بھٹو صاحب دو بڑے بڑے آلو بھی ہیں اور دونوں ہی کے ساتھ چیف کا لاحقہ لگا ہوا ہے، اس پر شوہر اٹھا اور چولہے کے پاس اسے جاتا دیکھ کر دونوں بھی اس کے قریب آ گئیں' شوہر نے چولہے سے مٹھی بھر راکھ لی اور ہانڈی میں ڈال دی، بیویوں نے کہا یہ کیا کیا؟ بولا تم دونوں نے اس کا ذائقہ غارت کر دیا تو میں کیوں پیچھے رہوں میں نے بھی حشر نشر کر دیا، خیر یہ باتیں تو یونہی ہانڈی کا رنگ اور ذائقہ بگاڑنے کے لیے بیچ میں آ گئیں حماد آغا تو چلا گیا وہاں جہاں کا خمیر تھا یعنی او ایس ڈی ۔۔۔ حالانکہ ہم نے انھیں لاکھ بار سمجھایا ہے کہ ہاتھیوں کے منہ سے گنا مت چھینا کرو لیکن عادت اب اتنی پک چکی ہے کہ
آخری عمر میں کیا خاک ''مسلماں'' ہوں گے
لفظ مسلماں پر اچھا خاصا سٹریس ڈال کر پاکستانی بھی لگا دیجیے، اب اس اصل قصے کی طرف آتے ہیں۔ ہمارا وہ بیٹا آج کل ملازمت کی تلاش میں پھر رہا ہے اور یہ اسی کے ذریعے معلوم ہوا ہے کہ صوبے میں کرپشن بالکل ختم ہو چکی ہے کیونکہ اس کی جگہ نیلام گھر کھول لیا گیا ہے وہ تقریباً ہر شام ہمیں ایک نہ ایک خوش خبری لا کر سناتا ہے کہ فلاں محکمے میں فلاں پوسٹ ہے صرف سات لاکھ روپے میں یقینی طور پر مل سکتی ہے اب تک وہ نیلام گھر سے جتنی بھی خبریں لایا ہے وہ دس اور پانچ لاکھ کے درمیان گھوم رہی ہیں حالانکہ اسے اچھی طرح معلوم ہے کہ چیل کے گھونسلے میں ''ماس'' نہیں ملتا لیکن پھر بھی بچے نہ جانے والدین کو کیا سمجھتے ہیں... کہ ان سے توقعات رکھتے ہیں ... ہم نے اسے کہا ہوا ہے کہ کوئی ماڑی مٹی ملازمت ڈھونڈو جس کی بولی ایک دو لاکھ ہو تو ہم کچھ یہاں وہاں سے جمع کر کے دے دیں گے ویسے یہ ہم نے صرف اس سے نہیں کہا ہے بلکہ صلائے عام ہے یاران نیلام کنندگان کے لیے، اگر ایسی کوئی صورت کسی نے نکال دی اور کچھ رعایتی نرخوں پر ہمارا یہ کام کسی نے کر دیا تو ہم اس کے لیے عمر بھر دعاگو رہیں گے، اب کیا کیا جائے مجبوری ہے کرپشن تو ہے نہیں ورنہ ہم کسی کونے کھدرے میں کسی کے ہاتھ پاؤں جوڑ کر رعایتی پیکیج حاصل کر لیتے لیکن یہ تو کھلی کھلی نیلامی ہے ؎
اور جو بڑھ کے ہاتھ میں لے لے مینا اسی کی ہے